معید رشیدی کے اس شعری آئینے میں ان کے شاعرانہ وفور کے انعکاس کے ساتھ ساتھ ان کے وفورِ محبت کا عکس بھی جھلملا اٹھا ہے ۔نناوے صفحے کی اس کتاب میں لفظ ِ محبت کا استعمال31 مرتبہ ہوا ہے اور عشق کا لفظ 28 بار آیا ہے۔ کسی تحریر میں کوئی لفظ بار بار یوں ہی نہیں آتا۔اس لفظ کا معنوی دباؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ لفظ نوک ِ خامہ سے بار بار ٹپک پڑتا ہے۔
ردعمل:نعمان شوق کی آشو بیدہ غزلیں خاموشی کے خلاف احتجاج ہیں۔ ان غزلوں میں ایک ہمہ گیر اضطراب، کرب اور تہذیبی شکست و ریخت کا احساس گامزن ہے۔ یہ شاعری محض جذباتی رد عمل نہیں بلکہ اپنے عہد کی سیاسی ، سماجی اور اخلاقی صورتحال کا گہرا اور کربناک مشاہدہ ہے۔
جنگ، قتل عام، سیاسی جبر، ماب لنچنگ وغیرہ شاعری کے موضوعات کی فہرست سے خارج ہو گئے ہیں، لیکن میرے لیے ان موضوعات کو دانستہ نظر انداز کرنا گناہِ کبیرہ سے کم نہیں۔
مذہب، رنگ ونسل اور خون کے سوداگر زندگی کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟ اس نئے نظام میں اُن تہذیبی قدروں کے لیے جگہ نہیں ہے، جن کے سائے میں امن وعافیت کے خواب پلتے تھے، جن کی روشنی میں آرزو اور جستجو کے معرکے سَر ہوتے تھے۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے ممتاز شاعرہ ملکہ نسیم کو۔
میں اپنے عہد کے مسائل سے آنکھیں ملاکر بات کرتا ہوں۔ ان مسائل میں محبت بھی ہے اور نفرت بھی۔ مجھے یقین ہے کہ نفرت کا انجام محبت ہوگا۔ ہاں، موجودہ سیاست میں سچ بولنے والوں کے لیے جگہ نہیں ہے۔ مذہب کے نام پر مثبت سروکاروں کو رسوا کیا جارہا ہے۔ بھیڑ کسی کو بھی اپنا نوالہ بنالیتی ہے۔ اقلیت ہونا جیسے گالی ہو۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے نئی نسل کے شاعر اور تخلیق کار معید رشیدی کو۔
غزل گلوکار بھوپندر سنگھ کا ممبئی کے ایک اسپتال میں مشتبہ طور پرپیٹ کے کینسر اورکووڈ سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔ پانچ دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں انہوں نے ‘دل ڈھونڈتا ہے’، ‘نام گم جائے گا’، ‘تھوڑی سی زمین تھوڑا آسمان’، دو دیوانے شہر میں، کسی نظر کو تیرا انتظار، کسی کو مکمل جہاں، جیسے کئی مشہور نغموں اور کلام کو اپنی آواز دی۔
ہندی شاعری میں جب کچھ بڑے شاعروں کی دھوم مچی تھی،عدم گونڈوی اپنے سننے اور پڑھنے والوں کو گاؤں کی ان تنگ گلیوں میں لے گئے جہاں زندگی کااستحصال ہو رہا تھا۔
ویڈیو: ایک درجن سے زائد ہندی فلموں میں گیت لکھ چکے نغمہ نگار اور شاعر ڈاکٹر ساگر سے ان کے فلمی سفر اور نغمہ نگاری کے موضوع پر فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔
ویڈیو: معروف گلوکارہ اندرا نائیک سے ان کی غزل گائیکی ، اردو اور ہندوستانی فلموں میں شاعری کے زوال کے موضوع پر فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت ۔
سہیل کاکوروی کی تخلیقی تازہ کاری کا احساس ان اشعار کے انگریزی تراجم سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اردو محاوروں کو انگریزی میں منتقل کرنا بہت مشکل ہے کہ محاوروں کی جڑیں مقامی اور مذہبی اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔اسی طرح ہندی میں محض رسم الخط نہیں بدلا گیا ہے بلکہ مشکل اردو الفاظ کی فرہنگ بھی درج کی گئی ہے۔
یہ کتاب محض بیگم اخترکے سوانحی کوائف اور فنِ موسیقی پر ان کی ماہرانہ دسترس کے سپاٹ یا عالمانہ بیان تک خود کومحدود نہیں رکھتی بلکہ مرتب کے مطابق یہ ان کی گلوکاری، ان کے کردار اور ان کی زندگی سے متعلق بعض گم شدہ کڑیوں کو ایک مربوط اور کثیر حسی بیانیہ کے طور پر پیش کرتی ہے۔