فروری 2024 میں سپریم کورٹ کے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو ختم کرنے کے بعد پہلے مالی سال 2024-25 میں مرکز میں برسراقتدار بی جے پی نے اپنی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا ہے اور اپنے اہم حریف کانگریس سے 12 گنا زیادہ چندہ اکٹھا کیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو غیر آئینی قرار دینے کے بعد الیکٹورل ٹرسٹ کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو ملنے والا کارپوریٹ چندہ 2024-25 میں تین گنا بڑھ کر 3,811 کروڑ روپے پہنچ گیا ہے۔ نو الیکٹورل ٹرسٹوں نے مجموعی طور پر3,811.37 کروڑ کا چندہ دیا ہے، جس میں سے مرکز میں حکمراں بی جے پی کو3,112.50 کروڑ روپے ملے، جو کل چندے کا تقریباً 82 فیصد ہے۔
آر ٹی آئی کے تحت موصولہ جانکاری سے پتہ چلتا ہے کہ 15 فروری کو سپریم کورٹ کی جانب سے الیکٹورل بانڈ اسکیم پر روک لگانے کے ہفتہ عشرہ بعد 28 فروری کو وزارت خزانہ نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے بانڈ پرنٹنگ کو ‘فوراً روکنے’ کو کہا تھا۔
الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، بی جے پی نے 12 اپریل 2019 سے 24 جنوری 2024 کے درمیان کل 6060.5 کروڑ روپے کے الیکٹورل بانڈ کیش کرائے۔