سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے روس سےہندوستان کو ہونے والی خام تیل کی درآمدات کی کمپنی وار تفصیلات عام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کمیشن نے وزارت پیٹرولیم کے تحت کام کرنے والے پیٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل (پی پی اے سی)کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اسے ’تجارتی طور پر خفیہ‘بتایا۔
مہاراشٹر میں ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی میں رکاوٹ آنے کے باعث پی ایم پوشن (مڈ ڈے میل) اسکیم متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف پرائمری ایجوکیشن نے بی پی سی ایل اور ایچ پی سی ایل سے سیلف ہیلپ گروپوں اور سنٹرل کچن کے لیے سلنڈروں کی ترجیحی فراہمی یقینی بنانے کی درخواست کی ہے،تاکہ طلبہ کے کھانے پر اثر نہ پڑے۔
حکومت نے پیٹرول میں 20 فیصد ایتھنول یعنی ای ٹوئنٹی پیٹرول کے پروموشن کے لیے ٹیکس دہندگان کا پیسہ خرچ کیا ہے یا نہیں – اس بارے میں آر ٹی آئی کے توسط سے جانکاری مانگی گئی، لیکن حکومت نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے ایک ہی طرح کے سوالوں کے مختلف جوابات دیے۔ جہاں بھارت پیٹرولیم اور ہندوستان پیٹرولیم نے ‘تجارتی رازداری’ کا حوالہ دیتے ہوئے معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا، وہیں انڈین آئل نے کہا کہ ‘مطلوبہ معلومات قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔’
وزارت خزانہ نے پارلیامنٹ کو بتایا کہ 2014 میں نریندر مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ڈس انویسٹمنٹ اور عوامی شعبے کی کمپنیوں کی اسٹریٹجک فروخت سے 4.04 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ اکٹھے کیے گئے ہیں۔سب سے زیادہ 1.07 لاکھ کروڑ روپے کی رقم 59 معاملوں میں فروخت کی پیشکش کے ذریعے اکٹھی کی گئی ہیں۔ اس کے بعد، ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ سے حصہ داری فروخت سے سرکاری خزانے کو کل 98949 کروڑ روپے ملے ہیں۔
اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا میں حکومت کی 75 فیصد حصےداری ہے، جس میں سے پانچ فیصد بیچنے کی اسکیم ہے۔ اس سے حکومت کو 1000 کروڑ روپے ملنے کا امکان ہے۔ اس سے پہلے دسمبر 2014 میں بھی مرکزی حکومت نے پانچ فیصد حصےداری بیچی تھی۔
وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ نمالی گڑھ ریفائنری کو بھارت پیٹرولیم کارپوریشن کے کنٹرول سے باہر کرکے حکومت پیٹرولیم کمپنی میں اپنی 53.29 فیصد حصےداری بیچےگی۔