Workers Migration

شہروں میں پھنسے 96 فیصدی مہاجر مزدوروں کو نہیں ملا سرکاری راشن: رپورٹ

ملک گیرلاک ڈاؤن کو تین مئی تک بڑھائے جانے کے بعد ایک رضاکار گروپ اسٹرینڈیڈ ورکرس ایکشن نیٹ ورک(ایس ڈبلیو اے این) نے ایک رپورٹ جاری کی ہے ۔یہ رپورٹ اس دوران شہروں میں پھنسے مہاجر مزدوروں کے بھوک کی صورت حال اور معاشی بدحالی کو دکھاتی ہے۔

لاک ڈاؤن میں 42 فیصدی مہاجر مزدوروں کے پاس ایک دن کا بھی راشن نہیں: سروے

سروے میں شامل 3196 مہاجر مزدوروں میں سے 31 فیصدی لوگوں نے بتایا کہ ان کےاوپر قرض ہے اور اب روزگار ختم ہونے کی وجہ سے وہ اس کی بھرپائی نہیں کر پائیں‌گے۔مزدوروں کو ڈر ہے کہ اس کی وجہ سے ان پر حملہ ہو سکتا ہے کیونکہ زیادہ تر قرض ساہوکاروں سے لئے گئے ہیں۔

مزدوروں کی ہجرت روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر سپریم کورٹ نے مرکز سے رپورٹ طلب کی

سپریم کورٹ میں داخل عرضیوں میں کو رونا وائرس کی وجہ سے پورے ملک میں 21 دنوں کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بےروزگار ہونے والے ہزاروں مہاجر مزدوروں کے لیے کھانا، پانی، دوا اور طبی سہولیات جیسی راحت دلانے کی اپیل کی گئی ہے۔

لاک ڈاؤن: تنخواہ میں کٹوتی نہ کرنے، مزدوروں اور طلبا سے کرایہ نہ لینے کا حکم

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ سبھی مالک، چاہے وہ کاروبار میں ہوں یا دکانوں اور تجارتی اداروں میں، لاک ڈاؤن کی مدت میں اپنے مزدوروں کی تنخواہ کی ادائیگی بنا کسی کٹوتی کے کریں گے۔