Line of Control

طارق عزیر اور لامبا: ہندوپاک سفارت کارتی کا ایک باب بند ہو گیا

طارق عزیز اور لامبا دونوں کے جانے سے کشمیر پرہندوستان اور پاکستان کی سفارت کاری کے بہت سے پوشیدہ پہلو بھی راز میں ہی رہیں گے۔ مگر ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ انتقال سے قبل لامبا نے اپنی کتاب کا مسودہ مکمل کر لیا تھا۔ اب انتظار ہے کہ ان کی فیملی کب اس کو شائع کراتی ہے تاکہ بہت سے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھ جائےاوردونوں ممالک کی شاید کچھ رہنمائی بھی ہوجائے۔

ہندوستانی سفارت کاری کا رازدار اور کشمیر پر مشرف فارمولہ کا خالق ستیندر کے لامبا چلا گیا !

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اگر کبھی مستقبل میں امن و امان کی صورت حال بن جاتی ہے اور دونوں ممالک اپنے تنازعات پر امن طور پر سلجھانے کو تیار ہو جاتے ہیں تو اس کا کریڈٹ لازماً ستی لامبا کو ہی جائے گا۔ان کے لیے بہترین خراج یہی ہے کہ مزید ہزاروں بے گناہ و معصوم افراد کو موت کی بھیٹ چڑھانے کے بجائے دونوں ممالک دیرنہ تنازعات کو عوامی خواہشات کے مطابق حل کرنے کے عمل کو شروع کرکے اس کو منتقی انجام تک پہنچا دیں۔

ہندوستان پاکستان کے مابین تجارت کی معطلی سے کس کو ہوا نقصان؟

حال ہی میں نئی دہلی کے ایک معروف تحقیقی ادارہ بریف نے انکشاف کیا ہے کہ ان اقدامات سے سب سے زیادہ نقصان خود ہندوستان کو ہی ہوا ہے۔ صرف پنجاب کے شہر امرتسر میں ہی کم و بیش 50ہزا رافراداس سے متاثر ہوئے ہیں۔

پاکستان نے نہیں دی وزیر اعظم مودی کے ہوائی جہاز کو اپنے ایئر اسپیس سے گزرنے کی اجازت

پاکستان نے دوسری بار ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے طیارے کو اپنے ایئر اسپیس کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں حقوق انسانی کی مبینہ خلاف ورزی کی وجہ سے ایسا کیا گیا ہے۔ وہیں ہندوستان نے پاکستان کی اس حرکت کی شکایت آئی سی اے اوسے کی ہے۔

بالاکوٹ میں دہشت گردوں کا کیمپ ایک بار پھر سرگرم: آرمی چیف بپن راوت

جنرل بپن راوت نے جموں و کشمیر کے حالات پر کہا کہ کشمیر وادی میں دہشت گردوں اور پاکستان میں بیٹھے ان کے ہینڈلرس کے درمیان اب رابطہ ٹوٹ چکا ہے اور اس وجہ سے کشمیر میں دہشت گردانہ واقعات رک گئے ہیں۔

پاکستانی ایئر اسپیس بند ہونے سے ایئر انڈیا کو 430 کروڑ روپے کا نقصان: مرکز

سول ایویشن وزیر ہردیپ پری نے پارلیامنٹ میں یہ جانکاری دی۔ 26 فروری کو ہندوستان کے ذریعے سرحد پار بالاکوٹ میں دہشت گرد وں کے کیمپ کو تباہ کرنے کے لئے کی گئی’سرجیکل اسٹرائیک‘کے بعد پاکستان نے اپنا ایئر اسپیس بند کر دیا تھا۔

بالاکوٹ ایئراسٹرائک کے اگلے دن ایئر فورس نے اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا : رپورٹ

گزشتہ 27 فروری کو جموں و کشمیر کے بڈگام میں فضائیہ کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ اس میں فضائیہ کے 6 جوان شہید ہو گئے تھے، جبکہ ایک مقامی شہری کی موت ہو گئی تھی۔

ہندوستان کے ذریعے پاکستان کا ایف-16 طیارہ گرانے کا دعویٰ غلط ہو سکتا ہے: امریکی ویب سائٹ

جموں و کشمیر کے پلواما ضلع میں سی آر پی ایف جوانوں پر ہوئے خودکش حملے کے بعد 27 فروری کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایئر اسٹرائک ہوئی تھی، جس میں ہندوستان نے پاکستان کا ایف-16 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

سیٹلائٹ تصویروں میں بالاکوٹ میں بم گرانے والی جگہ پر ابھی موجود ہے مدرسہ

رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق، انڈین ایئر فورس نے بالاکوٹ میں جیش محمد کے جس تربیتی کیمپ کو ہوائی حملے میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے وہاں کی اپریل 2018 میں لی گئی سیٹلائٹ تصویر اور 4 مارچ 2019 کی سیٹلائٹ تصویر میں کوئی بھی فرق نہیں نظر آ رہا ہے۔

راشٹرواد پر ان لوگوں سے سبق لینے کی ضرورت نہیں ،جنھوں نے گاندھی کا قتل کیا؛ ممتا بنرجی

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ لوگوں کو سچ سے محروم رکھا جا رہا ہے کیونکہ نیشنل میڈیا کا ایک طبقہ نریندر مودی کو سپورٹ کر رہا ہے۔یہ شرم کی بات ہے کہ مودی ملک کے وزیر اعظم ہیں۔

بالاکوٹ: یو این میں ہندوستان پر ماحولیاتی دہشت گردی کا مقدمہ درج کرائے گا پاکستان

پاکستان کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change) ملک امین اسلم نے کہا کہ بالاکوٹ میں جو بھی ہوا اس کو ماحولیاتی دہشت گردی ہی کہا جائے گا۔ ایئر اسٹرائک کی وجہ سے اس علاقے میں درجنوں درختوں کو نقصان پہنچا ہے اور سنگین ماحولیاتی نقصان ہوا ہے۔

ممتا بنر جی نے کہا؛ شہادت پر سیاست نہیں، لیکن ملک جاننا چاہتا ہے کہ بالا کوٹ میں کیا ہوا تھا

مغربی بنگا ل کی وزیر اعلیٰ نے کہا ، اس ملک میں لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بالا کوٹ میں کتنے دہشت گرد مارے گئے ؟ حقیقت میں بم کہاں گرایا گیا؟ کیا وہ نشانے پر گرا تھا ؟ ہمیں یہ جاننے کا حق ہے۔

پاکستان کے خلاف کارروائی میں طیارہ سمیت پائلٹ لاپتہ، پاک نے کہا-ہندوستانی پائلٹ حراست میں

وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا کہ ہندوستان کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی پاکستان کی کوشش کو ناکام کر دیا گیا۔ایک پاکستانی جنگی طیارے کو مار گرایا گیا۔ وہیں پاکستان نے دو ہندوستانی طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا۔

ہوائی حملے میں مسعود اظہر کے قریبی رشتہ دار کا دہشت گرد کیمپ نشانہ تھا، کئی دہشت گرد مارے گئے؛ فارین سکریٹری

فارین سکریٹری وجئے گوکھلے نے کہا کہ یہ حملہ کوئی فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ احتیاتاً اٹھایا گیا قدم تھا،جس کا مقصد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا۔دہشت گردوں کے اس کیمپ کا انتخاب یہ دھیان میں رکھتے ہوئے کیا گیا تھا کہ عام شہریوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے ۔