میڈیا ریگولیٹری ادارے این بی ڈی ایس اے نے سدھیر چودھری کے سابق پروگرام ’بلیک اینڈ وہائٹ‘ میں تاج محل کو ہندو مندر بتائے جانے سے متعلق دعوے کے حوالے سے غیر جانبداری کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ ادارے نے کہا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے نتائج کو نظر انداز کیا گیا۔ ادارے نے آج تک کو پروگرام میں ترمیم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

آج تک کے اس وقت کے اینکر سدھیر چودھری کے پروگرام’بلیک اینڈ وہائٹ‘کا اسکرین شاٹ۔ این بی ڈی ایس اے نے اسی پروگرام کے تاج محل سے متعلق حصے میں ترمیم کی ہدایت دی ہے۔ (تصویر: یوٹیوب اسکرین شاٹ)
نئی دہلی: نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی (این بی ڈی ایس اے) نے ٹی وی چینل آج تک کو اپنے ایک پروگرام میں تاج محل سے متعلق حصے میں تبدیلی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ میڈیا ریگولیٹری ادارے کا کہنا ہے کہ پروگرام میں تاج محل کو ہندو مندر بتائے جانے کے دعوے کو خاطر خواہ حقائق پر مبنی توازن کے بغیر پیش کیا گیا، جس سے غیر جانبداری کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی۔
بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، این بی ڈی ایس اے کے چیئرمین جسٹس اے کے سیکری کی سربراہی والی بنچ نے 28 مئی کو جاری اپنے حکم میں آج تک سے کہا کہ وہ اپنے پروگرام کے اس حصے میں ضروری ترمیم کرے، جو تاج محل سے متعلق تھا۔
یہ معاملہ 29 نومبر 2024 کو نشر ہونے والے سدھیر چودھری کے پروگرام ’بلیک اینڈ وہائٹ‘سے متعلق ہے۔ (اب سدھیر چودھری ڈی ڈی نیوز پر’ڈی کوڈ‘نامی پرائم ٹائم شو کی میزبانی کرتے ہیں۔) اس ایپی سوڈ میں سنبھل جامع مسجد، اجمیر درگاہ اور تاج محل جیسی تاریخی عمارتوں کے بارے میں کیے جانے والے دعووں پر بات کی گئی تھی۔
اس پروگرام کے خلاف وکیل اندرجیت گھورپڑے نے شکایت درج کرائی تھی۔ ان کا الزام تھا کہ نشریات میں مسلم حکمرانوں کی جانب سے ہندو مندروں کو منہدم کیے جانے کی یکطرفہ کہانی پیش کی گئی اور تاج محل کے بنیادی طور پر ہندو مندر ہونے کے اس دعوے کو جگہ دی گئی جسے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) پہلے ہی خارج کر چکا ہے۔
آج تک کی پیرنٹ کمپنی ٹی وی ٹوڈے نیٹ ورک لمیٹڈ نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ پروگرام ایک طرح کی ڈاکیومنٹری کے انداز میں تیار کیا گیا تھا، جس میں کتابوں، رپورٹس اور عوامی طور پر دستیاب ذرائع کی بنیاد پر مختلف دعوے پیش کیے گئے۔ چینل کا یہ بھی کہنا تھا کہ پروگرام کے دوران اینکر نے کئی بار واضح کیا کہ اس کا مقصد کسی مذہبی مقام کو گرانے کا مطالبہ کرنا یا فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا نہیں، بلکہ عوامی ڈسکورس میں موجود تاریخی دعووں کا جائزہ لینا ہے۔
این بی ڈی ایس اے نے دسمبر 2025 میں اپنے ابتدائی حکم میں اس موقف کو قبول کر لیا تھا۔ اس وقت ادارے نے مانا تھا کہ پروگرام تاریخی واقعات کی تفصیل کے طور پر پیش کیا گیا تھا اور اینکر نے اپنے دعوے کے حق میں شائع شدہ مواد اور اے ایس آئی کی رپورٹس کا بھی حوالہ دیا تھا۔ اسی بنیاد پر شکایت مسترد کر دی گئی تھی۔
تاہم، گھورپڑے نے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دی۔ نظرِ ثانی کے دوران این بی ڈی ایس اے نے پایا کہ پروگرام کے مختلف حصوں میں ذرائع کو یکساں انداز میں استعمال نہیں کیا گیا تھا۔
اتھارٹی نے کہا کہ قطب مینار سے متعلق دعوے پر گفتگو کرتے وقت اے ایس آئی کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا، لیکن تاج محل کے معاملے میں اے ایس آئی کے ان نتائج کا ذکر نہیں کیا گیا جو مندر سے متعلق دعوےکو مسترد کرتے ہیں۔ اس سے پروگرام کی غیر جانبداری متاثر ہوئی۔
اپنے حکم میں این بی ڈی ایس اے نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ تمام فریقوں کو برابر وقت دیا گیا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ تاج محل کے بارے میں پیش کیے گئے دعوے کے برعکس کوئی حقائق پر مبنی یا سرکاری موقف پیش ہی نہیں کیا گیا۔ خصوصی طور پر ایسے سرکاری ریکارڈز، جو ان دعووں کی تردید کرتے ہیں، مکمل طور پر نظر انداز کر دیے گئے۔
ادارے نے کہا کہ اسی وجہ سے پروگرام کا تاج محل سے متعلق حصہ اس کے ضابطہ اخلاق میں طے شدہ غیر جانبداری اور توازن کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
تاہم، این بی ڈی ایس اے نے شکایت میں اٹھائے گئے دیگر نکات پر دوبارہ غور کرنے سے انکار کر دیا۔ ان میں پروگرام کے مبینہ فرقہ وارانہ لہجے، عبادت گاہوں سے متعلق (خصوصی دفعات) ایکٹ 1991 کے حوالے کی عدم موجودگی، اور سنبھل سے متعلق رپورٹنگ پر اٹھائے گئے سوال شامل تھے۔
اتھارٹی نے معاملہ یہیں ختم کرتے ہوئے آج تک کو صرف تاج محل سے متعلق حصے میں ترمیم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس معاملے میں چینل پر کوئی مالی جرمانہ عائد نہیں کیا گیا ہے۔
