گزشتہ ماہ وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر نے کہا تھا کہ ہندوستانی پاسپورٹ کو شہریت ثابت کرنے والے دستاویز کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اب وزارت خارجہ نے منگل کے روز اپنے سابقہ رخ سے الگ اس بیان سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ ایک ایسا دستاویز ہے، جو ہندوستانی شہریوں کے ملک سے باہر جانے کے عمل کو منظم کرتا ہے۔
کم و بیش ایک دہائی پہلے تک سرکاری خدمات سب کے لیے یکساں طور پر دستیاب تھیں اور کسی کی شہریت پر سوال نہیں اٹھتا تھا۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو من مانےڈھنگ سے حق رائے دہی، سرکاری فلاحی اسکیموں کے فائدےحتیٰ کہ ڈومیسائل سے متعلق حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جب ہندوستانی بیرون ملک سفر کرتے ہیں تو پاسپورٹ ان کی قومیت کی تصدیق کرتا ہے، لیکن دراصل یہ ایک سفری دستاویز ہے شہریت کا دستاویز نہیں ہے۔ اس بیان کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ پھر شہریت کا ثبوت کون سا دستاویز ہے؟
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی کو اس ہفتے کے شروع میں عدالتی مداخلت کے بعد ‘مشروط’ پاسپورٹ جاری کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ میں دائر ایک درخواست کے جواب میں سری نگر کے ریجنل پاسپورٹ آفیسر نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس سی آئی ڈی انہیں پاسپورٹ جاری کرنے کے حق میں نہیں ہے۔
ویڈیو: کشمیریوں کے لیے بیرون ملک جانا اب اور زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاسپورٹ نہ دینے کے معاملے بڑھتے جارہے ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس ویریفیکیشن نہ ہونے یا پولیس کی منفی رپورٹ کے باعث پاسپورٹ سے محروم ہونے والوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔آخر مسئلہ کیا ہے اور عام لوگوں پر اس کا کیا اثر پڑےگا، بتا رہے ہیں ذیشان کاسکر۔
اکتوبر میں ممبئی ریجنل پاسپورٹ آفس نے میدھا پاٹکرکو نوٹس جاری کرکے کہا تھا کہ انھوں نے پاسپورٹ رینوکرواتے وقت اپنے خلاف درج معاملوں کی جانکاری چھپائی ہے۔
ممبئی کے ریجنل پاسپورٹ آفس نے سماجی کارکن اور نرمدا بچاؤ آندولن کی رہنما میدھا پاٹکر کو ان پر زیر التوا معاملوں کے بارے میں جانکاری مبینہ طور سے چھپانے کو لے کر نوٹس بھیجا ہے۔آفس نے ان سے یہ بھی پوچھا ہے کہ ان کا پاسپورٹ کیوں ضبط نہیں کیا جانا چاہیے۔
مرکزی داخلہ نے کہاکہ بیٹی بچاؤ-بیٹی پڑھاؤ جیسا منصوبہ،کم جنسی تناسب والی ریاستوں میں لوگوں میں بیداری لانا، اسقاط حمل کے قانون کو سخت بنانا جیسی کئی کوشش مردم شماری سے ہی ممکن ہوتی ہے۔
جانچکے مطابق، مشرا کو لکھنؤ سے گورکھپور ٹرانسفر کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے حقوق کی حد پار کی تھی۔ بین مذہبی شادی کرنے والے جوڑے سے پوچھے گئے ان کے سوال اور رویہ دونوں غیرمناسب پائے گئے ۔
اس معاملے کو لے کرمتاثرہ جوڑے نے وزیر خارجہ سشما سوراج سے تحریری شکایت کی تھی اور بتایا تھاکہ ایک مسلمان کے ساتھ شادی کے بعد نام نہیں بدلنے پر اس کی بے عزتی کی گئی اور اس کے شوہر سے مذہب تبدیل کر نے کو بھی کہاگیا۔