ہمنتا بسوا شرما بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں، اسے وہ یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیتے ہیں کہ یہ مقامی اسامیا مسلمانوں کے خلاف نہیں صرف دراندازوں کے خلاف ہے۔ اگر مان بھی لیں کہ یہ مسلمان ٹھیٹ اسامیا نہیں ہیں، تو بھی ان کے خلاف تشدد کی ترغیب اور تشدد کی – کیا قانون اجازت دیتا ہے؟
ہمنتا بسوا شرما بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد کئی شدت پسند آر ایس ایس کارکنوں سے بھی زیادہ جارح اور مسلم مخالف ہو چلے ہیں۔ انہوں نے اپنے آئینی عہدے کا استعمال ہیٹ اسپیچ کے لیے کیا ہے۔
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھانے والے ویڈیو پر الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے شدید اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی پیغامات کے پس پردہ تشدد اور نفرت کو معمول بنانے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے سخت قانونی اور عدالتی کارروائی ضروری ہے۔
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو میں وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ بڑے پیمانے پر مذمت کے بعد اس ویڈیو کو ہٹا لیا گیا ہے۔ کانگریس قائدین نے ویڈیو کو ’آئین کے سینے پر گولی‘ قرار دیا ہے۔
دی کراس کرنٹ کے رپورٹر اور گوہاٹی پریس کلب کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری دلور حسین مجمدار کو 27 مارچ کی شام کو گوہاٹی پولیس نے ایک پرانے کیس میں ضمانت ملنے کے فوراً بعد دوبارہ گرفتار کر لیا۔ دریں اثنا، وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ حکومت حسین کو صحافی نہیں مانتی۔
آسام کوآپریٹو اپیکس بینک میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف احتجاج کی کوریج کرنے کے بعد صحافی دلور حسین مجمدار کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مذکورہ بینک کے ڈائریکٹر چیف منسٹر ہمنتا بسوا شرما ہیں اور چیئرمین بی جے پی ایم ایل اے بسواجیت پھوکن ہیں۔
اس معاملے میں گرفتار کیے گئے سولہ لوگوں میں سے چودہ کو نچلی عدالت اور گوہاٹی ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی ہے۔ کورٹ نے کہا کہ انہیں جیل میں رکھنے کے لیےکوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔