غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل
غزہ آج بھی وہاں کھڑا ہے جہاں کل تھا تنہا، زخمی اور سسکتا ہوا صرف اس فرق کے ساتھ کہ اب اس کی تکلیف عالمی سرخیوں میں نہیں، بلکہ صرف تاریخ کے خونی صفحات میں لکھی جا رہی ہے۔
غزہ آج بھی وہاں کھڑا ہے جہاں کل تھا تنہا، زخمی اور سسکتا ہوا صرف اس فرق کے ساتھ کہ اب اس کی تکلیف عالمی سرخیوں میں نہیں، بلکہ صرف تاریخ کے خونی صفحات میں لکھی جا رہی ہے۔
لبنانی عوام کے ایک وسیع حلقے کے ساتھ بات کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سودے بازی کو بھی رد کر دیتے ہیں۔ایک بڑا حلقہ ابھی بھی حزب اللہ کو ہی لبنانی قوم پرستی کی علامت اور اسرائیل کے خلاف قوت کے بطور تسلیم کرتا ہے۔
ایران پر حملوں کے 42 ویں دن اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تیاری ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والی یہ بات چیت تنازعہ کے مستقل حل کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم، عارضی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں حملے اور آبنائے ہرمز کے بند رہنے کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ایران اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرکے ترکیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ نہ صرف مسلم دنیا کی قیادت کا رول نبھائے، بلکہ استعماریت کے خلاف تیسری دنیا کے لیے بھی ایک استعارہ بن جائے ۔
مسلم دنیا میں یہ سوچ پنپ رہی ہے کہ طاقت اب صرف سیاست اور احتجاج میں نہیں، بلکہ تعلیم، ابلاغ اور ادارہ جاتی صلاحیت میں بھی پنہاں ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے نصراللہ کی موت کی خبر ایک ایسے وقت میں بڑا مورال بوسٹر ہے جب ان کی قیادت پر سوالات کیے جا رہے تھے۔ اس نے اسرائیل میں فتح کا احساس دلایا ہے جو نیتن ہاہو کو ااقتدار میں برقرار رہنے کا موقع فراہم کرے گا۔
لبنان میں دھماکے ایک واضح یاد دہانی ہیں کہ جنگوں کی نوعیت بدل رہی ہے۔ اسرائیل کا یہ حملہ اس بات کی بھی واضح مثال ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف بموں اور گولیوں سے نہیں بلکہ ڈیٹا، الگورتھم اور سائبر کارناموں سے لڑی جا سکتی ہیں۔
بیروت میں ہندوستانی سفارت خانے نے تمام ہندوستانی شہریوں کو ملک کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ لبنان میں مقیم ہندوستانیوں سے اپنی نقل و حرکت محدود رکھنے اور محتاط رہنے کو بھی کہا گیا۔
آئی ایم ایف کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کئی عرب ممالک میں فی شخص قرض بہت ہی زیادہ بڑھ گیا ہے۔ یہاں جی ڈی پی کا اوسطاً 85 فیصد قرض ہے۔ وہیں لبنان اور سوڈان میں یہ قرض جی ڈی پی کے 150 فیصد سے زیادہ پہنچ چکا ہے۔
غیر سرکاری اور غیر حتمی ابتدائی نتائج کے مطابق لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ اور ان کی سیاسی اتحادی جماعتوں نے ایک سو اٹھائیس رکنی پارلیمان میں نصف سے زائد نشستیں حاصل کر لی ہیں۔
غزہ کے باشندے اسباب زندگی کے تحفظ کےلیے مزاحمت کررہے ہیں ، نوجوانوں کے پاس گھر خریدنے یا شادی کے پیسے نہیں ہیں اس کی وجہ سے وہ شادیا ں ٹال رہے ہیں اور خودکشی کا تناسب کافی بڑھ چکا ہے۔
فروری 2018 کو عراق سے شائع ہونے والے اور دوسرے ممالک کے مختلف شہروں سے پرنٹ ہونے والےروزنامہ “الزمان” نےاردن میں مہنگائی کےخلاف مظاہروں کی خبر شائع کی ہے۔1
چونکہ مصر ،عراق اور لبنان میں الیکشن کا وقت قریب آچکا ہے ، اس لیے الیکشن سے متعلق خبریں اخباروں کی زینت بننی شروع ہوگئی ہیں۔