HPCL

روسی تیل کی درآمد کا ڈیٹا ’خفیہ‘، آر ٹی آئی کے تحت نہیں دیاجا سکتا: سی آئی سی

سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے روس سےہندوستان کو ہونے والی خام تیل کی درآمدات کی کمپنی وار تفصیلات عام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کمیشن نے وزارت پیٹرولیم کے تحت کام کرنے والے پیٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل (پی پی اے سی)کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اسے ’تجارتی طور پر خفیہ‘بتایا۔

ایل پی جی کی کمی سے مہاراشٹر میں پی ایم پوشن اسکیم پر بحران، ریاست نے تیل کمپنیوں کو لکھا خط

مہاراشٹر میں ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی میں رکاوٹ آنے کے باعث پی ایم پوشن (مڈ ڈے میل) اسکیم متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف پرائمری ایجوکیشن نے بی پی سی ایل اور ایچ پی سی ایل سے سیلف ہیلپ گروپوں اور سنٹرل کچن کے لیے سلنڈروں کی ترجیحی فراہمی یقینی بنانے کی درخواست کی ہے،تاکہ طلبہ کے کھانے پر اثر نہ پڑے۔

ایتھنول ملے پیٹرول کے پروموشن کے لیے انفلوئنسرز پر کتنا خرچ کیا گیا، حکومت نے نہیں دی جانکاری

حکومت نے پیٹرول میں 20 فیصد ایتھنول یعنی ای ٹوئنٹی پیٹرول کے پروموشن کے لیے ٹیکس دہندگان کا پیسہ خرچ کیا ہے یا نہیں – اس بارے میں آر ٹی آئی کے توسط سے جانکاری مانگی گئی، لیکن حکومت نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے ایک ہی طرح کے سوالوں کے مختلف جوابات دیے۔ جہاں بھارت پیٹرولیم اور ہندوستان پیٹرولیم نے ‘تجارتی رازداری’ کا حوالہ دیتے ہوئے معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا، وہیں انڈین آئل نے کہا کہ ‘مطلوبہ معلومات قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔’

مودی کے قریبی نکھل مرچنٹ کے بارے میں کوئی بات کیوں نہیں کرتا؟

جہاں باقی کارپوریٹ کھلاڑی صرف سرخیوں میں رہتے ہیں ،وہیں صحیح معنوں میں اچھے دن ایک انام سی فرم سوان انرجی کے پروموٹر کے آئے ہیں ۔جن کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے پبلک سیکٹر کی کمپنیاں کھڑی ہیں۔ نئی دہلی : نریندرمودی کے ہندوستان کے سب سے […]