سنبھل تشدد کی جانچ کے لیےبنائے گئے تین رکنی عدالتی کمیشن کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ پتہ لگائے کہ یہ واقعہ اچانک پیش آیا تھا یا پہلے سے منصوبہ بند تھا، اور کیا اس کے پس پردہ کوئی مجرمانہ سازش تھی۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن کو یہ بھی پتہ لگانا تھا کہ یہ واقعہ کن وجوہات اور حالات میں پیش آیا۔
نومبر 2024 میں ہوئے سنبھل تشدد کے سلسلے میں اس وقت کے سی او انج چودھری اور کئی پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دینے والے سول جج آدتیہ سنگھ کو مقرر کیا گیا ہے۔
سنبھل تشدد کے دوران فائرنگ میں زخمی ہونے والے ایک نوجوان کے والد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چندوسی کی عدالت نے اس وقت کے سی او انج چودھری سمیت 12 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم، سنبھل پولیس نے اس حکم نامے کو’ غیر قانونی’ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔