خاص خبر

جب پیٹرولیم کے وزیر کہہ رہے ہیں کہ سب کچھ نارمل ہے، تو وزیر اعظم متبادل توانائی کی تلاش پر زور کیوں دے رہے ہیں؟

مغربی ایشیا کی کشیدگی کے درمیان ایک طرف پیٹرولیم کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری  دعویٰ کر رہے ہیں کہ ملک میں توانائی کی کوئی کمی نہیں ہے، جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم متبادل توانائی کے ذرائع پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ کیا یہ محض احتیاطی تدبیر ہے یا پھر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے توانائی انحصار اور مستقبل کے ممکنہ بحران کی ایک واضح علامت؟

تصویر بہ شکریہ: پی آئی بی

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز پر اس کے اثرات نے ہندوستان کے سامنے ایک مشکل سوال کھڑا کر دیا ہے، کیا واقعی ملک کے پاس خاطر خواہ توانائی موجود ہے، یا اب تک کم قیمتوں، متبادل خریداری اور سرکاری یقین دہانیوں کے ذریعے بحران کو ٹالا جا رہا ہے؟

ایک طرف پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری کہہ رہے ہیں کہ ملک میں خام تیل، پی این جی اور ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں، جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کابینہ کی میٹنگ میں متبادل توانائی کے ذرائع پر تیزی سے کام کرنے اور ایل پی جی کے متبادل کے طور پر بایو گیس کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

اسی دوران ڈپارٹمنٹ فار پروموشن آف انڈسٹری اینڈ انٹرنل ٹریڈ (ڈی پی آئی آئی ٹی) نے پیٹروکیمیکل صنعت سے 200 سے زائد انتہائی درآمدی انحصار والے مصنوعات کی گھریلو پیداوار کے امکانات پر فوری جواب طلب کیا ہے۔

اگر ان تمام واقعات کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو معاملہ صرف ایندھن کی فراہمی کا نہیں، بلکہ ہندوستان کے معاشی اور صنعتی ڈھانچے کی گہری درآمدی وابستگی کا ہے۔ بحران اس وقت صرف گیس سلنڈروں کی قطاروں یا تیل کی قیمتوں تک محدود نظر نہیں آتا، بلکہ اس پورے معاشی نظام پر سوال کھڑا کرتا ہے جس کی بنیاد بیرونی توانائی ذرائع پر قائم ہے۔

حکومت کہہ رہی ہے کہ کوئی کمی نہیں، لیکن اشارے کچھ اور ہیں

گزشتہ19 مئی کو پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ مغربی ایشیا کی جنگ کے 80 دن بعد بھی ہندوستان میں خام تیل، ایل پی جی اور پی این جی کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے بروقت فیصلے کیے اور صورتحال قابو میں ہے۔ انہوں نے وارانسی میں ایل پی جی کنکشن کو پی این جی میں تبدیل کرنے کی اسکیم کا بھی ذکر کیا۔

لیکن صرف دو دن بعد ہی وزیر اعظم نریندر مودی وزیروں سے کہہ رہے تھے کہ متبادل توانائی کے ذرائع پر فوری کام کرنا ہوگا اور ایل پی جی کے متبادل تلاش کرنے ہوں گے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات پر بات چیت ان کے حالیہ غیر ملکی دورے کے دوران بھی اہم موضوعات میں شامل تھی۔

اگر صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، تو پھر حکومت کے اندر توانائی کے متبادل ذرائع پر اس قدر فوری توجہ کیوں دی جا رہی ہے؟ یہی وہ تضاد ہے جو موجودہ صورتحال کو سنگین بناتا ہے۔

ہندوستان کا اصل مسئلہ تیل نہیں، بلکہ انحصار ہے

ہندوستان اپنے خام تیل کی ضروریات کا تقریباً 89 فیصد درآمد کرتا ہے۔ برسوں سے آبنائے ہرمز ہندوستان کے توانائی نظام کی شہ رگ بنی ہوئی ہے۔ دنیا میں تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

آؤٹ لک کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان دنیا میں ایل پی جی کا تیسرا سب سے بڑا صارف ہے، اور جنگ کے بعد ایل پی جی کی فراہمی میں تقریباً چار لاکھ بیرل یومیہ کی کمی درج کی گئی ہے۔ فروری میں ہندوستان تقریباً 8.5 لاکھ بیرل یومیہ ایل پی جی درآمد کر رہا تھا، جو اپریل تک گھٹ کر تقریباً 3.7 لاکھ بیرل رہ گئی۔

گھریلو پیداوار میں اضافہ ہوا، لیکن وہ کمی پوری نہ کر سکی۔

ہندوستان کے پاس خام تیل اور گیس کے لیے اسٹریٹجک ذخائر تو موجود ہیں، لیکن ایل پی جی کے لیے کوئی طویل مدتی اسٹریٹجک ریزرو موجود نہیں ہے۔ حکام کے مطابق، ملک کے پاس صرف تقریباً 45 دن کا’ رولنگ اسٹاک‘ہے۔

اس کے اثرات بازار میں نظر آنے لگے ہیں۔ گھریلو سلنڈروں کی قیمتیں بڑھ گئیں، فروخت کم ہو گئی اور کئی شہروں میں تجارتی سلنڈروں کی قیمت 3000 روپے سے تجاوز کر گئی۔

بحران صرف باورچی خانے تک محدود نہیں رہے گا

توانائی بحران کا ایک اور اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث پہلو پیٹروکیمیکل صنعت بھی ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ڈی پی آئی آئی ٹی نے صنعت سے فوری طور پر 200 سے زائد ایسی مصنوعات کی فہرست پر ردعمل طلب کیا ہے جن کے لیےہندوستان حد سے زیادہ درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

یہ ایسے کیمیکل اور مصنوعات ہیں جن کے نام شاید عام لوگوں کے لیے زیادہ مانوس نہ ہوں – پی وی سی، پولی پروپائلین، پولی کاربونیٹ، فاسفورک ایسڈ، امونیا، ٹولوئین وغیرہ۔

لیکن ان کے بغیر روزمرہ کی کئی چیزیں متاثر ہو سکتی ہیں؛

پیکیجنگ انڈسٹری

تعمیراتی شعبہ

آٹوموبائل صنعت

زراعت اور کھاد

ٹیکسٹائل انڈسٹری

طبی آلات

دوسرے لفظوں میں، اگر ان کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف پیٹرول پمپوں تک محدود نہیں رہے گا؛ گھر بنانے سے لے کر کھاد اور ادویات تک پوری سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔

سابق تجارتی افسر اجے سریواستو نےانڈین ایکسپریس کو بتایا کہ تقریباً 56 ارب ڈالر کی پیٹروکیمیکل درآمدات میں کئی ایسے شعبے ہیں جہاں ہندوستان کے پاس تقریباً کوئی مقامی پیداواری صلاحیت موجود نہیں۔

’میک ان انڈیاکے حدود

حکومت اب ان مصنوعات کی مقامی پیداوار بڑھانے کی بات کر رہی ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہاں بھی ایک ساختیاتی مسئلہ موجود ہے۔

کیمیکل سیکٹر کے ماہراجے جوشی نےانڈین ایکسپریس سے کہا؛

’آپ پیداوار کو مقامی نہیں بنا سکتے جب بنیادی خام مال ہی درآمد شدہ ہو۔ جن کیمیکلز کی پیداوار ہم بڑھانا چاہتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر آخرکار پیٹرولیم پر مبنی ہیں۔ ارادہ مضبوط ہے، لیکن بنیاد ادھار کی ہے۔‘

یعنی ہندوستان کارخانے تو لگا سکتا ہے، لیکن اگر پیداوار کے بنیادی اجزاء بیرون ملک سے آئیں گے تو بحران پھر بھی برقرار رہے گا۔

توانائی بحران صرف سپلائی کا بحران نہیں

حکومت فی الحال روس، امریکہ، آسٹریلیا، ارجنٹائنااور دیگر ممالک سے خریداری بڑھا کر صورتحال سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔امریکہ نے بھی ہندوستان کو مزید توانائی فروخت کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

لیکن اصل سوال اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔

اگر مغربی ایشیا کی ایک جنگ ہندوستان میں گیس سلنڈر، کیمیکل انڈسٹری، تعمیراتی شعبے اور کھاد کی فراہمی تک تشویش پیدا کر سکتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف ایندھن کا نہیں ہے۔

ہندوستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ اب بھی سمندری راستوں، بین الاقوامی قیمتوں اور جیو پولیٹیکل استحکام پر منحصر ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت ایک طرف یقین دہانی کرا رہی ہے کہ سب کچھ نارمل ہے، اور دوسری طرف متبادل توانائی، مقامی پیداوار اور خود کفالت پر غیر معمولی تیزی دکھا رہی ہے۔

کیونکہ توانائی کا بحران ہمیشہ پیٹرول پمپوں سے شروع نہیں ہوتا۔ کئی بار وہ خاموشی سے کسی بند آبی راستے سے شروع ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ پوری معیشت میں پھیل جاتا ہے۔