مارک ٹلی نے بی بی سی میں اپنی تقریباً تین دہائیوں (1964-94) کی صحافت کے دوران بر صغیر کا شاید ہی کوئی ایسا بڑا واقعہ ہو جس کی کوریج نہ کی ہو۔ انہوں نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے جو ساکھ بنائی وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہو پاتی ہے۔
وفاتیہ: جس نسل نے ٹرانزسٹر ریڈیو کے سہارے سیاسی فہم و فراست پیدا کرنے کی سعی کی، اس کے لیے مارک ٹلی صرف نامہ نگار نہیں تھے۔ الجھن کے ساتھی تھے، ایک ایسے ملک کے لیے سمت نما تھے، جو اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
سینئر صحافی مارک ٹلی بتا رہے ہیں کہ پرینکا گاندھی سے امید کی جا رہی تھی، لیکن ان کی گنگا یاترا سے کوئی لہر اٹھی ہو، ایسا نہیں دکھتا۔ ایسا ہے تو پھر اپوزیشن کو غائب کیوں نہیں ہونا چاہیے؟