واقعہ ہردوئی ضلع کے بھدیچہ گاؤں کا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 20 سالہ دلت لڑکے کو مبینہ طور پر دوسری ذات کی ایک لڑکی سے تعلق کی وجہ سے لڑکی کے گھر والوں نے چار پائی سے باندھ کر زندہ جلا دیا۔معاملے کی جانکاری کے بعد اس صدمہ سے لڑکے کی ماں کی بھی موت ہو گئی۔
اتوار کو ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر نے اعلان کیا تھا کہ ان کی ریاست میں آسام کی طرز پر این آر سی نافذ کیا جائےگا۔
گجرات کے وڈودرا واقع ایم ایس یونیورسٹی کا ہےمعاملہ۔ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے ایک بی جے پی ممبر نے کہا کہ ہم نے طلبا اور ملازمین سے اپنی مرضی سے ریلی میں شامل ہونے کو کہا ہے، کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی گئی۔
پولیس نے بتایا کہ 45 سالہ سنجے گوتم سبھارتی یونیورسٹی میں سائنس ڈپارٹمنٹ آفس کے سپرنٹنڈنٹ تھے۔یونیورسٹی سے گھر لوٹنے کے دوران تین بائیک سے آئے 9 بدمعاشوں نے ان کو گھیر لیا اور پھر مبینہ طور پر پیٹ پیٹکر ان کا قتل کر دیا۔
اتر پردیش میں وزراء کی تنخواہ اور بھتہ سے متعلق قانون جب بنا تھا تب وشوناتھ پرتاپ سنگھ ریاست کے وزیراعلیٰ تھے۔ اس قانون نے اب تک 19 وزیراعلیٰ اور تقریباً 1000 وزراء کو فائدہ پہنچایا ہے۔ نئی دہلی:اتر پردیش کے وزیراعلیٰ اور سبھی وزراء اپنے انکم ٹیکس […]
اتر پردیش کے سدھارتھ نگر ضلع کا معاملہ ہے۔ نوجوان کی شکایت کے بعد سب انسپکٹر ویریندر مشر اور ہیڈ کانسٹبل مہیندر پرساد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
معاملہ نوئیڈا سیکٹر 58 کا ہے ، جہاں بدھ کو ایک صحافی گاڑی چیکنگ کے دوران ہوئی پولیس جھڑپ کا ویڈیو بنارہا تھا ۔ ویڈیو بنانے سے ناراض پولیس نے اس کو پیٹا اور رات بھر حوالات میں رکھا۔
ضلع ایجوکیشن افسر راکیش ویاس نے بتایا کہ اس کا مقصد طلبا کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کے بارے میں بتانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ،ہمیں کسی ایک دن اس کوکرنا تھا اس لیے وزیر اعظم مودی کے یوم پیدائش کو اس کے لیے منتخب کیا گیا۔
جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد حراست میں لیے گئے 285 لوگوں کو اتر پردیش کی مختلف جیلوں میں رکھا گیا ہے ۔ آگر ہ سینٹرل جیل میں 1933 قیدیوں میں 85 کشمیری قیدی ہیں حالاں کہ جیل کی صلاحیت محض 1350 کی ہے۔
اسپیشل جج نے دہلی ہائی کورٹ سے ایمس میں عدالت لگا کر بند کمرے میں کارروائی شروع کرنے کی اجازت مانگی تھی۔
اتر پردیش کے اعظم گڑھ میں سرکاری اسکول کے اندر بچوں کے جھاڑو لگانے کا ویڈیو بنانے والے ایک صحافی کو پولیس نے معاملہ درج کرکے گرفتار کر لیا ہے۔ وہیں بجنور میں سرکاری نل سے ایک دلت فیملی کو پانی بھرنے سے دبنگوں کے ذریعے مبینہ طور پر روکے جانے کی وجہ سے ان کے نقل مکانی کی خبر چھاپنے کے بعد پانچ صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
انٹرویو: اتر پردیش کے مرزاپور کے ایک سرکاری اسکول میں مڈ-ڈے میل کے تحت بچوں کو نمک اور روٹی دئے جانے کی خبر کرنے کی وجہ سے صحافی پون جیسوال کے خلاف ضلع انتظامیہ نے مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ دی وائر سے خصوصی بات چیت میں پون نے اس معاملے اور اپنی صحافتی زندگی کے بارے میں بتایا۔
معاملہ لکھیم پور کھیری ضلع کا ہے۔پولیس کے ذریعے برآمد سوسائڈ نوٹ میں دلت افسرترویندر کمار گوتم نے کسان یونین کے رہنماؤں اور دو گاؤں پردھان کی فیملی کے ممبروں پر ٹارچر اور ذات پات سے متعلق تبصرہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔
اترپردیش کے مرزا پور واقع اسکول میں مڈڈے میل میں نمک روٹی دیے جانے کی رپورٹ کرنے والے صحافی پر ایف آئی آر ہونے کے بعد گاؤں والوں نے کہا کہ جب تک مقدمہ واپس نہیں لیا جاتا ، تب تک اسکول کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔
مہوبا ضلع میں چرکھاری کوتوالی حلقہ کے سالٹ گاؤں میں عرس کے دوران بریانی پروسنے کی وجہ سے کشیدگی۔ ایف آئی گاؤں میں پولیس اہلکار تعینات۔ چرکھاری کوتوالی کے انچارج انسپکٹر نے بتایا کہ 23 نامزد اور 20 نامعلوم مسلمانوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پریس کونسل آف انڈیانے صحافی پون جیسوال کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنا کام کر رہے ایک صحافی کو اس طرح نشانہ بنانا بالکل غلط ہے۔
مرزاپور کے ضلع مجسٹریٹ انوراگ پٹیل نے ایف آئی آر کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا کہ کسی اسٹوری کو کرنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اگر وہ پرنٹ صحافی ہیں تو ان کو تصویریں لینی چاہیے تھی، ویڈیو کیوں بنایا۔ اس لئے ہمیں لگتا ہے کہ وہ سازش میں شامل ہے۔
گھر میں گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں دادری کے بساہڑا گاؤں میں ستمبر، 2015 میں محمد اخلاق کوپیٹ پیٹکر مار دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں تمام 18 ملزم ضمانت پر ہیں۔ ان میں سے ایک ہری اوم لوٹ پاٹ اور غازی آباد میں چرائی ہوئی جائیداد بے ایمانی سے حاصل کرنے کے کم سے کم چار معاملوں میں مطلوب تھا۔
ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ جان بوجھ کر منصوبہ بند طریقے سے اور دھوکے سےویڈیو بنایا گیا اور اس کو وائرل کرتے ہوئے سرکاری کام میں رکاوٹ پیدا کی گئی ہے۔
فیک نیوز راؤنڈ اپ: سوشل میڈیا پر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول تقریباً پانچ سال سے ہے اور کافی حد تک اس کے ذمہ دار بی جے پی کے وہ لیڈران ہیں جنہوں نے ووٹ حاصل کرنے کی غرض سے اپنی انتخابی ریلیوں میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا تھا۔
اتر پردیش کے ڈی جی پی اوپی سنگھ نے کہا کہ اب تک اس طرح کی افواہوں کی وجہ سے 82 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ایسے لوگو ں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔
پرنسپل کا کہنا ہے کہ ، ہوسکتا ہے بچوں نے یہ سب گھر میں سیکھا ہو۔ ہم نے کئی بار ان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ سب برابر ہیں لیکن اشرافیہ کے بچے دلت کمیونٹی کے بچوں سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اتر پردیش کے سمبھل ضلع میں دو بھائی اپنے بیمار بھتیجے کا علاج کرانے جا رہے تھے، جب بھیڑ نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس میں ایک بھائی کی موت ہو گئی۔ پولیس نے بتایا کہ بچہ چوری کی افواہ پھیلانے کے الزام میں تقریباً 44 لوگوں کو الگ الگ معاملوں میں گرفتار کیا گیا ہے۔
گزشتہ سال اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے چنمیانند کے خلاف درج ریپ اور اغوا کے معاملے واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
گزشتہ سال دسمبر میں اتر پردیش کے بلندشہر میں گئو کشی کے شک میں ہوئے مظاہرہ کے دوران انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کی موت ہو گئی تھی۔ اس سال مارچ میں کل 38 لوگوں کے خلاف فردجرم داخل کیا گیا تھا۔
ٹھیکے دار نے مزدوروں کو حفاظتی آلات دستیاب نہیں کرائے تھے۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مرنے والوں کے اہل خانہ کو دس-دس لاکھ روپے کی رقم مدد کے طور پر دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایک گارجین نے مقامی صحافی کو بتایا کہ ، یہاں بہت برے حالات ہیں ۔ کئی بار وہ بچوں کو کھانے میں نمک اور روٹیاں دیتے ہیں اور کئی بار نمک اور چاول۔ یہاں کبھی کبھار دودھ آتا ہے جو اکثر تقسیم نہیں کیا جاتا۔ کیلے بھی نہیں دیے جاتے ۔ گزشتہ ایک سال سے ایسا ہی چل رہا ہے۔
سوشل جسٹس اینڈ امپاورمنٹ سکریٹری نیلم ساہنی نے قبول کیا کہ سیور اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے دوران صفائی اہلکاروں کی موت کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود ان تمام معاملوں میں 10 لاکھ روپے کے معاوضے کی بھی ادائیگی نہیں کی گئی۔
اتر پردیش کے تمام 75 اضلاع میں راشن سسٹم میں شفافیت لانے کے مقصد سے کوٹہ کی دکانوں پر ای-پاش مشین لگاکرراشن دینے کا انتظام کیا گیا ہے، لیکن اس سے معاشی طور پر کمزور لوگوں کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔
گراؤنڈ رپورٹ: اتر پردیش میں گوتم بدھ نگر ضلع کے دادری واقع گوتم پوری علاقے کی ایک گلی کا نام پاکستانی والی گلی ہونے وجہ سے یہاں رہ رہے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لوگوں کو کہنا ہے کہ اس نام کی وجہ سے ان کو جلدی کہیں کام نہیں ملتا اور اسکول بچوں کو داخلہ دینے میں بھی بہانے بازی کرتے ہیں۔
بی جے پی نے اس پورے معاملے سے دوری بنالی ہے ۔ پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ، سینگر کا اخبار میں فوٹو شائع کروانا کسی کی ذاتی پسند یا خواہش ہو سکتی ہے ۔ پارٹی یا ریاستی حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
سال2018میں18ریاستوں کے170اضلاع میں سروے کرایا گیا تھا۔ اس دوران کل 86528 لوگوں نے خود کو غلاظت ڈھونے والا بتاتے ہوئے رجسٹریشن کرایا،لیکن ریاستی حکومتوں نے صرف 41120 لوگوں کو ہی غلاظت ڈھونے والا مانا ہے۔ بہار، ہریانہ، جموں و کشمیر اور تلنگانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے یہاں غلاظت ڈھونے والا ایک بھی آدمی نہیں ہے۔
ضلع جج دھرمیش شرما نے ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کے دوست ششی سنگھ کے خلاف بھی نابالغ لڑکی کے اغوا کے الزام طے کئے ہیں۔
سی بی آئی نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل اے اور اس کے ساتھیوں نے ایک ایف آئی آر درج کرائی تھی، جس میں 17 سالہ ریپ کی متاثرہ کے والد پر دیسی پستول اور پانچ کارتوس رکھنے کا الزام لگایا تھا۔
سی بی آئی نے دہلی کی تیس ہزاری عدالت میں کہا کہ جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ ملزم کلدیپ سینگر کے ذریعے جون 2017 میں متاثرہ کے ساتھ ریپ اور ششی سنگھ کے ساتھ سازش میں شامل ہونے کے الزام صحیح ہیں۔
ایم ایل اے کلدیپ سینگر کو تہاڑ جیل منتقل کرنے کا حکم دہلی کی عدالت نے دیا ہے۔ اس سے پہلے جان کا خطرہ بتانے پر گزشتہ 2 اگست کو سپریم کورٹ نے رائےبریلی جیل میں بند متاثرہ کے چچا کو تہاڑ جیل شفٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔
متاثرہ گزشتہ آٹھ دنوں سے لکھنؤ کے کے جی ایم یو ٹراما سینٹر میں بھرتی ہیں۔ سوموار کو ہاسپٹل کی طرف سے بتایا گیا کہ متاثرہ اور ان کے وکیل کی حالت نازک لیکن اسٹیبل ہے۔ متاثرہ حادثے کے نو دن بعد ہوش میں آئی ہیں جبکہ وکیل اب بھی کوما میں ہیں۔
اتر پردیش کی سیتاپور جیل کے دو ملازمین کے ذریعے مبینہ طور پر رشوت لینے سے متعلق ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملے کی جانچکے حکم دئے گئے ہیں۔ ویڈیو میں ایک جیل اہلکار ایم ایل اے سینگر سے ملنے کے لئے ایک نوجوان کو 15 دن بعد آنے کے لئے کہہ رہا ہے اور ایک دوسرے ویڈیو میں دوسرا جیل اہلکار اس سے رشوت لیتے ہوئےنظر آ رہا ہے۔
اناؤ ریپ کی متاثرہ کے چاچا نے رائے بریلی میں جان کا خطرہ بتاتے ہوئے دہلی کے تہاڑ جیل میں بھیجنے کی مانگ کی تھی۔
سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو اناؤ ریپ کیس کی متاثرہ کے ساتھ ہوئے حادثے کی تفتیش ایک ہفتہ کے اندر پوری کرنے کا حکم دیاہے۔ اس کے ساتھ ہی اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو متاثرہ کو 25 لاکھ اور اس کے وکیل کو 20 لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے۔