فکر و نظر

رام چندر گہا کا کالم: پہلے عام انتخابات میں جواہر لعل نہرو نے ووٹ مانگتے ہوئے عوام سے کیا کہا تھا…

جواہر لعل نہر و نے کہا  تھا کہ -اگر کوئی شخص مذہب کی بنیاد پر دوسروں کو نشانہ بنانے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو میں ملک کا سربراہ ہونے کے ناطے یا عام آدمی کی حیثیت سے اپنی آخری سانس تک اس سے لڑوں گا۔

Jawaharlal_Nehru_gives_his_-tryst_with_destiny-_speech_at_Parliament_House_in_New_Delhi_in_1947_02

1951-52 میں جب ملک کے پہلے عام انتخابات  ہوئے تو جواہر لعل نہرو پانچ سال کے لیے وزیر اعظم بنے۔ سرکار اور بر سر اقتدار پارٹی کی پہچان انہیں سے تھی۔ عوام الناس کو متاثر کر کے ووٹ حاصل کرنے کی اہلیت بھی انہی میں تھی اور وہی اس وقت کے سب سے بڑے مقرر بھی تھے۔ ان حالات میں وزیر اعظم کے قریبی لوگوں نے سوچا کہ انتخاب کرا لیا جانا چاہیے۔ آج کے حالات دیکھتے ہوئے یہ بہتر ہوگا کہ وہ چند باتیں یاد کی جائیں، جو نہرو اپنی پارٹی کے لیے ووٹ مانگنے کے لیے کی جانے والی تقاریر میں کہا کرتے تھے۔

اپنی تشہیری مہم کا آغاز لدھیانہ سے کرتے ہوئے نہرو نے ‘فرقہ پرستی کے خلاف فیصلہ کن جنگ’ کا اعلان کیا۔ سامعین کو متنبہ کرتے ہوئے انہوں نے ‘دغاباز فرقہ پرست عناصر’سے ہوشیار رہنے کی بات کہی، جو ‘ملک کو تباہ و برباد کر سکتے ہیں’۔ انہوں نے سمجھایا تھا کہ ان عناصر کی بات پر کان دینے کے بجائے عوام الناس ‘اپنے دماغ کی کھڑکیاں کھلی رکھیں اور اس میں ہر طرف سے کھلی ہوا آنے دیں۔’ پھر 2 اکتوبر کو مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش پر دہلی میں بولتے ہوئے انہوں نے کہا ‘جب کوئی قوم اپنے ذہنوں کو مخصوص خیالات کا غلام بنا لیتی ہے، چاہے وہ مذہب کے نام پر ہو یا کسی اور نام پر، تو تنگ نظری بڑھتی ہے اور ملک کی ترقی رک جاتی ہے۔’انہوں نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے یہاں بھی انتباہ دیا تھا کہ ‘اگر کوئی شخص مذہب کی بنیاد پر دوسروں کو نشانہ بنانے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو میں ملک کا سربراہ ہونے یا عام آدمی کی حیثیت سے اپنی آخری سانس تک اس سے لڑوں گا۔’

نہرو دیکھ رہے تھے کہ پڑوسی ملک پاکستان اور وہاں کی عوام مذہب کے نام پر تنگ نظری کی گرفت میں تھے۔ اس کو لے کر وہ بہت متفکر تھے کہ اس کے جواب میں ہندوستان اور ہندوستانی عوام بھی اسی طرح کے خیالات میں گرفتار ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنی انتخابی تقاریر میں بار بار فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی طرف لوٹتے ہیں۔ امرتسر میں انہوں نے کہا ‘اس کا کوئی سوال ہی نہیں ہے کہ ایک مذہب کسی دوسرے مذہب کو دبانے کی کوشش کرے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ بہت بڑا بےوقوف ہوگا اور ملک کا بہت بڑا نقصان کرنے والا بھی۔’ ان کا ماننا تھا کہ فرقہ وارانہ تنازعات ملک کی معاشی ترقی میں رکاوٹ بن جائیں گے؛ اسے دیکھتے ہوئے ہی انہوں نے کہا، ‘ہندوستان اسی شکل میں ترقی کر سکتا ہے کہ جب تمام ہندوستانی، اپنے کام کاج، علاقائیت اور مذہب سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہیں اور ساتھ ساتھ چلیں۔ ان کے خیالات و نظریات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن وہ سیاسی یا کسی اور نظریے سے الگ الگ خانوں میں بٹ کر نہیں رہ سکتے۔’

ایک اور تقریر میں نہرو نے کہا، ‘فرقہ پرست شخص اپنی تنگ نظری کے باعث ایک چھوٹا آدمی ہوتا ہے۔ وہ بڑی باتیں نہیں سوچ سکتا اور کمتر خیالات پر اپنی بنیاد رکھنے والی قومیں بھی معمولی ہو کر رہ جاتی ہیں۔’ انہوں نے یہ بھی کہا ‘مستقل متعصبانہ خیالات پھیلا کر فرقہ پرست تنظیمیں (ملک کو) بڑا نقصان پہنچا رہی ہیں…وہ نہ صرف ملک کے کاز کو ان معنوں میں بڑا نقصان پہنچا رہی ہیں کہ جن سنگھ اور ہندو مہا سبھا کے طریقے پر ہندو بھی ترقی نہیں کر سکتے، جس میں کہ ہندوستان کی دیگر قوموں کو پیچھے چھوڑ دیا جائے۔ یہ ایک بچکانہ خیال ہے، اس سے نہ صرف دیگر اقوام بلکہ خود ہندو بھی پیچھے رہ جائیں گے۔’


یہ بھی پڑھیں : جواہر لعل نہرو کا پیغام، اپنے دوستوں اور نکتہ چینوں کے نام


نہرو اکثر صنفی مساوات کی بابت بھی بولا کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ‘ہندوستانی خواتین کی ترقی بہت ضروری ہے، کیونکہ قانونی اور روایتی دونوں طور پر ملک میں ان کی حالت بہت خراب ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ایک ملک کی حالت کا اندازہ وہاں کی عورتوں سے لگایا جا سکتا ہے۔’ اس میں وہ جوڑتے ہیں کہ ‘ملک میں مردوں کا دبدبہ ابھی بھی بہت زیادہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ ملک کے قوانین اور روایتیں عورتوں کو دباتے ہیں اور انہیں آگے نہیں بڑھنے دیتے۔ یہ بہت غلط ہے اور اسے ختم کیا جانا چاہیے۔ قوانین میں تبدیلی کے ذریعے یہ کیا جا سکتا ہے۔’

صنفی مساوات کے سلسلے میں نہرو سرکار کے ذریعے کی جانے والی اصلاحات کو ‘سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، کہ ان کے ذریعے ہندو دھرم کو ختم کیا جا رہا ہے۔’ جبکہ نہرو کے خیال میں یہ اصلاحات دراصل ‘ہندو دھرم کو ختم کرنے کے بجائے اس کی خاص خدمت کریں گی، جس سے ترقی ہوگی، نہیں تو ہندو سماج کمزور ہو جائے گا…’

فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور صنفی مساوات پرا دھیان دینے کے ساتھ نہرو اپنے ساتھیوں سے ایک ایسا معاشرہ بنانے کی بات بھی کہتے تھے، جس میں سب ایک دوسرے کا بے حد خیال رکھنے والے ہوں۔ وہ ابراہم لنکن کی ‘ہمارے دور کے خوبصورت فرشتے’ والی بات کو زندہ کر دینا چاہتے تھے۔

ایک تقریر میں نہرو نے کہا کہ ‘دوسری پارٹیوں کی بات میں صرف اصولی بنیاد پر کرتا ہوں۔ میں ان (کے لیڈران) کی ذاتیات پر بات نہیں کرتا۔’ جبکہ حزب مخالف کے لیڈران اکثر ان پر ذاتی حملے کرتے، لیکن  نہرو کو اس سے فرق نہیں پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا بھی کہ ‘میں اپنی ذمہ داری سے بھاگنا نہیں چاہتا۔ یہ حقیقت ہے کہ میں خود سے ہر کام نہیں کر سکتا۔ ہزاروں ہاتھ کام میں لگے ہیں۔ لیکن آخرکار ذمہ داری میری بنتی ہے۔ جب آپ نے مجھے ایک کار عظیم سونپا ہے، تب میں پردے کے پیچھے کیسے چھپ سکتا یا اس کا انکار کیسے کر سکتا ہوں؟ ملک میں سرکار نے اچھا یا برا جو بھی کیا ہو، میں اس سب کی ذمہ داری لینے کو تیار ہوں…’

نہرو چاہتے تو سرکار کی ناکامیوں کے لیے دو سو سالہ عہد غلامی کو، پڑوسیوں کی بدنیتی کو بآسانی ذمہ دار ٹھہرا سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

ایک اور اہم بات یہ کہ نہرو ووٹرس کو ان کے مخالفین کی باتیں بھی سننے کی صلاح دیتے تھے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ ان کے بعد سماجوادی لیڈر جے پرکاش نرائن پنجاب کا دورہ کرنے والے ہیں، تو انہوں نے اپنے سامعین سے کہا: ‘میں صلاح دیتا ہوں کہ جائیں اور انہیں سنیں۔ کچھ باتوں پر میرا ان سے بھلے اتفاق نہ ہو، لیکن بحیثیت مجموعی وہ ایک عمدہ انسان ہیں…آپ کو سب کی باتیں سن کر سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے، اس کے بعد کوئی فیصلہ لیں۔’

اگر قاری چاہے تو حال ہی میں ختم ہوئی انتخابی مہم کے دوران مختلف لیڈران کی تقاریر کا تقابل نہرو کی انتخابی تقاریر سے کر سکتا ہے۔ اپنی جانب سے میں صرف یہ پیشگوئی کر سکتا ہوں کہ آج سے پچاس یا ساٹھ سال بعد کوئی مؤرخ اس کا ذکر نہیں کرنا چاہے گا کہ سنہ 2019 کے عام انتخاب میں کسی مودی یا راہل (ممتا یا مایاوتی) نے اپنی چناوی تقاریرمیں کیا کہا تھا۔

(انگریزی سے ترجمہ: جاوید عالم)