ہمنتا بسوا شرما بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں، اسے وہ یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیتے ہیں کہ یہ مقامی اسامیا مسلمانوں کے خلاف نہیں صرف دراندازوں کے خلاف ہے۔ اگر مان بھی لیں کہ یہ مسلمان ٹھیٹ اسامیا نہیں ہیں، تو بھی ان کے خلاف تشدد کی ترغیب اور تشدد کی – کیا قانون اجازت دیتا ہے؟
ہمنتا بسوا شرما بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد کئی شدت پسند آر ایس ایس کارکنوں سے بھی زیادہ جارح اور مسلم مخالف ہو چلے ہیں۔ انہوں نے اپنے آئینی عہدے کا استعمال ہیٹ اسپیچ کے لیے کیا ہے۔
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھانے والے ویڈیو پر الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے شدید اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی پیغامات کے پس پردہ تشدد اور نفرت کو معمول بنانے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے سخت قانونی اور عدالتی کارروائی ضروری ہے۔
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو میں وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ بڑے پیمانے پر مذمت کے بعد اس ویڈیو کو ہٹا لیا گیا ہے۔ کانگریس قائدین نے ویڈیو کو ’آئین کے سینے پر گولی‘ قرار دیا ہے۔
سماجی کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے ‘میاں مسلم’ یعنی بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے بارے میں متنازعہ ریمارکس کے خلاف دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی۔ اس کے جواب میں شرما نے مندر کے خلاف سو مقدمہ درج کرانے کی بات کہی ہے۔ اس پرمندر نے کہا کہ ان دھمکیوں سے ان کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ پوری طاقت سے کام کرتے رہیں گے۔
بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے بارے میں متنازعہ ریمارکس پر سماجی کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ دریں اثنا، الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے کہا کہ شرما کے بیان شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش ہیں اور ہندوستان کے آئینی ڈھانچے کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا ہے کہ ‘غیر قانونی غیر ملکیوں کے بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے، یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے الیکشن کمیشن میں 5 لاکھ سے زیادہ شکایات درج کروائی ہیں، ورنہ یہ سب ‘سودیشی’ (شہری) بن جاتے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ میاں کمیونٹی کے لیے پریشانیاں پیدا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اور بی جے پی براہ راست میاں کمیونٹی کے خلاف ہیں۔