ہمنتا بسوا شرما بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں، اسے وہ یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیتے ہیں کہ یہ مقامی اسامیا مسلمانوں کے خلاف نہیں صرف دراندازوں کے خلاف ہے۔ اگر مان بھی لیں کہ یہ مسلمان ٹھیٹ اسامیا نہیں ہیں، تو بھی ان کے خلاف تشدد کی ترغیب اور تشدد کی – کیا قانون اجازت دیتا ہے؟
ہمنتا بسوا شرما بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد کئی شدت پسند آر ایس ایس کارکنوں سے بھی زیادہ جارح اور مسلم مخالف ہو چلے ہیں۔ انہوں نے اپنے آئینی عہدے کا استعمال ہیٹ اسپیچ کے لیے کیا ہے۔
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھانے والے ویڈیو پر الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے شدید اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی پیغامات کے پس پردہ تشدد اور نفرت کو معمول بنانے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے سخت قانونی اور عدالتی کارروائی ضروری ہے۔
ایک ایوارڈ فنکشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس آف انڈیا یویو للت نے کہا کہ غیرجانبدارانہ تنقید ہر فرد اورصحافی کا حق ہے۔ مجھے حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات پر تبصرہ کرنے کا پورا حق ہے۔ اگر میں ایسا کرتا ہوں تو یہ سیڈیشن نہیں ہے۔
گزشتہ سال راجیہ سبھاکی رکنیت حاصل کرنے کے بعد سابق سی جےآئی رنجن گگوئی نے کہا تھا کہ پارلیامنٹ میں ان کی موجودگی مقننہ کے سامنےعدلیہ کے خیالات کو پیش کرنے کا موقع ہوگا، حالانکہ ریکارڈ دکھاتے ہیں کہ اس ایک سال میں وہ ایوان میں نہ کے برابر میں نظر آئے ہیں۔
آسام کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کےسینئررہنما ترون گگوئی کا کہنا ہے کہ ان کے ذرائع کے مطابق رنجن گگوئی کا نام اگلے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کےوزیر اعلیٰ کےعہدے کے امیدواروں کی فہرست میں ہیں۔ ریاست میں2021 میں انتخاب ہونے ہیں۔
لوک سبھا انتخابات کے دوران اس معاملہ کو لےکر ہو رہی سماعت کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی رہنمائی والی ایک بنچ نے ہی انتخابی بانڈ اسکیم پر روک لگانے سے منع کر دیا تھا۔
سابق سی جے آئی رنجن گگوئی کو صدر رام ناتھ کووند کے ذریعے راجیہ سبھا ممبر نامزدکئے جانے سے پہلے گزشتہ جنوری میں صدر نے ان کے بھائی ریٹائرڈائیرمارشل انجن گگوئی کونارتھ ایسٹرن کاؤنسل کا کل وقتی ممبر نامزد کیاتھا، جبکہ انہوں نے اس شعبے میں زیادہ عرصے تک کام نہیں کیا ہے۔
ملک کے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کئے جانے کولےکر انگریزی اخبار ’د ی ٹیلی گراف‘ نے 17 مارچ کو ایک خبر شائع کی تھی، جس کےعنوان میں صدر جمہوریہ کووند کا نام مبینہ طور پر طنزیہ انداز میں لکھا گیا تھا۔
ہندوستان کے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی پچھلے سال نومبر میں ریٹائر ہوئے تھے۔ ریٹائر ہونے سے پہلے انہوں نے ایودھیا معاملے پر فیصلہ سنایا تھا۔
سابق چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا نے کہا،’میں نہیں مانتا کہ ہندوستان میں اس کو جرم کے زمرے میں رکھا جانا چاہیے۔گاؤں میں،اس کی وجہ سے بد نظمی پھیل جائے گی۔‘