electoral bond scheme

الیکٹورل بانڈ کے رد ہونے کے بعد بی جے پی کے چندے میں 50 فیصد کا اضافہ، جو کئی اپوزیشن جماعتوں کے کل چندے سے 4.5 گنا زیادہ

فروری 2024 میں سپریم کورٹ کے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو ختم کرنے کے بعد پہلے مالی سال 2024-25 میں مرکز میں برسراقتدار بی جے پی نے اپنی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا ہے اور اپنے اہم حریف کانگریس سے 12 گنا زیادہ چندہ اکٹھا کیا ہے۔

ٹرسٹوں کے ذریعے کارپوریٹ چندہ تین گنا بڑھ کر 3,811 کروڑ روپے پہنچا، 80 فیصد سے زیادہ بی جے پی کے حصے

سپریم کورٹ کی جانب سے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو غیر آئینی قرار دینے کے بعد الیکٹورل ٹرسٹ کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو  ملنے والا کارپوریٹ چندہ 2024-25 میں تین گنا بڑھ کر 3,811 کروڑ روپے پہنچ گیا ہے۔ نو الیکٹورل ٹرسٹوں نے مجموعی طور پر3,811.37 کروڑ کا چندہ دیا ہے، جس میں سے مرکز میں حکمراں بی جے پی کو3,112.50 کروڑ  روپے ملے، جو کل چندے کا تقریباً 82 فیصد ہے۔

عدالت کے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو رد کرنے سے 3 دن پہلے حکومت نے 10000 کروڑ روپے کے بانڈ پرنٹ کرنے کی منظوری دی

آر ٹی آئی کے تحت موصولہ جانکاری سے پتہ چلتا ہے کہ 15 فروری کو سپریم کورٹ کی جانب سے الیکٹورل بانڈ اسکیم پر روک لگانے کے ہفتہ عشرہ بعد 28 فروری کو وزارت خزانہ نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے بانڈ پرنٹنگ کو ‘فوراً روکنے’ کو کہا تھا۔