گزشتہ 18اپریل کو اپنے خطاب میں نریندر مودی نے پارلیامنٹ میں تین بلوں کے پیکیج کو منظور نہ کروا پانے پر ’ملک کی ماؤں اور بہنوں‘ سے ’معافی‘ مانگی۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں ایسے کئی مواقع سامنے آئے ہیں، جہاں وزیر اعظم مودی کے لیے معافی مانگنا زیادہ موزوں ہوتا۔
ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ ہیں۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان مرکزی حکومت بھلے ہی ایل پی جی کی قلت سے انکار کر رہی ہے، لیکن گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ گیس کی قلت سے پریشان لوگوں کے ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آ رہےہیں۔ وہیں، دہلی میں کچھ اٹل کینٹین بند ہیں، کئی ہاسٹل میس اور گردواروں کے لنگر بھی سلنڈر کی کمی سے متاثر ہو رہے ہیں۔