Jammu and Kashmir Police

فلسطینی پرچم چھپا ہوا ہیلمٹ پہننے پر کشمیری کرکٹر سے پولیس کی پوچھ گچھ

جموں و کشمیر میں منعقد ایک مقامی کرکٹ ٹورنامنٹ میں فلسطینی پرچم چھپا ہوا ہیلمٹ پہن کر کھیلنے کے لیے جنوبی کشمیر کےکرکٹر فرقان بھٹ سے پولیس نے پوچھ گچھ کی ہے۔ ٹورنامنٹ آرگنائزر کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ ریاست میں حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اس کارروائی کی مذمت کی ہے جبکہ بی جے پی نے کرکٹر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے

کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ صرف ایک اور آزادیِ صحافت کو خوف زدہ کرنے کی کوشش نہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جب ایک ایسا اخبار، جو دہائیوں سے کشمیر کی سیاسی اتھل پتھل، انسانی تکالیف اور حکمتِ عملی کے مباحث کو دستاویزی شکل دیتا آیا ہے، اچانک کمزور حالت میں دھکیل دیا جائے تو کیا کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔

جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ، مدیران نے کہا – آزاد میڈیا کو چپ کرانے کی کوشش

جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے)  نے جمعرات کو جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ اخبار کے مالکان نے اس چھاپے ماری  کو آزاد میڈیا کو چپ کرانے  کی کوشش قرار دیا ہے۔

دہشت گردی کی وجہ سے 90 کی دہائی میں 64827 کشمیری پنڈت خاندان نقل مکانی کو مجبور ہوئے : وزارت داخلہ

وزارت داخلہ کی 2020-21 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، 1990 اور 2020 کے درمیان جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی وجہ سے 14091 شہری اور 5356 سیکورٹی فورس اہلکار ہلاک ہوئے۔ کشمیری پنڈتوں کے علاوہ عسکریت پسندی کی وجہ سے کچھ سکھ اور مسلم خاندان کو بھی وادی سے جموں، دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں نقل مکانی کرنے کو مجبور ہونا پڑا۔

کشمیر میں 1990 سے 2021 کے درمیان 89 کشمیری پنڈت مارے  گئے: آر ٹی آئی

آر ٹی آئی کارکن پی پی کپور نے جموں و کشمیر پولیس اور لیفٹیننٹ گورنر کے پاس دائر ایک درخواست میں کشمیری پنڈتوں کے خلاف تشدد، ان کی نقل مکانی اور بازآبادی سے متعلق جانکاری مانگی تھی ۔ اس کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ تشدد یا تشدد کی دھمکیوں کی وجہ سے وادی چھوڑکر نقل مکانی کرنے والے 1.54 لاکھ افراد میں سے 88 فیصد ہندو تھے، لیکن 1990 کے بعد سے تشدد میں مرنے والے زیادہ تر لوگ دوسرے مذاہب سے تھے۔

کشمیر: قدیم  مندر میں توڑ پھوڑ، پولیس نے مقدمہ درج کیا

جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں گزشتہ سنیچر کو نامعلوم لوگوں نےمٹن علاقے میں پہاڑ پرواقع ماتا برگھ شکھابھگوتی مندرمیں توڑ پھوڑ کی۔یہ واقعہ ایسےوقت میں رونماہوا،جب مرکزی حکومت1990 کی دہائی کی شروعات میں گھاٹی چھوڑکر گئے کشمیری پنڈتوں کی بازآبادی کو لےکر قدم اٹھا رہی ہے۔