سی بی آئی کا کہنا ہے کہ نیٹ-یو جی 2024 کے پیپر لیک معاملے کی جانچ کے دوران مبینہ ’ماسٹر مائنڈ‘سنجیو مکھیا کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ اس کی جانچ میں مذکورہ سوالیہ پرچہ چوری کی پوری سازش بے نقاب ہو چکی ہے اور اس میں شامل تمام لوگوں کو قانون کے دائرے میں لایا گیا ہے۔
گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پر جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پہلی بار اس معاملے پر بیان دیا۔ تاہم، ان کے بیان میں نہ تو نوجوانوں کے احتجاج کا ذکر کیا گیا، نہ ہی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے یا طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کا۔ اس کے ساتھ ہی سخت کارروائی کا ان کا وعدہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔
سنسد مارچ کے بعد سی جے پی کی تحریک جاری ہے۔ مرکز نے دہلی میں سی آر پی ایف کی 20 اضافی کمپنیاں تعینات کی ہیں۔ حکومت نے نیٹ پیپر لیک پر پارلیامنٹ میں بحث کی بات کہی ہے، لیکن وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو سیاسی قرار دیا ہے۔ اسی بیچ، سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے اپناوہاٹس ایپ اکاؤنٹ بلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہرمنگل کو دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، دیگر کانگریس اراکین پارلیامنٹ اور پارٹی کارکنوں کو دہلی پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہٹا دیا۔ کانگریس کی رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو بھی حراست میں لیا گیا۔ وہیں، راہل گاندھی کے احتجاج کے بعد وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نیٹ اور اس سے متعلق جاری احتجاج کے تمام معاملوں پر پارلیامنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔
دارالحکومت دہلی میں جاری احتجاج کی طرز پر سوموار کو ملک کے کئی دوسرے شہروں میں بھی نوجوانوں کے شدید غصے کا مشاہدہ کیا گیا۔ اروناچل پردیش کی راجدھانی ایٹہ نگر سے لے کر بہار کی راجدھانی پٹنہ تک طلبہ، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور دہلی میں نوجوان مظاہرین پر ہوئے پولیس کریک ڈاؤن کی مذمت کی۔
جنتر منتر اور اس کے آس پاس نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور جنتر منتر کو خالی کرائے جانے کے بعد بھی وہاں احتجاج جاری ہے۔ وہیں، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ انہوں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے طلبہ پر ہوئی بربریت پر بحث کا مطالبہ کیا تھا، جس پر برلا نے کہا کہ اس کے لیے انہیں حکومت سے اجازت لینی ہوگی۔
سوموار کو سنسد مارچ کے دوران مظاہرین پر دہلی پولیس کی زیادتی سے متعلق خبریں موصول ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ سے ایک درخواست کو شنوائی کے لیےلسٹ کرنے کی گزارش کی گئی تھی، جس پر چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا، ’عدالت کو ان سب میں مت گھسیٹو۔‘
حکومت نے پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن ’کاکروچ جنتا پارٹی‘کے’سنسد چلو‘مارچ کی وجہ سے جزوی طور پر انٹرنیٹ بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ صبح 10 بجے ہی موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم، حکومت نے اب تک ان احکامات کی کوئی کاپی پبلک نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق، ٹیلی کام خدمات معطل کرنے سے متعلق ہر آرڈر شائع کیا جانا چاہیے۔
گراؤنڈ رپورٹ: دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بھاری نفری کی تعیناتی کے بیچ پارلیامنٹ مارچ میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو تعلیمی نظام کی حالیہ ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ وزیر تعلیم کا استعفیٰ بھلے ہی کوئی بہت بڑی تبدیلی نہ لائے، لیکن کم از کم جوابدہی تو طے ہوگی۔ ہم نوجوان یہی چاہتے ہیں۔
نئی دہلی کے جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں سی جے پی کی قیادت میں طلبہ کے پُرامن احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے لاٹھی چارج سے کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ وہیں، سی جے پی نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے سونم وانگچک کی فوری رہائی، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور خودکشی کرنے والے نیٹ امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سی جے پی کی جانب سے پارلیامنٹ مارچ کی اپیل کے درمیان جنتر منتر پر ہزاروں مظاہرین جمع ہو گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کر دیے ہیں، کئی میٹرو اسٹیشن بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ دریں اثنا، جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے آئیسا کے طلبہ اسٹوڈنٹ لیڈرنے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ وہیں، مانسون اجلاس کی شروعات کرتے ہوئےوزیر اعظم نریندر مودی نے اس احتجاجی مظاہرے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے دی وائر سے کہا، ’سونم نے اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کی ہے۔ وہ اس وقت اسپتال میں ہیں اور وہاں سے جنتر منتر واپس جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن سونم نے سی جے پی کو بتایا ہے کہ جیسے ہی انہیں اسپتال سے نکلنے دیا جاتا ہے، وہ سیدھے جنتر منتر پہنچیں گے۔‘
سونم وانگچک کو سنیچر کی صبح پولیس کے ذریعے زبردستی اسپتال لے جانے پر اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سونم وانگچک، آئیسا کے طلبہ کارکنوں کے ساتھ گزشتہ 21 دنوں سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک کو ہڑتال کے 21ویں دن دہلی پولیس نے حراست میں لے کر زبردستی اسپتال میں بھرتی کر دیا ہے۔ تاہم، بھوک ہڑتال پر بیٹھےآئیسا کے تین ممبر اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے۔ وہیں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، وزارت تعلیم کی بار بار کی ناکامیوں اور لداخ کے آئینی تحفظات کے مطالبات کو حکومت کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے خلاف غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔دریں اثنا، کئی ماہرین تعلیم، مصنفین، فنکاروں اور فلمسازوں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے فائر سیفٹی قوانین کی پاسداری نہ کرنے کے الزام میں شہر کے تین کوچنگ اداروں کو سیل کر دیا۔ تاہم، وہاں کے اساتذہ کا خیال ہے کہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ تینوں کوچنگ اداروں کے مالکان کا الزام ہے کہ یہ کارروائی جان بوجھ کر لیکھ پال امتحان میں مبینہ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طالبعلموں کی حمایت کے جواب میں کی گئی ۔
سال 2014 کے بعد سے ہندوستان نے 89 امتحانات میں پیپر لیک کا مشاہدہ کیا ہے۔ نواسی بار کسی نے بند لفافہ توڑا، نواسی بار کسی طالبعلم کی برسوں کی محنت ایک ہی رات میں خاک ہو گئی۔ نواسی بار اسٹیٹ نے آنکھیں بند کر لیں – یا اس سے بھی بدتر، جان بوجھ کر دوسری طرف دیکھا، یا اسے ہونے دیا۔
تین مئی کو منعقد نیٹ-یو جی 2026 کا امتحان پیپر لیک کے دعووں کے بعد رد کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اب یہ امتحان دوبارہ 21 جون کو ہوگا۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے بتایا کہ ’گیس پیپر‘کے نام پر اصل سوال لیک ہوئے تھے اور اگلے سال سے یہ امتحان آن لائن لیا جائے گا۔
گَیس پیپر کے ذریعے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے درمیان این ٹی اے نے نیٹ (یو جی) 2026 امتحان ردکر دیا ہے۔ راجستھان ایس او جی کی جانچ میں 410 سوال پر مشتمل ایک ’گَیس پیپر‘ میں 120 سے زیادہ سوال اصل امتحانی پرچے سے مماثل پائے گئے تھے۔ امتحان رد ہونے کے بعد طلبہ اب دوبارہ تیاری، غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی کارکردگی اور صلاحیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یوپی پولیس میں بھرتی کے عمل کو ‘شفاف’ قرار دیا ہے، لیکن گزشتہ سال پیپر لیک کی وجہ سے اس امتحان کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس کا انعقاد کرنے والی گجراتی کمپنی ایڈوٹیسٹ کی تاریخ داغدار رہی ہے۔ یوپی حکومت کو بھی اس کمپنی کو بلیک لسٹ کرنا پڑا تھا۔ اس کمپنی کے بانی ڈائریکٹر کے بی جے پی کے اعلیٰ لیڈروں سے قریبی روابط رہے ہیں۔
مراکز پر اجتماعی طور پر نقل کا ماحول تھا۔ نگراں اور ممتحن کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ حکومت ہند کے ایک بڑے سائنسی ادارے میں بھرتی امتحان ہو رہا ہے۔ گجرات کی کمپنی ایڈوٹیسٹ کے ذریعے کرائے گئے امتحانات پر ملاحظہ کیجیے دی وائر کی تفتیش کی یہ تیسری قسط۔
نیٹ-یوجی معاملے میں سپریم کورٹ نے سوموار کو 30 سے زیادہ درخواستوں کی سماعت کی، جن میں امتحان میں بے ضابطگی اور نقل کا الزام عائد کرنے والی درخواستوں کے ساتھ ساتھ امتحان کو نئے سرے سے کرانے کی درخواستیں بھی شامل تھیں۔
احمد آباد کی ایڈوٹیسٹ کمپنی کو یوپی حکومت نے بلیک لسٹ کیا ہے، لیکن اب یہ پی ایم نریندر مودی کی قیادت والی سی ایس آئی آر میں بھرتی امتحان کے دوسرے مرحلے کا انعقاد کر رہی ہے۔ اس امتحان کے کچھ امیدوار پہلے مرحلے کے دوران ہوئے نقل کے الزام میں جیل میں ہیں۔
ایڈوٹیسٹ کے بانی سریش چندر آریہ ایک ہندو تنظیم کے صدر ہیں اور مودی ان کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں۔ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر ونیت آریہ کو جیل بھی ہو چکی ہے، اس کے باوجود اسے امتحان کے ٹھیکے ملتے رہے ہیں۔ دی وائر کی خصوصی پڑتال کی پہلی قسط۔
نیٹ یعنی این ای ای ٹی – یو جی 2024 کے امتحان کے معاملے میں بہار کی کریمنل انویسٹی گیشن یونٹ نے مشتبہ افراد کے پاس سے امتحان کی تاریخ (5 مئی) کو ہی کچھ جلے ہوئے کاغذ برآمد کیے تھے، جن کی جانچ سے پتہ چلا کہ ان کاغذات میں 68 سوال من و عن وہی تھے جو امتحان کے سوالنامے میں تھے۔ یہی نہیں بلکہ سوالوں کے سیریل نمبر بھی سوالنامے سے میل کھاتے ہیں۔
مہاراشٹر ملک کی سب سے بڑی معیشت والی ریاست ہے، لیکن برسوں سے سرکاری نوکری کی تیاری کرنے والے اس کے ہزاروں نوجوان شہری پیپر لیک یا کسی اور گھوٹالے کی وجہ سے امتحان رد ہونے کے بعد مایوس ہوکر خودکشی جیسے مہلک قدم اٹھا رہے ہیں۔
اتر پردیش میں نوجوانوں کے لیے بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ سرکاری نوکریوں کا خواب دیکھنے والے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ بھرتی کے امتحانات کا لمبا انتظار، پھر پیپر لیک کا مسئلہ اور بعض اوقات بڑے پیمانے پر دھاندلی کی وجہ سے امتحانات کا رد ہوجانا بھی اب ریاست میں عام سا واقعہ ہے۔
اتر پردیش میں پولیس کانسٹبل بھرتی کا پیپر لیک ہونے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے سبب نوجوانوں کا غصہ ساتویں آسمان پر ہے۔ بھرتی امتحانات میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے واقعات کے پیش نظر نوجوان اکثر سڑکوں پر جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں، وہیں بھرتیوں کا طویل انتظار بھی ان کے مستقبل کو اندھیروں میں دھکیل رہا ہے۔
اتر پردیش میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کوئی سال ایسا نہیں گزرا جس میں مقابلہ جاتی امتحانات کے پیپر لیک نہ ہوئے ہوں۔ اس کی شروعات 2017 میں یوپی پولیس کانسٹبل اگزام کے پیپر لیک سے ہوئی تھی، جس میں 1.20 لاکھ درخواست دہندگان نے شرکت کی تھی۔
گجرات کانگریس کے مطابق یہ بھرتی گھوٹالے سرکار کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔ بی جے پی لیڈر اور نریندر مودی کے قریبی اسیت وورا کو ایک بدنام زمانہ گھوٹالہ کے بعد سلیکشن بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اسی طرح پیپر لیک معاملے میں جو پرنٹنگ پریس سرخیوں میں تھی، اس نے کبھی مودی کی کتاب بھی چھاپی تھی۔
اتر پردیش پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام منعقد ریویو آفیسر (آر او) اور اسسٹنٹ ریویو آفیسر (اے آر او) کے امتحانات میں 10 لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے شرکت کی تھی، جسے اب رد کردیا گیا ہے۔ وہیں، حال ہی میں 12 ویں بورڈ کے امتحان کے دو مضامین کے پرچے امتحان کے دوران وہاٹس ایپ گروپ میں شیئر کیے گئے تھے۔
نوجوان کی شناخت اتر پردیش کے قنوج کے رہنے والے برجیش پال کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ حال ہی میں پولیس بھرتی کے امتحان میں شامل ہوئے تھے اور مبینہ طور پر پیپر لیک سے پریشان تھے۔ اپنے پیچھے چھوڑے گئے ایک سوسائیڈ نوٹ میں انہوں نے اپنے اس قدم کے لیے بے روزگاری کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
تلنگانہ بی جے پی کے صدر بندی سنجے کمار نے کہا کہ یہ ریاست کی بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) حکومت کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی کے تلنگانہ دورہ کےلیے کیے جارہے انتظامات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ پارٹی نے کہا کہ سنجے کی گرفتاری حکمراں بی آر ایس میں خوف اور انارکی کی نشاندہی کرتی ہے۔
ریاست میں 17 نومبر کو جونیئر کلرک اور آفس اسسٹنٹ کی بحالی کے لیے امتحان ہوئے تھے۔ گاندھی نگر میں طلبا نے اس کاسوال نامہ لیک ہونے اور بے ضابطگی کا الزام لگاتے ہوئے بڑی تعداد میں مظاہرہ کیا اور امتحان رد کرنے کی مانگ کی۔ اس کے بعد پولیس نے مظاہرہ کر رہے طلبا کو حراست میں لے لیا۔
گزشتہ دنوں بارہویں کے اکاؤنٹ اور بزنس اسٹڈیز کے امتحانات کے پیپر لیک ہونے کی بھی خبریں میڈ یا میں آئی تھیں لیکن سی بی ایس ای نے اسکی تردید کی تھی ۔