ہندوستانی جج نے اسرائیل کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا
جسٹس مرلی دھر نے اسرائیل کے خلاف ایک ایسی واٹر ٹائٹ چارج شیٹ دنیا کی عدالت میں پیش کر دی ہے، جس پر تاریخ کے منصف جب بھی قلم اٹھائیں گے، صہیونی ریاست کو مجرموں کے کٹہرے میں ہی کھڑا پائیں گے۔
جسٹس مرلی دھر نے اسرائیل کے خلاف ایک ایسی واٹر ٹائٹ چارج شیٹ دنیا کی عدالت میں پیش کر دی ہے، جس پر تاریخ کے منصف جب بھی قلم اٹھائیں گے، صہیونی ریاست کو مجرموں کے کٹہرے میں ہی کھڑا پائیں گے۔
اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی 94 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق، جنگ کے ابتدائی دو برسوں میں غزہ میں کم از کم 20,179 بچے ہلاک ہوئے اور 44,143 زخمی ہوئے، جو مجموعی اموات کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ہلاکتوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ مانا جا رہا ہے کہ ہزاروں بچے اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی اور ہندوستانی فلمساز، صحافی، ماہرین تعلیم اور کارکنوں نے ایک خط میں ہندوستان کے سینٹرل فلم سرٹیفیکیشن بورڈ کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی کو جائز ٹھہرانے کے لیے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کا حوالہ دینے کی سخت مذمت کی ہے۔ خط میں ہندوستان اور اسرائیل میں تکثیریت، جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کو بنائے رکھنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
سی بی ایف سی کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘پر مبینہ زبانی روک لگائے جانے کے معاملے پر اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ نے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو کو خط لکھ کر اس پابندی پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہ فلم ایک حقیقی واقعہ پر مبنی ہے، جس میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران ایک کار میں پھنسی پانچ سالہ فلسطینی بچی کی موت ہو گئی تھی۔
غزہ کے مکینوں کو راحت کی چند سانسیں لینے کا موقع ملا ہے۔ مگر کب تک؟ جب تک فلسطین کے مسئلہ کا کوئی پائیدار حل عمل میں نہیں لایا جائےگا، تب تک جنگ بندی عارضی ہی رہےگی۔ پائیدار حل ہی میں اسرائیل کی سلامتی بھی ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ نے ایک بار پھر خطے میں تنازعات کے اہم ثالث کے طور پر قطر کا دوبارہ ابھرنا دیکھا ہے۔ گزشتہ ہفتے قطر نے حماس سے دو امریکی یرغمالیوں کی رہائی میں امریکہ کی مدد کی تھی اور امید کی جارہی ہے کہ اس تنازعہ کو ختم کرانے میں بھی قطر کوئی ممکنہ کردار ادا کرسکتا ہے۔
مودی کی طرح نتین ہاہو بھی غیر روایتی اور خطرات مول لینے والے سیاستدان ہیں۔جس طرح انتہا پسند ہندوؤں کو مودی کی شکل میں اپنا نجات دہندہ نظر آتا ہے، اسی طرح یہودی انتہا پسندو ں کے لیے بھی نتین یاہو ایک عطیہ ہیں۔حالاں کہ اسرائیل کی فوج اور دنیا بھر کے یہودیوں نے جس طرح نتین یاہو کے پلان کے مضمرات کا ایک معروضی انداز میں جائزہ لیا ہے، وہ دنیا کی سب سے بڑی کہلانے والی جمہوریت،ہندوستان کے لیے ایک سبق ہے، جہاں کے اداروں کے لیے کشمیر ی عوام کے حقوق سلب کرنا اور پاکستان کے ساتھ دشمنی حب الوطنی کاپہلا اور آخری ذریعہ بنا ہوا ہے
صدر ٹرمپ کی اس خود ساختہ ڈیل آف سنچری نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ کمزور اور طاقت ور کے درمیان کوئی معاہدہ ہو ہی نہیں سکتا۔