این بی ڈی ایس اے نے نیوز رپورٹنگ میں لفظ ’جہاد‘ کے استعمال کے حوالے سے خصوصی رہنما اصول تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی زی نیوز نیٹ ورک کے مختلف چینلوں، ٹائمز ناؤ نو بھارت، نیوز18 اور این ڈی ٹی وی سمیت کئی ٹی وی چینلوں کو ان نشریات کے حوالے سےوارننگ دی ہے، جن میں کھانے میں مبینہ ملاوٹ کے واقعات کو ’تھوک جہاد‘ اور ’فوڈ جہاد‘ جیسے الفاظ کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔
جموں و کشمیر میں ایک ٹرک ڈرائیور کے ہائی وے پر نماز پڑھنے کے ویڈیو کو تصدیق کے بغیر نشر کرنے کی وجہ سے زی نیوز پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ این بی ڈی ایس اے نے اسے سنگین کوتاہی مانتے ہوئے سوشل میڈیا مواد کے استعمال سے متعلق سخت رہنما اصول جاری کیے ہیں۔
این بی ڈی ایس اے نے کہا کہ نیوز 18 انڈیا کی اینکر روبیکا لیاقت کے ایک ڈبیٹ پروگرام میں عدالتی کارروائی اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کے اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ این بی ڈی ایس اے نے چینل کو 28 مارچ 2024 کو نشر ہوئے اس پروگرام کے قابل اعتراض حصوں کو ہٹانے کو کہا ہے۔
ویڈیو: نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈ اتھارٹی (این بی ڈی ایس اے) نے نفرت اور فرقہ وارانہ انتشار پھیلانے میں کردار ادا کرنے پر ٹائمز ناؤ نوبھارت، نیوز 18 اور آج تک کے تین شوز کو ہٹانے کو کہا ہے اور جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ تفصیل سے بتا رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔
نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈ اتھارٹی (این بی ڈی ایس اے) نے اینکر امن چوپڑا کے دو پروگراموں پر 75 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے اور ان ایپی سوڈز کو ویب سائٹ سمیت تمام آن لائن فورم سے ہٹانے کو کہا ہے۔ زی نیوز اور ٹائمز ناؤ کو بھی اپنی ایک ایک نشریات واپس لینے کی ہدایت دی ہے۔
نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی نے 6 اپریل کو نیوز 18 انڈیا پر نشر ہونے والے شو کے خلاف درج شکایت کی سماعت کرتے ہوئے چینل سے اسے ہٹانے کو کہا ہے۔ شو کے اینکر امن چوپڑہ کے بارے میں اتھارٹی نے کہا کہ حساس موضوعات پر بحث کیسے کرائیں، اس کے لیےچینل اپنے اینکروں کو ٹریننگ دے۔
نیشنل براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈس اتھارٹی کا یہ بیان ایک شخص کی شکایت پر ٹائمز ناؤ کے اینکر راہل شیوشنکر اور پدمجا جوشی کے ستمبر 2020 میں پیش کیے گئے چینل کے پرائم ٹائم شو انڈیا اپ فرنٹ کے دو ایپی سوڈ سے متعلق ہے۔ اتھارٹی نے چینل سے مذکورہ ایپی سوڈ کویوٹیوب سے ہٹانے کو کہا ہے۔