میڈیا ریگولیٹری ادارے این بی ڈی ایس اے نے سدھیر چودھری کے سابق پروگرام ’بلیک اینڈ وہائٹ‘ میں تاج محل کو ہندو مندر بتائے جانے سے متعلق دعوے کے حوالے سے غیر جانبداری کے مسئلے پر سوال اٹھایا ہے۔ ادارے نے کہا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے نتائج کو نظر انداز کیا گیا۔ ادارے نے آج تک کو پروگرام میں ترمیم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
میڈیا کا کام حکومت کی طے شدہ باتوں کو من وعن دہرانا نہیں، بلکہ سوال پوچھنا ہے۔ حکومت کی باتوں کا پروپیگنڈہ کرنا اس کے ترجمانوں کا کام ہے۔ اس معاملے میں ہیلی لیونگ حق بجانب ہیں کہ، ’صحافت بعض اوقات تصادم پر مبنی ہوتی ہے۔‘ اگر شہریوں کو بھیڑوں میں تبدیل نہیں ہونے دینا ہے یا ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کرنا ہے، تو سوال ضروری ہیں۔
پی ایم مودی سے میڈیا کی آزادی پر سوال پوچھنے کے بعد نارویجین صحافی ہیلی لیونگ سوشل میڈیا پر حملوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہیں ’اینٹی انڈیا‘ اور ’سیاسی ایجنٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ تنقید اب پیشہ ورانہ اختلاف سے آگے بڑھ کر ذاتی زندگی پر حملے اور کردار کشی کی مہم تک پہنچ گئی ہے۔ یہاں تک کہ صحافت کے پیشے سے وابستہ بعض اینکر بھی ان کےسوال پوچھنے سے ناراض ہیں۔
ویڈیو: گزشتہ دنوں نیوز چینل آج تک کے نیوز اینکر سدھیر چودھری کے خلاف کرناٹک حکومت نے بدنیتی کے ساتھ غلط جانکاری دینے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ سدھیر چودھری نے چینل کے اپنے شو ‘بلیک اینڈ وہائٹ’ میں دعویٰ کیا تھا کہ کرناٹک حکومت کی سواولمبی سارتھی اسکیم کا فائدہ صرف مسلمانوں کو ملے گا۔ اس بارے میں مزیدجانکاری دے رہی ہیں دی ساؤتھ فرسٹ کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انوشا روی سود۔
جی نیوز کے مدیر سدھیر چودھری نے گزشتہ11 مارچ کو اپنے ٹی وی شو ڈی این اے میں جہاد پر بات کرتے ہوئے ایک چارٹ دکھایا تھا، جس میں کئی طرح کے جہاد پر چرچہ کی گئی تھی۔ کیرل کے ایک وکیل نے اسلام کی توہین کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔
زی نیوز کے ایڈیٹران چیف سدھیر چودھری نے اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ مہوا موئترا کے ذریعے پارلیامنٹ میں فاشزم کو لےکر کی گئی تقریر’ چوری کی ہوئی‘تھی۔