SIR exercise

پاسپورٹ شہریت کا ثبوت ہے یا نہیں: تنازعہ کے بعد وزارت خارجہ نے اپنے سابقہ بیان سے دوری اختیار کی

گزشتہ ماہ وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر نے کہا تھا کہ ہندوستانی پاسپورٹ کو شہریت ثابت کرنے والے دستاویز کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اب وزارت خارجہ نے منگل کے روز اپنے سابقہ رخ سے الگ اس بیان سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ ایک ایسا دستاویز ہے، جو ہندوستانی شہریوں کے ملک سے باہر جانے کے عمل کو منظم کرتا ہے۔

ایس آئی آر کا تیسرا مرحلہ: میزورم، اڑیسہ، منی پور اور سکم کے 22 لاکھ ووٹر باہر

ایس آئی آر کے عمل سے پہلے میزورم، اڑیسہ، منی پور اور سکم میں مشترکہ طور پر ووٹر کی تعداد 3.68 کروڑ تھی، جو اب گھٹ کر 3.46 کروڑ رہ گئی ہے۔ ان ریاستوں کی مسودہ ووٹر لسٹ سے اتنی ہی تعداد میں ووٹروں کو باہر رکھا گیا ہے۔

پاسپورٹ تنازعہ: کیا پردے کے پیچھے مودی حکومت کا کوئی خوفناک عمل جاری ہے؟

کم و بیش ایک دہائی پہلے تک سرکاری خدمات سب کے لیے یکساں طور پر دستیاب تھیں اور کسی کی شہریت پر سوال نہیں اٹھتا تھا۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو من مانےڈھنگ سے حق رائے دہی، سرکاری فلاحی اسکیموں کے فائدےحتیٰ  کہ ڈومیسائل سے متعلق حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا – پاسپورٹ شہریت کا دستاویز نہیں، اپوزیشن نے اس بیان کو لغو بتایا

وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جب ہندوستانی بیرون ملک سفر کرتے ہیں تو پاسپورٹ ان کی قومیت کی تصدیق کرتا ہے، لیکن دراصل یہ ایک سفری دستاویز ہے شہریت کا دستاویز نہیں ہے۔ اس بیان کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ پھر شہریت کا ثبوت کون سا دستاویز ہے؟