ادبستان

IMG_20180415_061341

بک ریویو : عصمت چغتائی کے بہانے فکشن تنقیدسے سوال پوچھتی کتاب…؟

کیا یہ کتاب صحیح معنوں میں عصمت کو زیادہ اور پورے طور پرسمجھاتی ہے،اورجب آپ پطرس بخاری تک کو اپنی کتاب میں شامل کر رہے ہیں تو کیا یہ ضروری نہیں کہ منٹوکی وہ تحریر بھی شامل کریں جو کئی معنوں میں اس کا ردعمل ہے اور پھر منٹو سے زیادہ عصمت کا ہمعصر کون ہوگا بھلا؟

فوٹو : رائٹرز

الیاس احمد گدی: کوئلہ مزدوروں کا قصہ گو…

جو کام مہا شویتا دیوی نے بنگلہ میں کیا ہے،وہی کام الیاس احمد گدی اردو فکشن میں انجام دے رہے تھے۔گدی انسانی تاریخ کو استحصال کی تاریخ تصور کرتے ہیں اور انسان کے تمام مسائل کی جڑ میں بھوک کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں، جس کے سبب انسان پلو والے آم بھی کھانے کو مجبور ہوتا ہے۔

پی سی جوشی/  فوٹو : کارواں میگزین

یوم پیدائش پر خاص:  نہرو کے بعد ملک کے دوسرے مقبول رہنما پی سی جوشی کون تھے

پی سی جوشی کی فعال قیادت ہی تھی کہ پارٹی اپنی سیاسی سمجھ کو عوام کے درمیان لے جانے میں کامیاب رہی۔ انہوں نےفاشسٹ قدموں کی آہٹ اس وقت سن لی تھی جب ان کے ہی کمیونسٹ دوستوں کے علاوہ دوسرےمکتبہ فکر کے لوگ اس خطرہ کو بہت ہلکے میں لے رہے تھے۔

علامتی تصویر/ فوٹو : اے آئی سی

منٹو نے کیوں کہا؛ہندوستان کو لیڈروں سے بچاؤ…

یہ لیڈر جلسوں میں سرمائے اور سرمایہ داروں کے خلاف زہر اگلتے ہیں صرف ا س لئے کہ وہ خود سرمایہ اکٹھا کر سکیں۔ کیا یہ سرمایہ داروں سے بدترین نہیں؟ یہ چوروں کے چور ہیں، رہزنوں کے رہزن۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام ان پر اپنی بے اعتمادی ظاہر کر دیں۔

NeyazFarooquee_Book

بک ریویو : مسلم نوجوان کے کرب ، بے چینی اور گھٹن کی ایک آواز

سیاست اور میڈیا کی ملی بھگت نے اپنی چالاکی سحر بیانی اور منصوبہ بندی سے ایک مشکوک انکاؤنٹر کو اکثریتی عوام کے ذہن کا مستقل اور طبعی حصہ بنا دیا ہے۔اس کتاب نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے پولیس اور میڈیا کی کہانی پر بڑی ہی ماہرانہ انداز میں کئی پیشہ ورانہ سوالات کھڑے کئے ہیں۔مصنف نے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر پر نیشنل میڈیا کی متعصبانہ اور جانبدارانہ رپورٹنگ کے مد نظر بایو سائنس کے کیریئر سے صحافت کی طرف رخ کیا۔

gaandhi

فلم ریویو: ہم نے گاندھی کو مار دیا …

سنیما:اس سوچ کو قبول کرنے کا مطلب ہے گاندھی اور جناح  کے نام پر ساورکر کو’ ویر‘ کہنا ۔بھلے آپ نے اس کو ہندو شدت پسند اور مسلم شدت پسند کہہ دیا ہے ۔لیکن اس شدت پسندی میں جہاں بہت سی باتوں کوسادہ بلکہ Generalizeکرنے کی کوشش کی […]

HabibJalib_FridayTimes

باتیں حبیب جالب کی : ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑاالزام نہیں…

 انٹرویو:’ہم اردو شاعری کے عہد جالب میں رہ رہے ہیں…‘خواتین کی جو آزادی ہے، وہ ہمیشہ بڑی عزیز رہی ہے۔ وہ چاہے ایک رقاصہ ہو یا کوئی بڑی خاتون، مغنیہ ہو یا دفتر کی خاتون ان کی ایک عزت ہے۔مشاعرے میں پڑھنے کے میں پیسے نہیں لیتا۔ مشاعرے […]

استاد بسم اللہ خاں (فوٹو :یوٹیوب)

یوم پیدائش پر خاص: استاد بسم اللہ خاں،ہندوستانی موسیقی کا سنت کبیر

یوم پیدائش پر خاص:استاد بسم اللہ خاں ایسے بنارسی تھے جو گنگا میں وضو کر کے نماز پڑھتے تھے اور سرسوتی کو یاد کر کے شہنائی کی تان چھیڑتے تھے ۔اسلام کے ایسے پیروکار تھے جو اپنے مذہب میں موسیقی کے حرام ہونے کے سوال پر ہنس کر کہتے تھے ،کیا ہو اسلا م میں موسیقی کی ممانعت ہے ،قرآن کی شروعات تو’ بسم اللہ‘ سے ہی ہوتی ہے۔

ghazala jamil

بک ریویو: مسلمان عورتوں کی موجودہ صورت حال اور حیثیت پر سوال پوچھتی کتاب

غزالہ جمیل کی کتابMuslim Women Speak Of Dreams and Shacklesمیں مسلمان عورتوں کو بولتے ہوئے سنا جا سکتا ہے ۔کسی بھی کتاب میں اب تک عورتوں کو پڑھنا ہی ایک تجربہ رہا ہے ،اس لیے اس کتاب میں ان کو سننا ،ان کی زبان میں سننا ایک غیر معمولی بات ہے۔

Manish_Gaekawad

عالمی یوم خواتین پر خاص:اس ماں کے نام ایک انتساب جو گمنام ہے…

ویمینس ڈے ‘ کے موقع پر اگر ہم ایسی ایک ماں کو سلام کریں ،جس کا نام ابتک میں نے نہیں بتایا، اور آپ نے بھی نہیں پوچھا، تو یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ ہیں تو سب مائیں ایک جیسی ہی۔ ماں سے اونچا درجہ اور کس نام میں ہے؟

begum-rokeya

رقیہ بیگم کا سوال،اس تہذیب یافتہ سماج میں ہماری حیثیت کیا ہے؟

’ہم سنتے ہیں، کہ زمین سے، غلامی کا نظام ختم ہو گیا ہے، لیکن کیا، ہماری غلامی، ختم، ہوئی ہے؟  نہیں نا !  ‘ ’میں جب کرشیانگ اور مدھو پور گھومنے گئی تو وہاں سے خوبصورت پتھر اکٹھے کرکے لائی۔  جب اڑیسہ اور مدراس کے سمندر کنارے پر […]

Photo : rajasthantoursindia.com

آج رنگ ہے…

کوئی بھی جشن اور تہوار مذہب سے زیادہ انسان کےعشق و محبت کے جذبے کو بیدار کرتا ہے۔ہولی بھی ایک تہوار سے زیادہ کچھ ہے اس لئے ہندومسلمان میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔

BerlinFilmFest_DWUrdu

برلن فلم فیسٹیول میں جنسی استحصال میں ملوث ہدایتکاروں اور اداکاروں کی فلمیں شامل نہیں کی جائیں گی

گزشتہ سال سوشل میڈیا پر جنسی استحصال کے خلاف شروع ہونے والی تحریک MeToo# کے بعد 15 سے 25 فروری تک جاری رہنے والا برلینالے فلم فیسٹیول کے منتظمین فلمی صنعت میں جنسی مساوات کے مسئلے پر توجہ مرکوز کروانا چاہتے ہیں۔

k l k thumnail

ہم نے اپنا بھارتیہ کرن کیا!

ہمیں خیال آیا ‘اقبال’ عربی کا لفظ ہے۔ ہندوستان میں رہتے ہوئے عربی نام رکھنا کہاں کی حب الوطنی ہے۔ ہم نے اپنا نام ‘کنگال چند’ رکھ لیا۔ یہ نام ویسے بھی ہماری مالی حالت کی غمازی کرتا تھا۔ نہ صرف ہماری بلکہ ملک کی حالت کی بھی!

jlf pti

جے ایل ایف(JLF) جو دیکَھن میں چلا…

عام طور سے اُردو والوں کو جشن ریختہ سے شکایت رہتی ہے کہ یہاں اُردو میں بینر پوسٹر کم نظر آتے ہیں ٗاگر اس نظریے سے بات کروں تو یہاں فطری طور پرانگریزی کے ہی پوسٹرنظر آئے اور کہیں کہیں ہندی میں بھی کچھ مزیدار لکھا آنکھوں میں ٹھہر گیا ،مثال کے طورپر ایک جگہ یہ عبارت ہندی میں نظر آئی کہ ’دارو میں کچھ نہیں رکھا ساہتیہ پہ دھیان دو‘

ArundhatiRoy_ArjumandAra

اُردو میں ارُن دھتی رائے کےناول کا عنوان ’بے پناہ شادمانی کی مملکت ‘کیوں  ؟

ویڈیو:ارُن دھتی رائے کے تازہ ترین ناول(The Ministry Of Utmost Happiness) کے اُردو ترجمہ اور ترجمے کے فن پر دہلی یونیورسٹی میں استاداور معروف مترجم ڈاکٹرارجمند آراکے ساتھ فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت

Photo : PTI

اسرائیل بالی وڈ سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟

نیتن یاہو نے بالی وڈ کے ستاروں کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ ان سے بڑا اور کون ہوسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو بھارتی فلم انڈسٹری سے اس قدر پیار اور دلچسپی کیوں ہے اور وہ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

Photo: Tribune, Pakistan

یوم پیدائش پر خاص:عینی آپا کے ہندوستان میں ہنومان بھی یا علی بولتے تھے

ادبی میدان میں عورت اور مرد کی تخصیص انھیں قطعی نا پسند تھی۔ عینی نے اپنی ساری زندگی عورت سے جڑےان ٹیبوز کو توڑا جس کے تحت عورت کمزور تصور کی جاتی ہے اور بغیر ہم سفر کے اس دنیا میں اس کا رہنا تقریباً ناممکن تصور کیا جاتا ہے۔

Sharar_Premchand

پریم چند کی زبانی: ہندومسلم سوسائٹی میں آخرکیوں مقبول ہوا مولا نا کا طرز تحریر؟

’ہندوستان کا کوئی مسلمان ایسا نہ تھا جس نے مولانا کے ناولوں کا مطالعہ نہ کیا ہو،یہاں تک کہ بعض علماء جن کو ناول کے نام سے نفرت تھی ،مولانا کی تصنیف کا دیکھنا باعث حسنات جانتے تھے۔‘

NavalKishorePress

’  اگر نول کشور نہ ہوتے تو ہم  تخیلاتی ادب کے عظیم ترین کارناموں سے محروم رہ جاتے ‘

’یہ کہنا شاید صحیح نہیں کہ  ہمیں اپنے اسلاف کے کارناموں کا علم نہیں ‘ لیکن کیا کیجیے کہ ہم اپنے کلچر ہیرو کو کہانیوں  میں تلاش کرتے پھرتے ہیں۔منشی نولکشورکو میں کلچر ہیرو کے طور پر جانتا ہوں کہ انہوں نے کتابوں کی صورت آب حیات کے […]

fea image

2017: کتابوں سے کتنی روشن ہوئی کائنات

ہند و پاک کے ادیب ارجمند آرا،حقانی القاسمی ،خالد جاوید ،علی محمد فرشی ،محمد حمید شاہد،معید رشیدی اور ناصر عباس نیر کی پسندیدہ کتابیں۔  تنقید کے نظریاتی پہلو پر اردو میں کتابیں خال خال ہی نظرآتی ہیں؛ارجمند آرا ذہن و ضمیر کو بدلنے والا مکالمہ وجود میں نہیں […]