Dalit

اتراکھنڈ: اشرافیہ  کے سامنے کھانا کھانے پر دلت کا قتل

اس معاملے میں اپنی جان گنوانے والےنو جوان کی بہن نے بتایا کہ ہم جس شادی میں گئے تھے، وہاں میرے بھائی نے اس کاؤنٹر سے کھانا لیا، جہاں اشرافیہ کھانا کھا رہے تھے۔ وہ ان کے سامنے ہی کرسی پر بیٹھ‌کر کھانا کھانے لگا، جس پر ان لوگوں نے کہا کہ یہ نیچ ذات کا ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھا سکتا۔ کھائے‌گا تو مرے‌گا۔

ماؤوادیوں سے تعلقات کے الزام میں گرفتار وکیل سدھا بھاردواج کو ملا ہارورڈ سے اعزاز

بھیما کورے گاؤں معاملے میں گرفتاری کے 7 مہینے بعد سدھا بھاردواج کو ہارورڈ لاء اسکول کی ایک پورٹریٹ ایکزبٹ میں جگہ ملی ہے۔کالج کے ذریعے یہ اعزاز دنیا بھر سے قانون کے شعبہ میں کار ہائے نمایاں انجام دینے  والی خواتین کو دیا جاتا ہے۔ نئی دہلی:وکیل […]

رام چندر گہا کا کالم: مارٹن لوتھر کنگ کے نام ایک دلت ہندوستانی کا خط

ہندوستان میں دلت طلبا کے لیے ریزرویشن کی سہولت ہے، لیکن جو ملک سے باہر پڑھائی کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے کوئی سہولت نہیں ہے۔ ہندوستانی سرکار ہر سال کچھ لوگوں کو پڑھائی کے لیے باہر بھیجتی ہے، لیکن اس میں پسماندہ طبقات کو کوئی خصوصی رعایت نہیں دی گئی ہے۔ اسکالرشپ عموماً سماج کے اونچے اور مالدار طبقے کے لوگ لے جاتے ہیں۔

ایمنسٹی انڈیا کی رپورٹ: اتر پردیش میں دلت اور مسلمانوں کے خلاف ہیٹ کرائم کے سب سے زیادہ معاملے

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انڈیا کے مطابق، ستمبر 2015 سے اب تک مبینہ طور پرہیٹ کرائم کے کل 721 معاملے سامنے آئے ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد دلتوں اور مسلمانوں کے خلاف ہوئے جرائم کی ہے۔

یورپ کے رکن پارلیامان نے حکومت ہند سے کہا، انسانی حقوق کے کارکنوں پر کارروائی بند کریں

20 ممبرآف پارلیامنٹ نے حکومت ہند اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کو خط لکھ‌کر انسانی حقوق اور سماجی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے خلاف لگے الزامات ہٹانے اور جیل میں بند لوگوں کو رہا کرنے کی درخواست کی ہے۔

اتر پردیش: اشرافیہ  نے نہیں نکلنے دی دلت کی بارات

متھرا کے نوہ جھیل تھانہ حلقہ کا معاملہ۔ دلہن کے رشتہ داروں کا الزام ہے کہ اتوار کو والمیکی کمیونٹی کی ایک لڑکی کی شادی تھی، جہاں بارات کو آنے سے روکا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ براہمنوں کے ذریعے معافی مانگنے کے بعد دونوں فریقوں کے بیچ سمجھوتہ ہو گیا ہے۔

آنند تیلتمبڑے کی حمایت میں آئے 600 غیر ملکی ماہر تعلیم، کہا-بند کی جائیں سبھی قانونی کارروائی

سماجی کارکن آنند تیلتمبڑے پر بھیما کورےگاؤں تشدد اور ماؤوادیوں سے مبینہ تعلقات کے الزامات کو امریکہ اور یورپ کے ماہر تعلیم نے قانون کا غلط استعمال بتاتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت پر سنگین حملہ ہے۔

عدالت نے آنند تیلتمبڑے کی گرفتاری کو غیر قانونی کہا، رہا کرنے کا حکم

پونے پولیس نے بھیما – کورے گاؤں تشدد اور ماؤوادیوں سے مبینہ تعلق رکھنے کے الزم میں سپریم کورٹ سے ملے عبوری تحفظ کے باوجود سنیچر کو سماجی کارکن اوراسکالر آنند تیلتمبڑے کو گرفتار کرلیا تھا۔

سپریم کورٹ کے ذریعے گرفتاری سے تحفظ کے باوجود آنند تیلتمبڑے گرفتار

بھیما-کورےگاؤں تشدد میں مبینہ کردار اور ماؤوادیوں سے مبینہ تعلقات کے معاملے میں سپریم کورٹ نے گزشتہ14 جنوری کو دلت اسکالر اور سماجی کارکن آنند تیلتمبڑے کی گرفتاری سے عبوری تحفظ کی مدت4 ہفتے اور بڑھا دی تھی۔

اتر پردیش: دلت نوجوان کی حراست میں موت، پولیس اہلکاروں پر معاملہ درج

یہ معاملہ اتر پردیش کے امروہہ کا ہے۔ مرنے والے کی بیوی نے الزام لگایا ہے کہ پولیس کی پٹائی سے شوہر کی موت ہوئی اور پولیس نے ان کو رہا کرنے کے لیے رشوت مانگی تھی۔ معاملے میں 11 پولیس اہلکار معطل کیے جا چکے ہیں۔

کانچہ ایلیا کا انٹرویو؛ یونیورسٹی کوئی مذہبی ادارہ نہیں، جہاں ایک ہی طرح کی مذہبی فکر پڑھائی جائے

انٹرویو: دہلی یونیورسٹی کے ایم اے کے نصاب سے مصنف اور مفکر کانچہ ایلیا شیفرڈ کی کتاب ہٹانے کی تجویز پر ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی الگ الگ خیالات کو پڑھانے، ان پر بحث کرنے کے لئے ہوتی ہیں، وہاں سو طرح کے خیالات پر بات ہونی چاہیے۔ یونیورسٹی کوئی مذہبی ادارہ نہیں ہیں، جہاں ایک ہی طرح کے مذہبی افکار پڑھائے جائیں۔

بھیما کورے گاؤں تشدد : سماجی کارکن اور وکیل سدھا بھاردواج کو پونے پولیس نے حراست میں لیا

پونے کی ایک عدالت نے گزشتہ جمعہ کو سدھا بھاردواج ، ورنان گونجالوس اور ارن فریرا کی ضمانت عرضی خارج کر دی ، جس کے بعد دیر شام ورنان گونجالوس اور ارن فریرا کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بھیما کورے گاؤں معاملہ: بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی مہاراشٹر حکومت

بھیما کورے گاؤں تشدد کی جانچ پوری کرنے کی مدت بڑھانے کو لے کر نچلی عدالت کے فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ نے رد کر دیا تھا ۔ معاملے میں گرفتار 5 میں سے 4سماجی کارکنوں کو نظر بند رکھا گیا ہے ۔ ایک سماجی کارکن گوتم نولکھا کی نظربندی ختم کردی گئی ہے۔

راجستھان ہائی کورٹ میں لگا منو کا مجسمہ ایک بار پھر تنازعے میں کیوں ہے؟

منو کے مجسمہ کو ہائی کورٹ کے احاطے سے ہٹانے کی عرضیاں سال 1989 سے زیر التوا ہیں، جن پر 2015 کے بعد سے سماعت نہیں ہوئی ہے۔ سوموار کو اورنگ آباد کی دو خواتین کے مجسمہ پر سیاہی پوتنے کے بعد معاملہ پھر گرما گیا ہے۔

بھیما کورے گاؤں معاملہ: سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی جانچ کی مانگ خارج کی

بھیما کورے گاؤں میں ہوئے تشدد کے معاملے میں ماؤوادیوں سے مبینہ تعلقات کو لے کر شاعر وراوراراؤ، وکیل سدھا بھاردواج ، سماجی کارکن ارون فریرا ، گوتم نولکھا اور ویرنان گونجالوس گزشتہ 29 اگست سے نظر بند ہیں۔

سماجی کارکنوں کی نظر بندی 19ستمبر تک برقرار،مرکز نے عدالت کی’دخل اندازی‘پر اٹھایا سوال

مرکزی حکومت نے عدالت کی دخل اندازی اور شنوائی کی مخالفت کی ہے ۔مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ نکسل ازم ایک سنگین مسئلہ ہے جو پورے ملک میں پھیل رہا ہے۔اگر اس طرح کی عرضی پر شنوائی ہوگی تو یہ ایک خطرناک مثال بن جائے گی ۔

سماجی کارکنوں کی گرفتاری : یہ غیراعلانیہ ایمرجنسی ہے، جو ایمرجنسی سے زیادہ خطرناک ہے

بھیما کورےگاؤں تشدد اور وزیر اعظم نریندر مودی کے قتل کی مبینہ سازش کے الزام میں سماجی کارکنوں کی گرفتاری کے بعد سے ایلگار پریشد چرچہ میں ہے۔ ایلگار پریشد کے ماؤوادی کنیکشن سمیت تمام دوسرے الزامات پر اس کے کنوینر اور بامبے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس بی جی کولسے پاٹل کا نظریہ۔

میڈیا بول : بھارت بند، کسان مزدور ریلی اور ہم جنسی کے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ

میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے ایس سی ایس ٹی قانون کے خلاف اشرافیہ تنظیموں کی طرف سے بلائے گئے بھارت بند ، گزشتہ ہفتہ کسان مزدوروں کی ریلی اور ہم جنسی کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ پر سینئر صحافی سیلیش اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر رتن لال سے ارملیش کی بات چیت۔

سدھا بھاردواج کی بیٹی کا خط ؛ مما سہی کہتی تھیں کہ’بیٹا میں نے پیسے نہیں کمائے لوگ کمائے ہیں‘

گزشتہ دنوں حقوق انسانی کی وکیل اور ٹریڈ یونین ایکٹیوسٹ سدھا بھاردواج کو پونے پولیس نے ماؤنوازوں سے تعلق رکھنے کے الزام میں ان کے گھر فریدآباد سے گرفتار کیا تھا ۔پڑھیے ان کی بیٹی مائشہ کا خط۔

جن گن من کی بات : میڈیا میں دلت لفظ کا استعمال اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ

جن گن من کی بات کے اس ایپی سوڈ میں سنیے مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے میڈیا میں دلت لفظ کا استعمال نہ کرنے کی گزارش اور مختلف حکومتی اداروں کی جانب سے سوشل میڈیا مانیٹرنگ پر ونود دوا کا تبصرہ۔

ارن دھتی رائے : میں بھی’اربن نکسل‘ہوں!

آج کے ہندوستان میں کسی اقلیتی گروپ میں ہونا ایک گناہ ہے۔ مار دیا جانا ایک جرم ہے۔ پیٹ پیٹ کر مار دیا جانا (لنچ کر دیا جانا) ایک جرم ہے۔ غریب ہونا جرم ہے۔ غریبوں کے حق میں کھڑا ہونے اور اس کی پیروی کرنے کا مطلب حکومت کا تختہ پلٹ کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔