گجرات کے مہسانہ ضلع کے شری کے ٹی پٹیل اسمرتی ودیالیہ میں مبینہ طور پر مذہب کے نام پر امتیازی سلوک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ارناز بانو کے والد نے الزام لگایا ہے کہ 10ویں جماعت کی ٹاپر ان کی بیٹی کو 15 اگست کی ایوارڈ تقریب میں ایوارڈ سے سرفراز نہیں کیا گیا۔ وہیں پرنسپل نے کہا کہ طالبہ کو 26 جنوری کو ایوارڈسے سرفراز کیا جائے گا۔
یہ معاملہ گجرات کے ضلع مہسانہ کے تھانہ لنگھناج کا ہے، پولیس نے چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے پانچ کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس معاملے میں اپنی جان گنوانے والا جسونت ٹھاکر یومیہ مزدوری کرتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمین اور مقتول دونوں کا تعلق ایک ہی برادری سے ہے اور ان کے درمیان پرانی رنجش تھی۔
گجرات کے مہسانہ ضلع کا معاملہ ہے۔ پولیس نے پانچ لوگوں کے خلاف ایس سی –ایس ٹی ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
متاثرہ طالب علم کی ماں کا الزام ہے کہ پڑھائی لکھائی چھوڑکر مزدوری کرنے کو کہہ رہے تھے ملزم۔
پاٹیدار کمیونٹی کے لیے تعلیم اور نوکری میں ریزرویشن کی مانگ کو لے کر 2015 میں ہاردک پٹیل نے میہہ سانہ میں آندولن کیا تھا۔ ہاردک کو بی جے پی ایم ایل اے رشی کیش پٹیل کے دفتر میں توڑ پھوڑ اور فسادات بھڑکانے کےمعاملے میں سزا ملی ہے۔
بھاجپا سے مایوس ہوچکے تیز مزاج پاٹیدار وں نے اقتصادی مورچوں پر حکومت کی ناکامیوں کو سامنے رکھنا شروع کر دیا ہے۔حالاں کہ شہروں میں ہندو بنام مسلم کی سیاست ابھی بھی پھل پھول رہی ہے۔ اگست، 2015 میں گجرات میں ہوئی پاٹیدار تحریک کا بڑا حصہ درج فہرست […]