یہ خبر کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رفح دوبارہ کھل سکتا ہے، غزہ میں ایک نازک سی امید کی لہر پھیل گئی ہے۔ امن منصوبے کے حوالے سے فلسطینی علاقوں میں گہرے اور بجا شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک محتاط امید بھی موجود ہے۔
مؤخر روداد: غزہ ٹریبونل اپنی بنیاد میں ایک شہری عدالت ہے، جس کی بنیاد لندن میں 2024 کے آخر میں ڈالی گئی۔ جب ریاستیں خاموش رہیں، جب عالمی عدالتیں بے بس ہو گئیں، جب سلامتی کونسل کی میز پر بار بار ایک ہی ملک کا ویٹو ظلم کی سیاہی کو تحفظ دیتا رہا، تو انسانوں نے خود فیصلہ کیا کہ ضمیر کی عدالت قائم کی جائے۔
فلسطینی انتظار کررہے ہیں کہ کیا وہ دنیا کے دیگر خطوں کی طرح معمول کی زندگی بسر کرپائیں گے؟ جنگیں ملبہ چھوڑتی ہیں، اور گونج بھی۔جنگ بندیاں نہ ملبہ مٹاتی ہیں نہ گونج۔ ماہرین کہتے ہیں یہ امن نہیں، بلکہ ایک وقفہ ہے۔ مگر غزہ کے لیے وقفہ بھی زندگی ہے۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران غزہ پر جاری قتل عام نے جدید تاریخ میں انسانی تباہی کی ایسی مثال قائم کی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ہزاروں بچوں کی شہادت، براہِ راست نشر ہونے والے قتل عام، دنیا بھر میں سب سے زیادہ معذور بچوں کی تعداد اور اتنے صحافیوں کی ہلاکت کہ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم سمیت تمام جنگوں کا مجموعہ بھی اس کے برابر نہیں آتا۔
رفح کراسنگ سے ایک رپورٹ: غزہ اب صرف جنگ کا نہیں بلکہ بھوک کو ہتھیار بنانے کا معاملہ ہے۔ رفح کے گیٹ پر کھڑی خوراک انسانیت کے مردہ ضمیر پر نوحہ پڑھ رہی ہے۔ دنیا بھر کی طاقتیں، اقوام متحدہ کی قرار دادیں اور عالمی عدالتوں کے فیصلے اس بھوک کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
آج کا غزہ صرف بموں اور ناکہ بندیوں کی کہانی نہیں۔ یہ بھوک کی کہانی ہے۔ ایسی قحط سالی جو قحط یا آفت سے نہیں، بلکہ منصوبہ بند جبر سے پیدا کی گئی ہے۔ غزہ کے عوام کے پیٹ ہی خالی نہیں بلکہ دنیا کی روح بھی خالی ہو چکی ہے۔
ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی برسی کے موقع پر بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے کہا کہ ملک کے 81 کروڑ سے زیادہ غریبوں کو پیٹ پالنے کے لیے سرکاری اناج کا محتاج بنا دینے جیسی حالت نہ تو آزادی کا خواب تھا اور نہ ہی ان کے لیے فلاحی آئین بناتے ہوئے ڈاکٹر امبیڈکر نے یہ سوچا تھا، یہ صورتحال بہت افسوسناک ہے۔
سہارنپور میں خواتین کے انڈر 17 ریاستی سطح کے کبڈی ٹورنامنٹ کے دوران کھلاڑیوں کو ٹوائلٹ کے اندر رکھا ہوا کھانادیے جانے کاویڈیو سامناآیا ہے، جس کے بعد ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر کو معطل کردیا گیا ہے۔
یونیسیف نے ’دی اسٹیٹ آف دی ورلڈس چلڈرن 2019 ‘ نام کی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستان میں پانچ سال سے کم عمر کے ہر پانچویں بچے میں وٹامن اے کی کمی ہے، ہر تیسرے بچے میں سے ایک میں وٹامن بی 12 کی کمی ہے اور ہر پانچ میں سے دو بچے خون کی کمی کا شکار ہیں۔
جھارکھنڈ کے لاتیہار ضلع کے قبائلیوں کو انتیودیہ ان یوجنا اور سوشل سیکورٹی پنشن اسکیم کا فائدہ لینے میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔