امریکی حکومت کی جانب سے ہندوستان کو روسی تیل خریدنے کے لیے 30 دنوں کی چھوٹ دینے کے اعلان کے بعد اپوزیشن نے پوچھا کہ کیا نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ایک خودمختار ملک ہے یا امریکہ پر ’منحصر ریاست‘ بن گیا ہے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی ٹرمپ کے سامنے جھک گئے ہیں اور ملکی مفادات کو امریکی مفادات کے سامنے رہن رکھ دیا ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے عالمی توانائی کی فراہمی پر بڑھتے دباؤ کے درمیان امریکہ نے ہندوستان کو 30 دنوں تک روسی تیل خریدنے کی عارضی اجازت دی ہے۔ یہ چھوٹ صرف ان کھیپوں پر لاگو ہوگی جو پہلے سےسمندر میں ہیں۔ آبنائے ہرمز (سمندری راستہ) سے سپلائی متاثر ہونے کی وجہ سے امریکہ کو یہ قدم اٹھانا پڑا ہے۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ اور آبنائے ہرمز (سمندری راستہ) میں غیر یقینی صورتحال کے بیچ توانائی سلامتی کے حوالے سے ہندوستان کے خدشات گہرے ہو گئے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور درآمدی انحصار کے درمیان پیٹرولیم وزیر کی خاموشی کئی سوال کھڑے کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ، حکومت کی تیاریوں اور متبادل پر بحث تیز ہو گئی ہے۔