ملک کے نوجوانوں میں نہ صرف وزیراعظم کے خلاف غصہ ہے بلکہ وہ عدلیہ کے ذریعہ حکومت کی کھلی طرفداری سے بھی مایوس ہیں۔ اور اب بات صرف کاکروچ پارٹی کا ساتھ دینے یا نہ دینے کی نہیں ہے۔ بات ملک کے مستقبل کی ہے جس سے مسلمانوں کا مفاد بھی اتنا ہی جڑا ہوا ہے جتنا دیگر برادران وطن کا۔ فیصلہ مشکل ہے لیکن زندہ قومیں مشکل وقت میں مشکل فیصلے لینے سے بھی نہیں گھبراتیں۔
سی جے آئی سوریہ کانت نے جمعہ کو سینئر وکیل کا درجہ دیے جانے کے مطالبے سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ معاشرے میں کچھ پیراسائٹ ہیں، جو سسٹم پر حملہ کرتے ہیں۔ انہیں روزگار نہیں ملتا اور پیشہ ورانہ زندگی میں کوئی جگہ نہیں ملتی۔ ان میں سے کچھ میڈیا اہلکار بن جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا پر سرگرم ہو جاتے ہیں، کچھ آر ٹی آئی کارکن بن جاتے ہیں اور پھر ہر کسی پر حملہ شروع کر دیتے ہیں۔
چند بڑی طاقتیں احساس دلانا چاہتی ہیں کہ عام انسانوں کی محنت اور کوشش انہی کی طرح حقیر ہیں۔ انہیں اندیشہ لگا رہتا ہے کہ اگر پیاسے انسان کو آبیاژوں سے بہلایا نہ گیا تو پیاس کی شدت صبرو تحمل کا بند توڑ سکتی ہے اور اگر بند ٹوٹا تو ان کے پاؤں کے نیچے سے پانی کھسک سکتا ہے۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے شاعر،ناقد اورمعروف فکشن نویس غضنفر کو۔
دی کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھسین کی طرف سےکشمیر میں صحافیوں کی صورتحال پرنیویارک ٹائمز میں لکھے گئے مضمون کو مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے ‘شاطرانہ اور فرضی پروپیگنڈہ’ قرار دیا تھا۔ بھسین نے کہا کہ وزیر کا ردعمل ان کے معروضات کو درست ثابت کرتا ہے۔
دستاویز کے مطابق، مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ہر خاندان کو سرکاری خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے ‘جموں کشمیر فیملی آئی ڈی’ کے نام سے ایک یونک الفا نیومیرک کوڈ (منفرد الفاعددی کوڈ) فراہم کیا جائے گا۔ یہ ہریانہ کے ‘فیملی آئی ڈی ایکٹ 2021’ کی طرز پر لاگو کیا جائے گا۔