presidential candidate

ترکیہ کے انتخابی نتائج: مغرب کے لیے ایک سبق

مغرب کے لیے یہ انتخابات ایک اہم سبق ہیں۔ نہ صرف ان کی بے جا مداخلت نے ترکیہ میں قوم پرست جذبات کو ابھارابلکہ بیرون ملک ترکوں کے ووٹنگ کے انداز سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بیلجیم، فرانس، جرمنی، ڈنمارک اور ہالینڈ یعنی جو ممالک اسلامو فوبیا کا شکار ہیں، میں اردوان کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی۔ اس کے برعکس برطانیہ، امریکہ، نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں جہاں اسلاموفوبیا کے کم واقعات رونما ہوتے ہیں، کلیچ داراولو کو اکثریت ملی۔

ترکیہ صدارتی انتخابات: کون جیتا، کون ہارا 

رائے عامہ اور تجزیہ کاروں کی یہ پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی کہ انتخابات دوسرے راؤنڈ میں چلے جائیں گے۔ مگر اکثر کا خیال تھا کہ کلیچ داراولو کو سبقت حاصل ہوگی، کیونکہ گرتی ہوئی معیشت اور اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے عوام خاصے نالاں تھے۔اردو ان اور ان کے قریبی حریف کے درمیان تقریباً 25 لاکھ ووٹوں کا فرق ہے۔ اس کو پاٹنا اپوزیشن امیدوار کے لیے اب نہایت ہی مشکل امر ہے۔

ترکیہ کے انتخابات: کون لے گا بازی

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اردوان اور کلیچی داراولو کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ مگر ابھی تک ہوئے دس جائزوں میں دونوں میں کوئی بھی آئین کی طرف سے مقرر 50فیصد جمع ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہو رہا ہے ۔ دونوں کلیدی امیدواروں کے ووٹوں کا تناسب 42 اور 43 فیصد کے آس پاس ہی گھوم رہا ہے۔

دروپدی مرمو نے ہندوستان کے 15ویں صدر کے طور پر حلف لیا

چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے دروپدی مرمو کو ملک کے 15ویں صدر کے طور پر عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ 64 سالہ مرمو اس اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک پہنچنے والی پہلی آدی واسی اور ملک کی دوسری خاتون صدر ہیں۔ سنتھال کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی صدر اس سے قبل جھارکھنڈ کی گورنر رہ چکی ہیں۔

این ڈی اے امیدوار دروپدی مرمو کی انتخاب میں جیت، ملک کی 15ویں صدر بنیں گی

بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کی امیدوار دروپدی مرمو اس اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر فائز ہونے والی ملک کی پہلی آدی واسی اور دوسری خاتون صدر ہوں گی۔ جمعرات کو صبح 11 بجے شروع ہوئی ووٹوں کی گنتی میں مرمو نے متحدہ اپوزیشن کے امیدوار یشونت سنہا کو کے تیسرے مرحلے ہی شکست دےدی۔ سنہا نے اپنی ہار قبول کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔

مہابھارت کی دروپدی ناانصافی کے خلاف سینہ سپر تھیں – صدر جمہوریہ کے طور پر ملک کو ایسی ہی دروپدی چاہیے

مہابھارت کی دروپدی ایک وفادار بیوی اور بیٹی تھیں، لیکن جب ناانصافی کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے سب سے سوال پوچھنے کی ہمت کی۔ امید کرنی چاہیے کہ آر ایس ایس کی ایک وفادار بیٹی ہونے کے باوجود دروپدی مرمو وقت آنے پر انصاف کے لیے کھڑی ہوں گی۔