“energy policy India

جب پیٹرولیم کے وزیر کہہ رہے ہیں کہ سب کچھ نارمل ہے، تو وزیر اعظم متبادل توانائی کی تلاش پر زور کیوں دے رہے ہیں؟

مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان ایک طرف پیٹرولیم کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری  دعویٰ کر رہے ہیں کہ ملک میں توانائی کی کوئی کمی نہیں ہے، جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم متبادل توانائی کے ذرائع پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ کیا یہ محض احتیاطی تدبیر ہے یا پھر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے توانائی انحصار اور مستقبل کے ممکنہ بحران کی ایک واضح علامت؟

ایٹمی توانائی کے شعبے میں اڈانی گروپ کی انٹری، دسمبر میں مودی حکومت نے قانون بنا کر کھولا تھا نجی کمپنیوں کا راستہ

نجی کمپنیوں کے لیے ایٹمی توانائی کا شعبہ کھولنے والے مودی حکومت کے ’شانتی‘ ایکٹ کی منظوری کے صرف دو ماہ بعد ہی اڈانی گروپ نے اس سیکٹر میں انٹری کا اعلان کیا ہے۔ اڈانی پاور نے ’اڈانی اٹامک انرجی لمیٹڈ‘ کے نام سے ایک ذیلی کمپنی تشکیل دی ہے۔ اپوزیشن نے مذکورہ قانون کو اپنے ’پسندیدہ افراد کو فائدہ پہنچانے والا‘ بتایا ہے۔