راجستھان کے چتور گڑھ ضلع کا معاملہ۔ پولیس کے مطابق میواڑ یونیورسٹی کے بی فارما کے طالبعلم سہراب قیوم نے انسٹاگرام اسٹوری پر کچھ قابل اعتراض تبصرے پوسٹ کیے تھے۔ قیوم جموں و کشمیر کے راجوری علاقے کے رہنے والے ہیں۔ جموں کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے ان کے اقدامات کی ‘سخت مذمت’ کی ہے اور ان کے تئیں نرمی برتنے کی استدعا بھی کی ہے۔
کشمیر سے باہر کے ایک طالبعلم کی جانب سے پیغمبر کے حوالےسے کیے گئے سوشل میڈیا پوسٹ کے خلاف بڑھتے ہوئے احتجاج کے درمیان این آئی ٹی، سری نگر نے موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان کرتے ہوئے طالبعلموں سے ہاسٹل چھوڑنے کو کہا ہے۔وہیں،گھاٹی کے کالجوں میں آف لائن کلاسز کو رد کرتے ہوئے آن لائن کلاسز چلانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
گزشتہ 9 اگست کی رات رتلام ضلع میں مسلمانوں کے ایک گروپ نے انسٹاگرام پر اسلام مخالف پوسٹ ڈالنے والے شخص کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاتھا۔ الزام ہے کہ احتجاج کے دوران پوسٹ کرنے والے شخص کے بارے میں مبینہ طور پر ‘سر تن سے جدا’ کا متنازعہ نعرہ لگایا گیا تھا۔
معاملہ گجرات کے موربی ضلع کا ہے۔ ڈسٹرکٹ پرائمری ایجوکیشن افسر کے دفتر نے سوموار کی شام ایک آرڈرجاری کرکے اسسٹنٹ ٹیچر جگنیش ودھیر کوفوری اثر سے برخاست کر دیا اور انہیں پاس کے وانکانیر تعلقہ میں ٹرانسفر کر دیاہے۔
پولیس نے بتایا کہ شیوساگر ضلع کے گنیاندیپ گگوئی کو ممنوعہ تنظیم یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ (انڈی پینڈنٹ) کی حمایت میں پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
گزشتہ ایک مہینے میں ہی اکثریت سے دوبارہ اقتدار میں آئی نریندر مودی حکومت نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ اپنی تنقید کے تئیں صبروتحمل کا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ہارڈ کور نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ اور آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کی تنقید کرتےہوئے پوسٹ لکھا تھا،جس پر وارانسی میں ششانک شیکھر نامی ایک وکیل نے معاملہ درج کرایا ہے۔ شیکھر آر ایس ایس کے ممبر بھی ہیں۔