گزشتہ ماہ وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر نے کہا تھا کہ ہندوستانی پاسپورٹ کو شہریت ثابت کرنے والے دستاویز کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اب وزارت خارجہ نے منگل کے روز اپنے سابقہ رخ سے الگ اس بیان سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ ایک ایسا دستاویز ہے، جو ہندوستانی شہریوں کے ملک سے باہر جانے کے عمل کو منظم کرتا ہے۔
کم و بیش ایک دہائی پہلے تک سرکاری خدمات سب کے لیے یکساں طور پر دستیاب تھیں اور کسی کی شہریت پر سوال نہیں اٹھتا تھا۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو من مانےڈھنگ سے حق رائے دہی، سرکاری فلاحی اسکیموں کے فائدےحتیٰ کہ ڈومیسائل سے متعلق حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جب ہندوستانی بیرون ملک سفر کرتے ہیں تو پاسپورٹ ان کی قومیت کی تصدیق کرتا ہے، لیکن دراصل یہ ایک سفری دستاویز ہے شہریت کا دستاویز نہیں ہے۔ اس بیان کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ پھر شہریت کا ثبوت کون سا دستاویز ہے؟