یہ احساس اب مسلمانوں میں گھر کرتا جا رہا ہے کہ وہ صرف گنتی میں ہیں، قیادت میں نہیں۔اسی خلا کو اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین اور پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی پُر کرنے کے لیے پر تول رہی ہے۔
اس بار بہار میں انتخابات دو مرحلوں میں ہوں گے۔ ووٹنگ 6 اور 11 نومبر کو ہوگی اور گنتی 14 تاریخ کو ہوگی۔ یہ اعلان چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے سوموار (6 اکتوبر) کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔
حال ہی میں فلاحی پالیسیوں کی آڑ میں نقدی بانٹنے کا رواج عام ہو گیا ہے، بالخصوص انتخابات کے دوران۔ غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے میں ‘فریبیز’ کو ایک بڑے مسئلےکے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو اس سے ریاستوں پر مالیاتی بوجھ پڑے گا۔
ایک مشترکہ بیان میں ان فنکاروں نے کہا کہ بی جے پی وکاس کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی لیکن ہندوتوا کے غنڈوں کو نفرت اور تشدد کی سیاست کی کھلی چھوٹ دے دی۔ سوال اٹھانے، جھوٹ اجاگر کرنے اور سچ بولنے کو ملک مخالف قرار دیا جاتا ہے۔ ان اداروں کا گلا گھونٹ دیا گیا، جہاں عدم اتفاق پر بات ہو سکتی تھی۔
اس سے پہلے 100 سے زیادہ فلم سازوں اور 200 سے زیادہ مصنفین نے ملک میں نفرت کی سیاست کے خلاف ووٹ کرنے کی اپیل کی تھی۔
فلمسازوں کا کہنا ہے کہ ماب لنچنگ اور گئورکشا کے نام پر ملک کو فرقہ پرستی کی بنیاد پر بانٹا جا رہا ہے۔ کوئی بھی شخص یا ادارہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتاہے تو ان کو ملک مخالف یا غدار قرار دیا جاتا ہے۔