اتر پردیش میں ایس آئی آر کے تحت جاری کی گئی نئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں کئی گڑبڑیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ بلند شہر کے شکارپور تحصیل کے پٹھان ٹولہ کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پتے پر ایسے ووٹروں کے نام جوڑے جا رہے ہیں، جنہیں وہ جانتے تک نہیں۔ یہاں چھ سے زیادہ مسلم خاندانوں کے پتے پر 56 ہندو ووٹروں کو رجسٹرڈ دکھایا گیا ہے۔
لوک سبھا میں منگل کو انتخابی اصلاحات پر بحث شروع ہوئی۔ اس دوران اپوزیشن نے 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی کارروائی آر کی خامیوں کو اجاگر کیا۔ بحث کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر غیر جانبداری کے فقدان کا الزام لگایا اور بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔
پچھلے تین دنوں میں اتر پردیش کے دو اور راجستھان میں ایک بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او)کی موت ہوگئی۔ ان کے اہل خانہ نے موت کی وجہ ایس آئی آر سے متعلق کام کے دباؤ کو قرار دیا ہے۔ وہیں،الیکشن کمیشن نے ہلاکتوں پر کوئی تبصرہ نہ کرتے ہوئے دو ویڈیو جاری کرکے بتایا ہے کہ بی ایل او کام کے دباؤ کا مقابلہ کس طرح کر رہے ہیں، ڈانس بریک لے رہے ہیں اور اپنے کام کے لیے کیسے ہمت حاصل کر رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا یہ بیان کہ 1 لاکھ پولنگ بوتھ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے میں 273 سال لگیں گے، بیل گاڑی کے دور کی یاد دلاتا ہے۔ کیا کمیشن نہیں جانتا کہ ڈیٹا اینالیٹکس میں ہندوستان نے کتنی ترقی کرلی ہے؟
بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کو لے کر سپریم کورٹ میں بحث شہریت ثابت کرنے کے معاملے پر مرکوز ہوگئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، اس کوشہریت کا ثبوت مانگنے کا اختیارہے۔ لیکن وزارت داخلہ ایسے دستاویزوں کی فہرست نہیں دے پا رہا ہے جو شہریت کو ثابت کرتے ہوں۔