Islamophobia

راجستھان کے اجمیر میں مسلمان شخص کو ہراساں کرتے لوگ۔ (اسکرین گریب: ٹوئٹر/@saeedkhan565)

راجستھان: ایک شخص پر حملہ، ویڈیو میں پاکستان جانے کو کہتا نظر آیا گروپ

معاملہ اجمیر ضلع کا ہے۔پولیس نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر سامنے آئے ایک ویڈیوکی بنیاد پر پانچ لوگوں کو احتیاطاً حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ متاثرہ کا پتہ لگانے کی کوشش کی گئی ، لیکن کامیابی نہیں ملی۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک مسلمان شخص ہو سکتا ہے اور کسی دوسرے صوبے سے راجستھان آیا ہوگا۔

اپنے اہل خانہ  کے ہمراہ  بشیر احمد بابا۔ (فوٹو: ٹوئٹر/@Faizanmirtweets)

گجرات: یو اے پی اے کے تحت نہیں ثابت ہوئے الزام، 11 سال بعد رہا ہوکر گھر پہنچے سری نگر کے بشیر

مارچ 2010 میں گجرات اے ٹی ایس نے 43 سالہ ایک این جی اوکارکن بشیر احمد بابا کو آنند سے گرفتار کیا تھا۔ ان پر دہشت گردی کا نیٹ ورک قائم کرنے اور 2002 کے فسادات سے ناراض مسلم نوجوانوں کوحزب المجاہدین کے لیے بھرتی کرنے کے لیےصوبے میں ریکی کرنے کا الزام لگایا تھا۔ الزام ثابت نہ ہونے پر گزشہ دنوں انہیں رہا کر دیا گیا۔

امید پہلوان ادریسی۔ (فوٹو: فیس بک/Ummed Pahalwan Idrisi)

غازی آباد حملہ: متاثرہ بزرگ کے ساتھ فیس بک لائیو کرنے والے سماجوادی رہنما پر این ایس اے لگا

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ایک ویڈیو میں بزرگ مسلمان عبدالصمدسیفی نے غازی آباد کے لونی علاقے میں چار لوگوں پر انہیں مارنے، داڑھی کاٹنے اور ‘جئے شری رام’ بولنے کے لیے مجبور کرنے کا الزام لگایا تھا۔واقعہ کے بعد سماجوادی رہنما امید پہلوان ادریسی نے ان کے ساتھ فیس بک لائیو کیا تھا۔

(فوٹو: رائٹرس)

بزرگ مسلمان پر حملہ: غازی آباد پولیس نے ٹوئٹر انڈیا کے ایم ڈی کو بھیجا دوسرا نوٹس

غازی آباد پولیس نےسوموار دیر شام نوٹس جاری کر ٹوئٹر انڈیا کے ایم ڈی کو آگاہ کیا کہ اگر وہ 24 جون کو اس کے سامنے پیش نہیں ہوئے تو اسے جانچ میں رکاوٹ کے مترادف مانا جائےگا اور قانونی کارروائی کی جائےگی۔

(فوٹو:  رائٹرس)

غازی آباد میں بزرگ مسلمان  پر حملے کے سلسلے میں ٹوئٹر انڈیا نے 50 ٹوئٹ پر روک لگائی

ٹوئٹرکی جانب سے یہ کارروائی یوپی پولیس کے ذریعےمبینہ طور پرفرقہ وارنہ کشیدگی کو بڑھاوا دینے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف چل رہی جانچ کے مد نظر کی گئی ہے۔ غازی آباد کے لونی میں ایک بزرگ مسلمان کے ساتھ مارپیٹ، ان کی داڑھی کاٹنے اور انہیں‘جئے شری رام’بولنے کے لیے مجبور کرنے کے واقعہ سے متعلق ویڈیو/خبر ٹوئٹ کرنے کو لےکردی وائر اور ٹوئٹر کے ساتھ کئی صحافیوں اور رہنماؤں کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔

امید پہلوان ادریسی۔ (فوٹو: فیس بک/Ummed Pahalwan Idrisi)

بزرگ مسلمان پر حملہ: متاثرہ  کے ساتھ فیس بک لائیو کرنے والے سماجوادی رہنما دہلی سے گرفتار

سماجوادی پارٹی کےرہنما امید پہلوان ادریسی نے مذہبی وجوہات سے حملے کا شکار ہونے کا دعویٰ کرنے والے 72سالہ عبدالصمد سیفی کے ساتھ فیس بک لائیوکیا تھا۔الزام ہے کہ اتر پردیش کے غازی آباد کے لونی علاقے میں چار نوجوانوں نے سیفی کو ‘جئے شری رام’کے نعرے لگانے کو مجبور کیا تھااور اس کی داڑھی کاٹنے کے ساتھ ان کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔

فوٹو: رائٹرس

بزرگ مسلمان  پر حملہ: یوپی پولیس نے ٹوئٹر کے ایم ڈی کو ایک ہفتے میں پیش ہونے کو کہا

اتر پردیش کے غازی آباد کے لونی میں گزشتہ پانچ جون کو ایک بزرگ مسلمان پرحملہ کرنے کےمعاملے میں پولیس نے ٹوئٹر انڈیا کےایم ڈی کو نوٹس بھیج کر جانچ میں شامل ہونے کے لیے کہا ہے۔ معاملے سے متعلق ویڈیو/خبر ٹوئٹ کرنے کو لےکر دی وائر اور ٹوئٹر سمیت کئی صحافیوں کے خلاف کیس درج کیا گیا۔ اس بیچ عدالت نے بزرگ پر حملے کے ملزم9 لوگوں کو ضمانت دے دی ہے۔

علامتی تصویر، وکی میڈیا کامنس

میڈیا تنظیموں نے دی وائر اور صحافیوں کے خلاف یوپی پولیس کی ایف آئی آر کو ہراسانی بتایا

اتر پردیش کے غازی آباد کے لونی میں گزشتہ پانچ جون کو ایک بزرگ مسلمان پرحملہ کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔متاثرہ کاالزام تھا کہ حملہ آوروں نے ان کی داڑھی کاٹ دی تھی اور ان سے جبراً ‘جئے شری رام’ کا نعرہ لگانے کو کہا تھا۔اس معاملے سے متعلق ویڈیو/خبر ٹوئٹ کرنے کو لےکر دی وائر سمیت کئی صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

امید پہلوان ادریسی۔ (فوٹو: فیس بک/Ummed Pahalwan Idrisi)

متاثرہ مسلمان  کے ساتھ فیس بک لائیو کرنے والے سماجوادی پارٹی کے رہنما کے خلاف بھی ایف آئی آر درج

اتر پردیش کے غازی آباد کے لونی علاقے میں عبدالصمد سیفی نام کے ایک بزرگ مسلمان پر حملہ کرنے اور انہیں‘جئے شری رام’ کہنے پر مجبور کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اس سلسلے میں دہلی کے تلک مارگ تھانے میں دی گئی ایک شکایت میں اداکارہ سورا بھاسکر، ٹوئٹر کے ایم ڈی منیش ماہیشوری، دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی، ٹوئٹر انک، ٹوئٹر انڈیا اور آصف خان کا نام شامل ہے۔

بلندشہر میں ببلو سیفی۔ (فوٹو: عصمت آرا/دی وائر)

متاثرہ مسلمان کے اہل خانہ نے معاملے میں یوپی پولیس کے ’فرقہ وارانہ زاویہ‘ نہ ہونے کے دعوے کو چیلنج کیا

اتر پردیش کے غازی آباد کے لونی علاقے میں عبدالصمد سیفی نام کے ایک بزرگ مسلمان پر حملہ کرنے اور انہیں ‘جئے شری رام’ کہنے پر مجبور کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ متاثرہ کے بیٹے کا کہنا ہے کہ والد نےتحریری شکایت میں ان کے ساتھ ہوئی بدسلوکی کو بیان کیا ہے، لیکن پولیس نے جو ایف آئی آر لکھی ہے، اس میں اہم تفصیلات کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

دی وائر اور دیگر کے خلاف یوپی پولیس کی ایف آئی آر انتقامی جذبے کو دکھاتی ہے: پریس کلب

دی وائر سمیت دیگر میڈیا اداروں نے اتر پردیش کے غازی آباد کے لونی علاقے میں ایک بزرگ مسلمان پر حملہ کر انہیں ‘جئے شری رام’ کہنے پر مجبور کرنے کا الزام لگانے سے متعلق خبر شائع کی تھی۔ اس کو لےکر دی وائر اور دیگرتمام لوگوں کے خلاف یوپی پولیس نے کیس درج کر دیا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

غازی آباد حملہ: آدھی رات کو ٹوئٹر، اپوزیشن رہنماؤں اور صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج

غازی آباد میں ایک بزرگ مسلمان کی بے رحمی سے پٹائی کے سلسلے میں ٹوئٹ کرنے کے معاملے میں منگل کی دیر رات کو آلٹ نیوز کے محمد زبیر،صحافی رعنا ایوب، دی وائر، کانگریس رہنما سلمان نظامی، مشکور عثمانی، شمع محمد، صبا نقوی، ٹوئٹر انک و ٹوئٹر کمیونی کیشن انڈیا پی وی ٹی کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے۔

متاثرہ بزرگ  مسلمان کی جانب سے جاری کیے گئے ویڈیو کاا سکرین شاٹ۔ (فوٹو: ٹوئٹر/@unknwnn_girl)

یوپی: غازی آباد میں بزرگ مسلمان شخص پر حملہ، ’جئے شری رام‘ کہنے کے لیے مجبور کرنے کا الزام

اتر پردیش میں غازی آباد کے لونی میں یہ واقعہ گزشتہ پانچ جون کو رونماہوا۔ اس سے متعلق ویڈیو کچھ دن پہلے ہی سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے۔ اس مبینہ ویڈیو جس میں بلندشہر کے رہنے والے عبدالصمدسیفی کو کم از کم دو ملزمین کے ذریعےپیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک سیفی کو مارتا ہے اور ان کی داڑھی کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔

سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

مسلمانوں کو ولن دکھانے کے لیے ہندوتوا گروپوں کے بنائے متھ توڑنے ہوں گے: ایس وائی قریشی

ملک کےسابق چیف الیکشن کمشنرایس وائی قریشی نے اپنی نئی کتاب‘دی پاپولیشن متھ:اسلام، فیملی پلاننگ اینڈ پالیٹکس ان انڈیا’ میں کہا ہے کہ مسلمانوں نے آبادی کے معاملے میں ہندوؤں سے آگے نکلنے کے لیے کوئی سازش نہیں کی ہے اور ا ن کی تعداد ملک میں ہندوؤں کی تعداد کو کبھی چیلنج نہیں دے سکتی۔

AKI 20 April.00_25_49_05.Still005

ہندوستان میں پنپتے اسلاموفوبیا پر خلیجی ممالک میں اٹھے سوال

ویڈیو: ہندوستان میں کوروناوائرس انفیکشن کو فرقہ وارانہ رنگ دیے جانے کے بعد خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانیوں کے ذریعے سوشل میڈیا پر اسی طرح کے پوسٹ لکھنے پر ان ممالک کے صحافیوں ، وکیلوں اور شاہی خاندان کے لوگوں نے مخالفت درج کی ہے۔ اس بارے میں عارفہ خانم شیروانی سے گلف نیوز کےمدیر بابی نقوی کی بات چیت۔

Representative image of a young woman in a hijab. Credit: Aftab Uzzaman/Flickr CC 2.0

ممبئی : کالج نے مسلم اسٹوڈنٹ کے حجاب پہننے پر اٹھائے سوال ، اگزام دینے سے روکا

اس معاملے پر کالج کے وکیل کا کہنا ہے کہ کالج نے حجاب پہننے سے منع نہیں کیا ہے بلکہ برقع پہننے سے منع کیا گیا ہے۔ نئی دہلی :ممبئی میں ہومیو پیتھی کی ایک اسٹوڈنٹ نے کالج میں حجاب نہ پہننے اور کلاس اٹینڈ نہیں کرنے دینے […]

Don`t copy text!