tagore

سوال محض ایک مجسمے کا نہیں، ہمارے تاریخی شعور اور سیاسی حافظے کے زوال کا ہے

مجسمے صرف پتھر یا دھات کے ڈھانچے نہیں ہوتے۔ وہ اس بات کی علامت ہوتے ہیں کہ ایک معاشرہ کن نظریات، جدوجہد اور یادوں کو اپنی معاشرت میں جگہ دینا چاہتا ہے۔ جب سیاست حافظے اور یادداشت  کے انہدام کی شکل اختیار کر لے، تو پھر کوئی بھی علامت محفوظ نہیں رہتی- نہ لینن، نہ گاندھی، نہ نہرو، نہ امبیڈکر۔

ہر درد کی دوا—بھارت ماتا کی جے

انڈین نیشنل ازم:اگر آپ کو ڈر نہیں لگتا تو اس کا مطلب آپ ہوش میں نہیں ہیں…میں چاہتا ہوں کہ آپ ڈریں۔ جس دن ڈر سما جائے گا، آپ کے ہوش ٹھکانے لگ جائیں گے۔ اور تب آپ بول اٹھیں گے۔ ہم سب بول اٹھیں گے۔

رام چندر گہا کا مضمون : ٹیگور نہیں ،دشرتھ دیب ہیں تریپورہ کے ہیرو

تریپورہ کی کہانی کچھ ایسی ہے، جیسے یہاں کے لوگوں کو بتایا جا رہا ہو کہ ان کے لئے سب سے زیادہ اہم اور لائق ستائش وہ شخص ہے، جو اپنی زندگی میں کبھی تریپورہ آیا ہی نہیں۔ کوئی دس سال پہلے شانتی نکیتن جانا ہوا۔ وہاں میری […]

شانتی رنجن بھٹا چاریہ : لالٹین کی روشنی میں کتاب لکھنے والا ادیب اور دانشور

“وہ سوچ رہا تھا ادیب کے گھر میں بھی مٹی کے چولہے ہیں ۔اگر اس کے گھر چولہے میں آگ نہ جلے تو پیٹ کی آگ کیسے بجھے گی اور جب پیٹ میں آگ دہک رہی ہو تو ادیب کہانی کیوں کر لکھے گا۔اگر ادب کو زندہ رکھنا […]