ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ ہیں۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان مرکزی حکومت بھلے ہی ایل پی جی کی قلت سے انکار کر رہی ہے، لیکن گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ گیس کی قلت سے پریشان لوگوں کے ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آ رہےہیں۔ وہیں، دہلی میں کچھ اٹل کینٹین بند ہیں، کئی ہاسٹل میس اور گردواروں کے لنگر بھی سلنڈر کی کمی سے متاثر ہو رہے ہیں۔
اگر تہران جل سکتا ہے تو انقرہ اور استنبول دوحہ، بغداد، بیروت اور مغربی ایشیا کے دیگر شہر کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ عام لوگ محسوس کرتے ہیں کہ جغرافیہ اب حفاظت کی ضمانت نہیں۔ درست نشانے والے میزائل اور ڈرون فاصلے سکیڑ دیتے ہیں۔ نقشہ ممکنہ اہداف کے جال میں بدل چکا ہے۔
محمد بن سلمان نے یہ بھانپ لیا ہے کہ ٹرمپ کے لیے ’اصول‘ نہیں بلکہ ’نتائج‘ اہم ہیں۔ ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ کو قائل کرنا دراصل امریکہ کو مشرق وسطیٰ کی اس مسلکی جنگ میں ایک ’ہٹ مین‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے جس کی جڑیں سنی-شیعہ عصبیت میں پیوست ہیں۔ سلمان کی لابنگ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں ’اخلاقیات‘ کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے۔ جب ایک طاقتور اسلامی ملک دوسرے اسلامی ملک کے خلاف حملے کی وکالت کرے، تو ’او آئی سی‘ اور ’اسلامی بلاک‘ جیسے نعرے محض سیاسی فریب نظر آتے ہیں۔
سعودی عرب نے ہندوستان کے پرائیویٹ حج کوٹے میں 80 فیصد کی کٹوتی کردی ہے۔ جس کے بعد پی ڈی پی سربراہ مفتی نے وزارت خارجہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سعودی عرب کی حکومت کے ساتھ اٹھائے۔ وہیں، عمر عبداللہ نے وزیر خارجہ سے تمام متاثرہ عازمین حج کے مفادمیں کوئی حل نکالنے کی اپیل کی ہے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ سبھی گروپ مل کر ایک وسیع البنیاد حکومت بناکر عالم اسلام کے سینے پر موجود اس ناسور کو ختم کروانے میں مدد کرکے عوام کو بھنور سے نکال کر ان کو پر امن زندگی جینے کا موقع فراہم کرواتے اور عالمی اور علاقائی طاقتوں کا کھلونا بننے سے احتراز کرتے۔
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امورمختار عباس نقوی نے کہا کہ کورونا وائرس کےمدنظرسعودی عرب حکومت کے فیصلے کااحترام کرتے ہوئے اور لوگوں کی صحت اور سلامتی کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
جو لوگ جنرل سلیمانی کو سنیوں کا دشمن اور عرب مخالف قرار دیتے ہیں، ان کےلیے عرض ہے کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کے بعد جب اسامہ بن لادن کے مرشد الولید، اسامہ کی فیملی اور دیگر لیڈروں کے لیے پناہ گاہیں تلاش کررہے تھے، تو دسمبر 2001 میں انہوں نے ایرانی سرحد پر دستک دی، جہاں جنرل سلیمانی نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس قتل کے حوالے سے ایسے شواہد ملے ہیں، جن کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ محمد بن سلمان کے ساتھ ساتھ دیگر سعودی اہلکار اس میں ملوث ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے […]
مدیر کی حیثیت سے جمال خاشقجی نے ایسی تحریریں شائع کیں جو سعودی حکام کی قدامت پسند سوچ سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔مگر ان کی اسی انقلابی سوچ کی وجہ سے مغرب میں ان کے بہت سارے مداح پیدا ہو گئے جو انھیں ایک آزاد خیال اور ترقی پسند صحافی کے طور پر دیکھنے لگے۔
اس بارے میں حج کمیٹی آف انڈیا کے ممبئی ہیڈ کوارٹر سے رابطہ کئے جانے پر یہ جانکاری ملی کہ اس طرح عام لوگوں کو حاجیوں کی خدمت کے لئے سعودی عرب نہیں بھیجا جاتا ہے۔
پٹنہ میں واقع حج بھون سے ملی جانکاری کے مطابق اس سال ہوئے اچھے خاصے اضافہ کی وجہ سے کئی لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تو کچھ لوگ آخری وقت میں اپنا سفر کینسل کرنے پر مجبور بھی ہوئے ہیں۔
معلوم پڑتا ہے مداوی الرشید شاہی خاندان کے اندر پنپ رہی کسی بغاوت کی طرف اشارہ کر نا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کسی گمنام خط کا تفصیل سے ذکر کیا ہے، جو ستمبر 2015 میں آن لائن شائع ہو اتھا۔
کھیل کی دنیا:ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر ٹاس نہیں ہوگا تو پھر اس بات کا فیصلہ کیسے ہوگا کہ کون سی ٹیم پہلے بلے بازی کرےگی یا گیند بازی۔اس تعلق سے ایسا مانا جا رہا ہے کہ مہمان ٹیم کو بلے بازی یا گیند بازی کا انتخاب کرنے کو کہا جا سکتا ہے۔
غزہ کے باشندے اسباب زندگی کے تحفظ کےلیے مزاحمت کررہے ہیں ، نوجوانوں کے پاس گھر خریدنے یا شادی کے پیسے نہیں ہیں اس کی وجہ سے وہ شادیا ں ٹال رہے ہیں اور خودکشی کا تناسب کافی بڑھ چکا ہے۔
کٹھوا گینگ ریپ کی خبر کے علاوہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے تاحیات نااہل قرار دیے جانے کی خبر کو مشرق وسطی کے اخباروں نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا یہ حالیہ بیان کہ اسرائیل کو اس کی بقا کا حق حاصل ہے، اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ سعودی عرب اب اسرائیل کے ریاستی وجود کو تسلیم کرنا چاہتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا آخر اب ہی کیوں؟
سعودی عرب کے طاقتور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنی سرزمین کا ’حق‘ حاصل ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب کے کسی اہم رہنما نے کبھی اتنے کھل کر اسرائیل کے اپنی سرزمین کے حق کو تسلیم نہیں کیا تھا۔
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے امریکی دورے سے چند دن قبل ایران کو شدید دھمکیاں دی ہیں۔ محمد بن سلمان کا دورہ امریکا انیس مارچ سے شروع ہو گا۔
’وحشیانہ بمبار ی شروع ہونے کے بعد غوطہ سے جو تصویریں یا مناظر ہم تک پہنچ رہے ہیں وہ خون اور تباہ شدہ گھروں کے گردوغبار سے آلودہ انسانوں کی تصویریں ہیں جس میں وہ یا تو آخری سانسیں لے رہے ہیں یا ان کی سانسیں بند ہوچکی ہیں۔‘
سعودی عرب میں رواں برس پانچ ہزار فیسٹیول اور کنسرٹ منعقد ہو رہے ہیں۔ قدامت پسند معاشرے کے طور پر پہنچانا جانے والا سعودی عرب اب اپنا ایک نیا تشخص بنانے کی تگ و دو میں ہے۔
سعودی حکومت کے مطابق ملک میں پہلا سینما گھر اگلے برس مارچ میں کھول دیا جائے گا اور سال 2030 تک ملک بھر میں 300 سے زائد سینما گھر ہوں گے۔ سری نگر:جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سعودی عرب میں سینما گھر کھولنے کے فیصلے […]
شہزادہ محمّد کو الیکشن تو نہیں جیتنا ہے مگر اقتدار میں آنے کے لئے عوامی حمایت ضرور چاہیے ہوگی کیونکہ اکیسویں صدی کا شہری، چاہے وہ سعودی ہی کیوں نہ ہو، اپنی حصّہ داری چاہتا ہے۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں ہوئی گرفتاریوں کے بعد ولی عہد شہزادہ […]
سعودی قانون 45 سال سے اوپر کی عورتوں کو بغیر محرم کے سفر کی اجازت دیتا ہے۔ ہم نے سعودی سفارت خانے سے اس کی تصدیق بھی کر لی ہے۔ ہم نے صاف طور پر کہا ہے کہ جس کا مسلک اس کی اجازت دیتا ہے اسے جانے […]
اس قانون کے ہاتھوں سعودی خواتین اورہم جیسی غیرملکی خواتین جو برسہا برس سے وہاں رہتی ہیں کس قدر مجبور تھیں،اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے ۔ مرحبا!کالے عبایہ (سعودی عرب میں خواتین جو برقعہ پہنتی ہیں وہ عبایہ کہلاتا ہے )اور پورے حجاب میں ڈرائیونگ سیٹ پر […]
روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اس خبر کو صفحہ اول پر جگہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عورتوں میں اس فیصلے کے بعد خوشی کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ نئی دہلی : سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے ایک تایخ ساز فیصلے میں اس بات کی اجازت […]