Avinash Das

پروپیگنڈہ نے ہمارے سنیما کو مسخ کر دیا ہے: اویناش داس

حال ہی میں آئی فلم ‘ان گلیوں میں’ کے ڈائریکٹر اویناش داس کے ساتھ دی وائر کی مدیر سیما چشتی کی بات چیت۔ لکھنؤ میں سیٹ یہ فلم ایک چھوٹے سے شہر میں بین المذاہب محبت کی باریکیوں کو تلاش کرتی ہے اور اس پر معاشرے کے ردعمل کے جوہر کو پیش کرتی ہے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے والی پروپیگنڈہ فلموں کے درمیان، داس کی یہ فلم تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح آئی ہے، جو ڈیجیٹل دور میں محبت، پہچان اور سماجی اصولوں پر ایک نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔

عرفان جانتے تھے انہیں ’اگلے کسی بھی اسٹاپ پر اترنا ہوگا…‘

سال 2018 میں نیورو اینڈوکرائن کینسر ہونے کے بعد عرفان خان کی صحت خراب ہوتی چلی گئی ۔علی سردار جعفری کے مشہور ٹی وی سیریل کہکشاں میں انقلابی شاعر مخدوم محی الدین کے رول کے لیے بھی عرفان خان کو یاد کیا جاتا ہے۔

عرفان خان کا خط اپنے مداحوں کے نام : مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

یہ تو معلوم تھا کہ درد ہوگا، لیکن ایسا درد؟ اب درد کی شدت سمجھ میں آ رہی ہے۔ کچھ بھی کام نہیں کر رہا ہے۔ نہ کوئی تسلی اور نہ کوئی دلاسہ۔ پوری کائنات اس درد کے پل میں سمٹ آئی تھی۔ درد خدا سے بھی بڑا اور عظیم محسوس ہوا۔

افرازالحق قتل معاملہ : بہت سے انسانی بم ہمارے درمیان گھوم رہے ہیں…

راجسمند قتل معاملے پر معروف صحافی رویش کمار ،ارملیش ،سماجی کارکن کویتا شری واستو اور فلم ڈائریکٹر اونیاش داس کے ردعمل نئی دہلی :رجستھان راجسمند میں نام نہا د لو جہاد کے نام پر مغربی بنگال کے مسلم مزدور کو انتہائی وحشیانہ اور بہیمانہ طریقے سے قتل کیے جانے […]

پنچ لیٹ میں پھر سے زندہ ہو گئے ہیں راج کپور

دھرکھیل، صلم، سلیما جیسے لفظ پتا نہیں ناظر ین کی گرفت میں آ پائیں‌گے یا نہیں لیکن وہ کہانی ہی کیا جس میں زبان سے لےکر پہناوےاوڑھاوے تک میں مقامیت اوراس کی  صداقت موجود نہ ہو۔ آپ بھول جائیے کہ گاؤں کے مہتو ٹولے کی بھری پوری معصومیت […]

انوراگ کی مکّا باز: عشق ہے پیارے کھیل نہیں ہے

 انوراگ کشیپ  مجھے اس لئے پسند ہیں کیوں کہ ان کی کہانیوں میں کبھی کوئی سیدھی لکیر نہیں ہوتی۔ کیا ‘مکّاباز’ایک لواسٹوری ہے؟یا پھر یہ شمالی ہندوستانی سماج کی دیواروں پر پتے ہوئے ذات برادری کےچونے کو انصاف کے پنچ (مُکّے)سے جھاڑنے کی کہانی ہے؟  یا یہ اسٹوری […]

پرکاش راج اس اندھیرے وقت میں امید کی جگمگاتی لو ہیں

ایسے میں پرکاش راج جیسے لوگوں کا سچ بولنا اور اپنے بولے ہوئے کو لےکر کھڑے رہنا ایک نظیر ہے۔ ایسی ہی نظیر کمل ہاسن نے بھی وقتاً فوقتاً پیش کی ہے۔ سماج میں اثرو رسوخ رکھنے والے لوگوں کو سچ بولنا چاہیے۔جس طرح ان کے فیشن کا اثر سماج پر ہوتا ہے، ان کی راست بیانی بھی اتنا ہی اثر رکھتی ہے۔دنکر کے لفظوں میں؛سمر شیش ہے نہیں پاپ کا بھاگی کیول ویاگھر ؛ جو تٹھستھ ہیں سمئے لکھے‌گا ان کے بھی اپرادھ