RTI Act

سی آئی سی نے لاک ڈاؤن کے دوران پی ایم کے بال کٹوانے سے متعلق آر ٹی آئی کو احمقانہ بتایا

مئی 2020 میں ایک شخص نے آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت جانکاری طلب کی تھی کہ کیا لاک ڈاؤن میں سیلون بند ہونے سے وزیر اعظم اور ان کی کابینہ پراتنا ہی اثر پڑا، جتنا کسی عام شہری پرپڑا۔

انفارمیشن کمشنرکی جانب سے بی جے پی کے نظریے کو فروغ دینے والے ٹوئٹ پر آر ٹی آئی کارکن فکرمند

بنا درخواست دیے ہی سابق صحافی ادے مہر کر کی سینٹرل انفارمیشن کمیشن میں تقرری ہوئی تھی۔ انہوں نے مودی ماڈل پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ان کی تقرری کو لےکربھی تنازعہ ہوا تھا۔ حال کے دنوں میں مہر کر نے اپنے کچھ ٹوئٹس میں آر ایس ایس اور بی جے پی کی پالیسیوں کو لے کر اپنی حمایت کا اظہار کیاہے۔

ایم پی: کالج نے دستاویزوں کے کمرے کو ’آسیب زدہ‘ بتاتے ہوئے آر ٹی آئی کا جواب دینے سے انکار کیا

مدھیہ پردیش کے گوالیار شہر کے ایک میڈیکل کالج کا معاملہ۔آر ٹی آئی کارکن گوالیارواقع گجرا راجہ میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس داخلے میں مبینہ دھاندلی کی جانچ چاہتے ہیں کہ باہری لوگوں نے دھوکہ دھڑی کرکے مقامی لوگوں کے کوٹے میں داخلہ حاصل کر لیا ہے۔

انفارمیشن کمشنرز کی تقرری میں  بے ضابطگی، جس نے نہیں دیا درخواست اس کا بھی ہوا انتخاب

خصوصی رپورٹ: پچھلے سال نومبر میں چیف انفارمیشن کمشنر اور تین انفارمیشن کمشنرز کی تقرری ہوئی تھی۔ اس سے متعلق دستاویز بتاتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود سرچ کمیٹی نے بنا شفاف عمل اورمعیار کے ناموں کو شارٹ لسٹ کیا تھا۔ وہیں وزیر اعظم پر دو کتاب لکھ چکے صحافی کو بنا درخواست کے انفارمیشن کمشنر بنا دیا گیا۔

سینٹرل انفارمیشن کمیشن میں 13000 سے زیادہ معاملے ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التوا: حکومت

غیرسرکاری تنظیم سترک ناگرک سنگٹھن اور سینٹر فار ایکویٹی اسٹڈیز کے ذریعے تیار کی گئی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کمیشن میں زیر التوا معاملوں کی اہم وجہ انفارمیشن کمشنر کی تقرری نہ ہونا ہے۔رپورٹ کے مطابق، ملک بھر‌کے26انفارمیشن کمیشن میں31مارچ2019تک کل 218347 معاملے زیر التوا تھے۔

جج قانون سے اوپر نہیں ہیں، عدالتی تقرری کا عمل شفاف ہونا چاہیے: جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ ایسا کرنے سے تقرری کے عمل میں لوگوں کا اعتماد بڑھے‌گا اور فیصلے لینے میں عدلیہ اور حکومت کی تمام سطحوں پر بلند سطح کی شفافیت اور جوابدہی طے ہو سکے‌گی۔

آر ٹی آئی کے دائرے میں آیا سی جے آئی دفتر، سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو صحیح  ٹھہرایا

دہلی ہائی کورٹ نے سال 2010 میں اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کی اس دلیل کو خارج کر دیا تھا کہ سی جے آئی دفتر کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لائے جانے سے عدلیہ کی آزادی متاثرہوگی۔

آر ٹی آئی رپورٹ کارڈ: خالی عہدوں اور زیر التوا معاملوں سے جوجھ رہے ملک بھر‌ کے انفارمیشن کمیشن

آر ٹی آئی قانون نافذ ہونے کی 14ویں سالگرہ پر جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق فروری 2019 میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد بھی انفارمیشن کمشنرکی وقت پر تقرری نہیں ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ سے ملک بھر‌کے انفارمیشن کمیشن میں زیرالتوا معاملوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور لوگوں کو صحیح وقت پر اطلاع نہیں مل پا رہی ہے۔

آر ٹی آئی استعمال کی رفتار دھیمی، 14 سال میں محض 2.5 فیصدی لوگوں نے کیا استعمال: رپورٹ

ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل انڈیا کے ذریعہ جاری رپورٹ میں انفارمیشن کمیشن میں خالی عہدوں کو آر ٹی آئی کی فعالیت کے لیے رکاوٹ بتایا گیا ہے۔ریاستوں کے معاملے میں اتر پردیش نے 14 سال میں ایک بھی سالانہ رپورٹ پیش نہیں کی ہے،جبکہ بہار انفارمیشن کمیشن کی اب تک ویب سائٹ بھی نہیں بن پائی ہے۔

حکومت سے امداد پانے والے این جی او، آر ٹی آئی کے دائرے میں آتے ہیں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت سے براہ راست یا بلاواسطہ طور پر امداد پانے والے اسکول، کالج اور ہاسپٹل جیسے ادارے بھی آر ٹی آئی قانون کے تحت شہریوں کو اطلاعات مہیا کرانے کے لئے باؤنڈ ہیں۔

آر ٹی آئی کے تحت 20 سال پہلے کی نجی جانکاری دی جا سکتی ہے یا نہیں، سی آئی سی کرے‌ گا فیصلہ

سال 2006 کےممبئی ٹرین بلاسٹ کے ایک مجرم احتشام صدیقی نے آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت ہندوستانی پولیس سروس کے 12 افسروں کے یونین پبلک سروس کمیشن میں جمع فارموں اور دیگر ریکارڈ کی کاپیاں مانگی تھی، جس کو وزارت داخلہ نے خارج کر دیا تھا۔ اب سی آئی سی اس پر آخری فیصلہ لے‌گی۔

آر ٹی آئی ترمیم پر سابق انفارمیشن کمشنروں نے کہا، یہ غریبوں کی آواز ہے اسے مت دبائیے

ویڈیو: نئی دہلی میں میٹنگ کر 7 سابق انفارمیشن کمشنر نے آر ٹی آئی قانون میں مرکز کی مودی حکومت کے ذریعے ترمیم کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ قدم انفارمیشن کمشنروں کی آزادی اور خود مختاری پر حملہ ہے۔

آر ٹی آئی قانون کافی غور وفکر  کے بعد بنا تھا، اس میں ترمیم کر کے اس کو کمزور کیا جا رہا: ارونا رائے

مشہور سماجی کارکن ارونا رائے نے کہا کہ اس قانون کو لوک سبھا میں لمبی بحث اور صلاح مشورہ کے بعد پاس کیا گیا تھا اور موجودہ حکومت کی نئی تبدیلی آر ٹی آئی کو بےحد کمزور کرنے والی ہے۔

آر ٹی آئی قانون کو ختم کرنا چاہتی ہے حکومت، ہر شہری کمزور ہوگا: سونیا گاندھی

یو پی اے صدر سونیا گاندھی نے لوک سبھا سے منظور ہوئے آر ٹی آئی ترمیم بل کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو وسیع غوروفکر کے بعد بنایا گیا اور پارلیامنٹ نے اس کو اتفاق رائے سے منظور کیا۔ اب یہ ختم ہونے کی کگار پر پہنچ گیا ہے۔

سیاسی پارٹیوں کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لانے کے لیے سپریم کورٹ میں عرضی دائر

بی جے پی رہنما اور وکیل اشونی اپادھیائے نے عرضی دائر کرتے ہوئے اس معاملے میں ہدایت دینے کا مطالبہ کیا ہے کہ سبھی رجسٹرڈ اور منظور شدہ پارٹیاں 4 ہفتے کے اندر پبلک انفارمیشن آفیسر ، پبلک اتھارٹی کی تقرری کریں اور آرٹی آئی قانون 2005 کے تحت جانکاریوں کو عام کریں۔

آر ٹی آئی کے دائرے میں آئیں سیاسی جماعت، عدلیہ، میڈیا اور صنعت کار: راہل گاندھی

کانگریس صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت آر ٹی آئی قانون کو ہی تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بد عنوانی پر حملے کے کئی طریقے ہیں جن میں لوک پال بھی ہے، لیکن اس کی اجازت ہی نہیں دی جا رہی۔

سپریم کورٹ نے مرکز سے پوچھا، انفارمیشن  کمشنر کے عہدے پر صرف نوکرشاہوں کی ہی تقرری کیوں ہوئی

مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کمشنر کی تقرری کے لئے بنائی گئی کمیٹی نے 14 ناموں کو شارٹ لسٹ کیا تھا جس میں سے 13 نوکرشاہ تھے۔ جس پر جسٹس سیکری نے کہا کہ ہم تقرری کو غلط نہیں ٹھہرا رہے ہیں۔ لیکن جب غیرنوکرشاہوں کے نام بھی تھے، تو ان میں سے کسی کی تقرری کیوں نہیں کی گئی۔

کیوں مودی حکومت انفارمیشن کمشنر کے عہدے کے لئے نوکرشاہوں کو ترجیح دے رہی ہے؟

سینٹرل انفارمیشن کمیشن میں حال ہی میں 4 انفارمیشن کمشنر وں کی تقرری کی گئی ہےجوسابق نوکرشاہ ہیں۔ حالانکہ آر ٹی آئی قانون کی دفعہ 12 (5) بتاتی ہے کہ انفارمیشن کمشنر کی تقرری قانون، سائنس اور ٹکنالوجی، سماجی خدمات، ایڈمنسٹریشن، صحافت یا حکومت کے شعبے سے کی جانی چاہیے۔

آرٹی آئی قانون کے غلط استعمال کی کوئی جانکاری نہیں ہے: مرکزی حکومت

یونین منسٹر جتیندر سنگھ نے لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آرٹی آئی قانون، 2005 کے غلط استعمال کی کوئی جانکاری حکومت ہند کے علم میں نہیں ہے۔ غلط استعمال سے بچنے کے لئے آر ٹی آئی قانون میں پہلے سے ہی اہتمام کیا گیا ہے۔

آر ٹی آئی ترمیم کی مخالفت میں اترے کارکن، سابق انفارمیشن کمشنر نے لکھا صدر جمہوریہ کو خط

سابق سینٹرل انفارمیشن کمشنر شری دھر آچاریہ لو نے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو خط لکھ‌کر انفارمیشن کمشنر کی تقرری اورآر ٹی آئی قانون میں ترمیم نہیں کرنے کی مانگ کی ہے۔

مدھیہ پردیش : آر ٹی آئی کارکن سے جانکاری مانگنے پر وصول کیا  گیا جی ایس ٹی

سینٹرل انفارمیشن کمیشن کے حکم کے مطابق آر ٹی آئی پر جی ایس ٹی لگانا قانونی طور پر غلط ہے۔ مدھیہ پردیش کے سماجی کارکن اجئے دوبے نے بتایا کہ مدھیہ پردیش ہاؤسنگ اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ بورڈ سے اطلاع مانگنے پر ان کے ذریعے کی گئی ادائیگی میں سی جی ایس ٹی اور ایس جی ایس ٹی دونوں شامل تھے۔

آر ٹی آئی کارکنوں کے قتل اور ظلم وستم سے متعلق جانکاری دینے سے حکومت کا انکار

مرادآباد کے آر ٹی آئی ایکٹوسٹ سلیم بیگ نے آر ٹی آئی کے تحت پوچھا تھا کہ 2005 میں آر ٹی آئی قانون نافذ ہونے کے بعد سے اب تک کتنے کارکنوں پر ظلم وستم کئے جانے، جیل بھیجے جانے اور ان کے قتل کے معاملے سامنے آئے۔ […]