نومبر 2024 میں ہوئے سنبھل تشدد کے سلسلے میں اس وقت کے سی او انج چودھری اور کئی پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دینے والے سول جج آدتیہ سنگھ کو مقرر کیا گیا ہے۔
سنبھل تشدد کے دوران فائرنگ میں زخمی ہونے والے ایک نوجوان کے والد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چندوسی کی عدالت نے اس وقت کے سی او انج چودھری سمیت 12 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم، سنبھل پولیس نے اس حکم نامے کو’ غیر قانونی’ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فسادات اور دہشت سے گزرنے کے بعد سنبھل کو ایک نئے مسئلے کا سامنا ہے – ایک کنویں کو لےکرقانونی لڑائی۔ انتظامیہ شاہی جامع مسجد سے ملحقہ کنویں پر اپنا دعویٰ کر رہی ہے، جبکہ مسجد کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ کنواں ان کے احاطے کا حصہ ہے اور اس کا پانی مسجد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
اے ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کو سفیدی کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، اب ہائی کورٹ میں اس نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا کہ وہ مسجد کے بیرونی حصے کی سفیدی سے انکار کیوں کر رہا ہے، جبکہ تصویروں سے واضح ہے کہ اسے سفیدی کی ضرورت ہے۔
جامع مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے جمعرات کو مرکزی دروازوں پر لگائے گئے نوٹس میں کہا گیا تھاکہ مسجد میں لڑکیوں کا اکیلے یا گروپ میں داخلہ ممنوع ہے۔ اس فیصلے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے بتایا کہ لیفٹیننٹ گورنر سے بات چیت کے بعد اسے واپس لے لیا گیا ہے۔
مختلف شہروں میں دو کمیونٹی کے بیچ حالیہ تشدد پر قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اقبال سنگھ لال پورہ نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے، بلکہ کچھ لوگ ملک میں امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی نشاندہی کی جانی چاہیے اور ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ تاہم، انہوں نے پنجاب کے پٹیالہ میں گزشتہ دنوں ہوئے پرتشدد جھڑپوں پر کہا کہ ریاستی حکومت اسے روک سکتی تھی۔
شمالی ممبئی کے مالوانی علاقے میں رام نومی کے جلوس کے دوران گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کے الزام میں بی جے پی لیڈر تیجندر تیوانہ، ونود شیلار اور بجرنگ دل کے عہدیداروں سمیت 20 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مانخورد علاقے میں اسی دن پیش آئے تشدد میں ملوث ہونے کے الزام میں سات افراد کو گرفتار کیا گیا اور چار دیگر کو حراست میں لیا گیا۔
ویڈیو: ایشیا کی سب سے بڑی مسجدوں میں سے ایک دہلی کی جامع مسجد خستہ حال ہے۔تاریخ داں سہیل ہاشمی کےمطابق،مسجد کےشاہی امام ہرممکن طریقے سے اس کی مرمت کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بارے میں دی وائر نےآرکیالوجیکل سروے آف انڈیاسے بات کی،جو ملک میں ثقافتی اور تاریخی یادگاروں کے تحفظ کے لیے ذمہ دار سرکاری ایجنسی ہے۔
پولیس نے اس معاملے میں دعویٰ کیا ہے کہ ویڈیو میں نظر آرہا ہے کہ جلوس میں شامل لوگ صرف جئے شری رام کے نعرے لگا رہے تھے وہ تشدد میں شامل نہیں تھے ۔