ہندوستان جیسے معاشی طور پر غیر مساوی معاشرے میں جب ایثار و قربانی یا ترک آسائش کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ قربانی کون دے گا؟ وہ جو پہلے ہی راشن، کرایہ، فیس اور ای ایم آئی کے جال میں گرفتار ہے، یا وہ جو دولت کو کپڑے کی طرح زیب و تن کر سکتا ہے؟ یہاں سوال حسد کا نہیں، اخلاقی توازن کا ہے۔ اور یہ تعصب نہیں بلکہ عوامی انصاف کا سوال ہے۔
ردعمل:نعمان شوق کی آشو بیدہ غزلیں خاموشی کے خلاف احتجاج ہیں۔ ان غزلوں میں ایک ہمہ گیر اضطراب، کرب اور تہذیبی شکست و ریخت کا احساس گامزن ہے۔ یہ شاعری محض جذباتی رد عمل نہیں بلکہ اپنے عہد کی سیاسی ، سماجی اور اخلاقی صورتحال کا گہرا اور کربناک مشاہدہ ہے۔
جنگ، قتل عام، سیاسی جبر، ماب لنچنگ وغیرہ شاعری کے موضوعات کی فہرست سے خارج ہو گئے ہیں، لیکن میرے لیے ان موضوعات کو دانستہ نظر انداز کرنا گناہِ کبیرہ سے کم نہیں۔
ساہتیہ اکادمی نے ہندی میں ممتا کالیا، انگریزی میں نوتیج سرنا، اردو میں پرتپال سنگھ بیتاب اور پنجابی میں جیندرسمیت مجموعی طور پر 24 ہندوستانی زبانوں کے مصنفین کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔ اس باوقار انعام کے لیے اس بار آٹھ شعری مجموعوں، چار ناولوں، دو افسانوی مجموعوں، ایک ادبی تنقید، ایک خودنوشت اور دو یادداشتوں کے مجموعے کا انتخاب کیا گیا ہے۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر شیام لال شرما نے جموں کو علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جموں کوکشمیر سے الگ کر دیا جاتا ہے تو یہ خطہ معاشی، سماجی اور انتظامی طور پر خوشحال ہوگا۔ اس بیان پر ریاست کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ بی جے پی نے شرما کے بیان سے خود کو الگ کرلیا ہے۔
جسے پورا مہاراشٹردو بھائیوں کا ملن سمجھ رہا ہے، کیا یہ ادھو ٹھاکرے کے لیے ٹریپ ہے؟ راج ٹھاکرے بی جے پی کے قریب رہے ہیں۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ کیا بھائیوں کے ملن کی یہ کہانی بی جے پی نے لکھی ہے؟
میں ایک خوشحال ملک کا شہری ہوں اور معترف ہوں کہ یہ خوشحالی آپ کی بدولت ہے۔ آپ کے اقتدار سے پہلے یہ ملک دنیا کا سب سے غریب ملک تھا ۔لوگ زندہ درگور تھے۔ آپ نے ہمیں غربت ، جہالت اور ذلت کی دلدل سے آزاد کیا۔ میری طرح آپ کے لاکھوں پرستار ہیں۔ ایک اداکارہ تو آپ کی دیوانی ہے۔ اس نے بجا فرمایا ہے کہ ہم صحیح معنوں میں آپ کے اقتدار میں آنے کے بعد آزاد ہوئے ہیں ۔ آپ نے ہمیں آزادی، عزتِ نفس اور تاریخی افتخار سے آشنا کیا ہے۔
گزشتہ چھ دہائیوں سے ادبی دنیا میں فعال ونود کمار شکل یکم جنوری 1937 کو راج ناندگاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ کئی دہائیوں سے رائے پور میں مقیم ہیں۔ ان کا شمار ان معدودے چند ادیبوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے زبان کے نئے محاورے وضع کیے ہیں۔
آئی ٹی منسٹری اے آئی چیٹ باٹ گروک کے ہندی میں غیر مہذب زبان اور گالیوں کے استعمال کی تحقیقات کر رہی ہے۔ وزارت اس معاملے میں ایکس سے رابطے میں ہے اور اس کے پیچھے کی وجہ کے بارے میں ان سے بات کر رہی ہے۔
شعر کہنے کے شوق میں نئے لڑکے اور لڑکیوں نے اردو سیکھنا شروع کیا۔ بلکہ نئی اردو شاعری میں کئی اہم اور نمایاں نام توایسے ہیں جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔
تھیٹر، ٹیلی ویژن اور فلموں میں اداکاری کرنے والے وکرم گوکھلےنے کئی مراٹھی اور ہندی فلموں میں اپنی شناخت بنائی تھی۔ ان کی پردادی درگا بائی کامت ہندوستانی سنیما کی پہلی خاتون اداکارہ تھیں، جبکہ ان کی دادی کملا بائی گوکھلے ہندوستانی سنیما کی پہلی خاتون چائلڈ آرٹسٹ تھیں۔
پانڈے جی کو اس دیش کے ایک وچارک کے روپ میں دیکھاجاتاتھا۔انہیں سننے کے لیے جتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوجاتے تھے وہ بھی ایک واقعہ ہے۔ان کی تنقید میں جو شفافیت ہے وہی ا ن کی شخصیت کابھی حصہ ہے۔ وہ ہزاری پرساد دویدی اور نامور سنگھ کے بعد تیسرے ایسے نقاد ہیں جنہوں نے ہندی تنقید کو نظریاتی طورپر مستحکم کرنے میں اہم کردار اداکیا۔اور ہمیشہ تنقید کی بھاشا کاخیال رکھا۔
مینیجر پانڈے مارکسی نقاد کی حیثیت سے شہرت رکھتے تھے۔ وہ دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں پروفیسر رہنے کے علاوہ بریلی کالج اور جودھپور یونیورسٹی میں بھی درس و تدریس سے وابستہ رہے۔
ہندی اور اُردو کا جھگڑا ایک زمانے سے جاری ہے۔ مولوی عبدالحق صاحب، ڈاکٹر تارا چند جی اور مہاتما گاندھی اس جھگڑے کو سمجھتے ہیں لیکن میری سمجھ سے یہ ابھی تک بالاتر ہے۔ کوشش کے باوجود اس کا مطلب میرے ذہن میں نہیں آیا۔ ہندی کے حق میں ہندو کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ مسلمان اُردو کے تحفظ کے لئے کیوں بے قرار ہیں؟— زبان بنائی نہیں جاتی، خود بنتی ہے اور نہ انسانی کوششیں کسی زبان کو فنا کر سکتی ہیں۔ میں نے اس تازہ اور گرما گرم موضوع پر کچھ لکھنا چاہا تو ذیل کا مکالمہ تیار ہو گیا۔
موضوع کے لحاظ سے یہ ناول جوائنٹ فیملی سے نیوکلیر فیملی تک کے اذیت ناک سفر کی داستان ہے۔پورا ناول پڑھنے کے بعد قاری کے ذہن میں بظاہر بے ترتیب لیکن نہایت بامعنی اورموضوع سے متعلق مناظر رقص کرنے لگتے ہیں۔ قاری تسلیم کرلیتا ہے کہ ہر برائی میں ایک اچھائی پوشیدہ ہوتی ہے اور یہ کہ اذیتوں کے بطن سے ہی نعمتیں جنم لیتی ہیں۔
آج اُردوکے مایہ ناز شاعر فراق گورکھپوری کی سالگرہ ہے۔ دی وائر اُردو کے قارئین کے لیے ایکسپریس نیوز کے شکریے کے ساتھ فراق صاحب کا انٹرویو پیش کیا جارہا ہے ۔یہ انٹرویوان کے انتقال سے چند روز قبل ان کی رہائش گاہ پر کیا گیا تھا۔
امت شاہ جانتے ہیں کہ ہندی کو تمام ہندوستانیوں پر مسلط کرنے کا ان کا ارادہ کسی بھی طرح سےعملی نہیں ہے۔ لیکن اس سے ان کے پولرائزیشن کا ایجنڈہ تو پورا ہو ہی رہا ہے۔
حال ہی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ ہندی کو مقامی زبانوں کے نہیں بلکہ انگریزی کے متبادل کے طور پر قبول کیا جانا چاہیے۔ تمل ناڈو بی جے پی کے چیف کے اناملائی نے کہا کہ ان کی پارٹی تمل ناڈو کے لوگوں پر ہندی تھوپے جانے کو نہ تو قبول کرے گی اور نہ ہی اس کی اجازت دے گی۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ تمام شمال-مشرقی ریاستوں نے دسویں جماعت تک ہندی کو لازمی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان سنوجم شیام چرن سنگھ کو اس کی تنقید پر شکایت درج کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ دوسری طرف آٹھ طلبہ اکائیوں کی تنظیم دی نارتھ ایسٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ ہندی کو لازمی قرار دینا شمال-مشرق کی مادری زبانوں کے لیے نقصاندہ ہوگا اور اس سےہم آہنگی کی فضا خراب ہوگی۔
سرکاری زبان سےمتعلق پارلیامانی کمیٹی کے 37ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ہندی کو مقامی زبانوں کے نہیں بلکہ انگریزی کے متبادل کے طور پر قبول کیا جانا چاہیے۔ وقت آ گیا ہے کہ سرکاری زبان ہندی کو ملک کی یکجہتی کا اہم حصہ بنایا جائے۔
دو تین سال کے تھے جب کسی بیماری میں ان کی آنکھیں چلی گئیں۔پی ایچ ڈی میں انھوں نے ہندوستان اور افریقی مملک میں نابینا افراد کے حالات، مسائل اور حکومتی سہولیات اور قانونی تحفظات وغیرہ کا تقابلی مطالعہ کیا تھا۔ اس تحقیق نے انھیں ہندوستان میں نابینا افراد کی محرومیوں اور مسائل کا ماہر محقق بنا دیا اور بعد میں اپنی زندگی کا ایک حصہ انھوں نے نابینا افراد کو حقوق دلوانے اور قانون بنوانے کی جدوجہد میں صرف کیا۔
ویڈیو: نوجوان فکشن نویس اور شاعرہ انوشکتی سنگھ کا پہلا ناول‘شرمشٹھا’گزشتہ دنوں منظر عام پرآیا ہے۔ اس ناول کے تناظرمیں ان سے اسطوری اور دیومالائی کرداروں میں عورت کی موجودگی، سنگل مدر کی جدوجہد، عورت مرد کی مبینہ جائز اور ناجائزمحبت اور اس کے بعض دوسرے مندرجات پر فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔
ویڈیو: اودھی گائیکی کی لوک روایت ، برہا، اس کی جدید صورت، سماجی اور سیاسی سروکار پر نوجوان شاعر اور ادیب ڈاکٹر برجیش یادو سے فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔
گریراج کشور کا‘پہلا گرمٹیا’ناول مہاتما گاندھی کی افریقہ میں رہائش پر مبنی تھا، جس نے ان کو خاص پہچان دلائی۔
اپنی تخلیقات میں لسانی رویوں کے لئے مشہور سینئر ادیب کرشن بلدیو وید کا امریکہ کے نیویارک میں جمعرات کو انتقال ہو گیا۔ ہارورڈیونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے وید جدید نثری ادب کے اہم قلمکاروں میں تھے۔
اداکار ہونے کے علاوہ ٹرینڈ ای این ٹی سرجن شری رام لاگو نے وجئے تندولکر وجئے مہتہ اور اروند دیش پانڈے کے ساتھ آزادی کے بعد مہاراشٹر رنگ منچ کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔
ویڈیو: صوفی کتھک رقاصہ منجری چترویدی سے کتھک، صوفی کتھک اور ان کے تخلیقی سفر پر فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔
کیمپوں میں ایک ساتھ رہنے سے افغانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی کے لئے اردو خود بخود مُشترکہ زبان بَن گئی ہے۔ دراصل جِن کی مادری زبان اردو نہیں ہے، وہ سب کسی نہ کسی طرح اردو یا ہندی سےوابستہ ہیں۔ شمالی پاکستان اور پنجاب کے علاقوں میں اردو اگر ٹی وی چینلوں یا ریڈیو یا درسگاہوں میں غالب ہے تو افغانستان اور بنگلہ دیش میں بالی ووڈکی ہندی فلمیں یا انڈین ڈرامے کافی مقبول ہیں۔
مانا جاتا ہے کہ جب بھی این ڈی اے اقتدار میں آتی ہے، اس کی ڈور آر ایس ایس کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ لیکن 2019 کی وجئے دشمی کی تقریرکے زیادہ تر حصے میں سنگھ چیف موہن بھاگوت کا مودی حکومت کے بچاؤ میں بولنا ان کے گھٹتے قدکی طرف اشارہ کرتا ہے۔
آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا کہنا ہے کہ سنگھ کا نام لےکر،ہندوؤں کا نام لےکر ایک سازش چل رہی ہے، یہ سب کو سمجھنا چاہیے۔ لنچنگ کبھی ہمارے ملک میں رہا نہیں، آج بھی نہیں ہے۔
ویڈیو: یوم ہندی کے موقع پر وزیر داخلہ امت شاہ نے ہندی کو قومی زبان بنانے کی اپیل کی تھی ۔ میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں اسی مدعے پر سینئر صحافی براج سوین ، دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند اور صحافی راہل دیو کے ساتھ ارملیش کی بات چیت۔
یوم ہندی کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ کئی زبانیں اور بولیاں ہمارے ملک کی سب سے بڑی طاقت ہیں، لیکن ضرورت ہےکہ ملک کی ایک زبان ہو، جس کی وجہ سے غیر ملکی زبانوں کو جگہ نہ ملے۔
ویڈیو: ایک درجن سے زائد ہندی فلموں میں گیت لکھ چکے نغمہ نگار اور شاعر ڈاکٹر ساگر سے ان کے فلمی سفر اور نغمہ نگاری کے موضوع پر فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔
ویڈیو: اردو میں عورتوں نے الگ الگ وقتوں میں پدری ثقافت اور سماجی روایتوں کے بیچ اپنی خود نوشت میں کیا لکھا، کن چیزوں پر سوال کیا اور وہ اپنی نظر سے کیسے دیکھتی ہے،بتا رہی ہیں یاسمین رشیدی۔
نئی اسکیم کے تحت ایسے مقامات پر اردو اساتذہ کی بھی تقرری کی جائے گی،جہاں کی 25 فیصدی سے زیادہ آبادی اردو بولتی ہے۔حالانکہ ،ملک میں ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کو مضبوط بنانے کے لیے شروع کی گئی اسکیم کے لیے اس سال بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ ہندی کے علاوہ جن زبانوں میں اپنے فیصلوں کا ترجمہ دستیاب کرائےگا ان میں آسامی، کنڑ، مراٹھی، اڑیہ اور تیلگو شامل ہیں۔
ویڈیو: ہندی کی معروف ادیبہ اور قلمکار ممتا کالیا سے ریتو تومر کی بات چیت۔
ویڈیو: معروف گلوکارہ اندرا نائیک سے ان کی غزل گائیکی ، اردو اور ہندوستانی فلموں میں شاعری کے زوال کے موضوع پر فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت ۔
سہیل کاکوروی کی تخلیقی تازہ کاری کا احساس ان اشعار کے انگریزی تراجم سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اردو محاوروں کو انگریزی میں منتقل کرنا بہت مشکل ہے کہ محاوروں کی جڑیں مقامی اور مذہبی اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔اسی طرح ہندی میں محض رسم الخط نہیں بدلا گیا ہے بلکہ مشکل اردو الفاظ کی فرہنگ بھی درج کی گئی ہے۔
ہندی کے معروف ادیب اور فکشن نویس عبدل بسم اللہ سے ان کے تازہ ترین ناول – کٹھاؤں کے تناظر میں ہندوستانی مسلمانوں میں ذات پات کے موضوع پر فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت۔