بشیر بدر: غزل کا یہ اجالا ہمارے ساتھ رہے گا …
بشیر بدر کی شاعری کی دنیا محبت سے شروع ہوتی ہے، مگر محبت پر ختم نہیں ہوتی۔ اس میں گھر ہے، شہر ہے، فاصلہ ہے، تنہائی ہے، تشدد ہے، سماجی تضاد ہے اور انسان کی ٹوٹتی ہوئی عزت نفس ہے۔
بشیر بدر کی شاعری کی دنیا محبت سے شروع ہوتی ہے، مگر محبت پر ختم نہیں ہوتی۔ اس میں گھر ہے، شہر ہے، فاصلہ ہے، تنہائی ہے، تشدد ہے، سماجی تضاد ہے اور انسان کی ٹوٹتی ہوئی عزت نفس ہے۔
ملک بھر کے ادیبوں نے سال 2023 کے لیے دیے گئے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ کے حوالے سے ‘نااہل جیوری’ کے ذریعےاس سال نامزد سینئر ادیبوں کی اہم تخلیقات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے اکیڈمی میں اردو ایڈوائزری بورڈ کے کنوینر چندر بھان خیال کو فوراً برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزارت ثقافت سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
جب اس وقت کشمیری ثقافت، انفرادیت اور تہذیب انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے اور ایک طرح سے بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، ایسے وقت میں راہی کا منظر سے غائب ہونا کشمیری ادب کے لیے ایک بڑا نقصان ہے
ادبی میدان میں عورت اور مرد کی تخصیص انھیں قطعی نا پسند تھی۔ عینی نے ساری زندگی عورت سے جڑے ان ٹیبوز کو توڑا جس کے تحت عورت کمزور تصور کی جاتی ہے اور بغیر ہم سفر کے اس دنیا میں اس کا رہنا تقریباً ناممکن تصور کیا جاتا ہے۔
گووا کونکنی اکادمی کی ایک کمیٹی نے کونکنی شاعر نلبا کھانڈیکر کی کتاب ‘دی ورڈس’ کی نظم‘گینگ ریپ’ کے دولفظوں پر اعتراض کیا ہےاور اس کی خریداری اور نشر و اشاعت پر روک لگا دی ہے۔ اسی نظم کے لیے کھانڈیکر کو 2019 میں ساہتیہ اکادمی نے ایوارڈ دیا تھا۔