press freedom

کولکاتہ ٹی وی کے مدیر کوستو رائے۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

’سیکیورٹی کلیئرنس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت اطلاعات و نشریات نے بنگلہ چینل کو لائسنس کو رد کرنے کی دھمکی دی

مغربی بنگال کا کولکاتہ ٹی وی ایک بنگلہ نیوز چینل ہے۔وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ چونکہ وزارت داخلہ نے اسے ‘سیکیورٹی کلیئرنس’دینے سے انکار کیا ہے،اس لیے ان کا لائسنس رد کیا جا سکتا ہے۔یہ چینل مودی حکومت کے بارے میں تنقیدی رپورٹنگ کے لیےمعروف ہے۔

The-Wire-Team

دی وائر کو ملا انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ کا 2021 فری میڈیا پاینیر ایوارڈ

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر باربرا ٹرونفی نے کہا کہ دی وائر ہندوستان کے ڈیجیٹل نیوزکے شعبے میں آئی تبدیلی کا رہنما نام ہے ۔اس کی معیاری اورآزادانہ صحافت سے وابستگی دنیا بھر کے آئی پی آئی ممبران کے لیےباعث تحریک ہے۔

فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

سال 2018 میں صحافی کے خلاف درج کیس کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے قانون کا غلط استعمال بتایا

جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اس طرح ایف آئی آر درج کرنا صحافی کو ‘چپ کرانے’ کا طریقہ تھا۔ صحافی کی ایک رپورٹ 19اپریل2018 کو جموں کےایک اخبار میں شائع ہوئی تھی، جو ایک شخص کو پولیس حراست میں ہراساں کرنے سے متعلق تھی۔ اس کو لےکر پولیس نے ان پر کیس درج کیا تھا۔

نریندر مودی۔ (فوٹوبہ شکریہ : پی آئی بی)

پریس کی آزادی کو کنٹرول کرنے والے 37 ممالک کے سربراہوں کی فہرست میں نریندر مودی کا نام شامل: رپورٹ

رپورٹرس ودآؤٹ بارڈرس نے پریس کی آزادی کو کنٹرول کرنے والے 37ممالک کے سربراہوں یاقائدکی فہرست جاری کی ہے، جس میں شمالی کوریا کے کم جونگ ان اور پاکستان کے عمران خان کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کا نام شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سب وہ ہیں جو ‘سینسرشپ کا میکانزم بناکر پریس کی آزادی کو روندتے ہیں،صحافیوں کو من مانے ڈھنگ سے جیل میں ڈالتے ہیں یا ان کے خلاف تشددکو ہوا دیتے ہیں۔

اندرا گاندھی اور نریندر مودی۔ (فوٹوبہ شکریہ : وکی میڈیا کامنس/پی آئی بی)

ایمرجنسی کے سیاہ دن بنام اچھے دن …

جمہوریت کو اپنےٹھینگے پر رکھے گھوم رہے لٹھیتوں کے اس دور میں46 سال پہلے کی ایمرجنسی کے 633 دنوں پر خوب ہائےتوبہ مچائیے،مگر پچھلے 2555 دنوں سے بھارت ماتا کی چھاتی پر چلائی جا رہی غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی چکی کے پاٹوں کونظرانداز مت کریے۔

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

کشمیر: 2006 کے ایک حادثے پر وہاٹس ایپ اسٹیٹس لگانے کی وجہ سےصحافی کے خلاف مقدمہ درج

کشمیر گھاٹی کے باندی پورہ قصبہ کے رہنے والے صحافی ساجد رینا نے سال 2006 میں ایک ناؤ حادثے میں ہلاک ہوئے 22 بچوں کی تصویر اپنے وہاٹس ایپ پر لگاتے ہوئے انہیں‘وولر جھیل کے شہید’ کہا تھا، جس کو لےکر ان کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔

علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی

جموں و کشمیر پولیس کے ذریعے انکاؤنٹر سائٹ سے رپورٹنگ پر روک غیر جمہوری: ایڈیٹرس گلڈ

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا ہےکہ تشدد کو پھیلنے سے روکا جا سکےکیونکہ انکاؤنٹرسائٹ سے رپورٹنگ کرنے پر ‘ملک مخالف جذبہ’بیدار ہوتا ہے۔ حالانکہ ایڈیٹرس گلڈ نے کہا ہے کہ سچائی بتانے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔

یوٹیوب کے ذریعے بلاک  کیے گئے ویڈیو کا اسکرین گریب جس کو ملت ٹائمس نے فیس بک پرشیئر کیا تھا۔

لاک ڈاؤن کے خلاف مزدوروں کے احتجاج سے متعلق ویڈیو رپورٹ پر یوٹیوب نے ’ملت ٹائمز‘ کو بلاک کیا

نیوز ویب سائٹ ‘ملت ٹائمز’نے9 اپریل کو مہاراشٹر میں کووڈ 19 لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج پر ایک ویڈیو رپورٹ شائع کی تھی۔ اس کے چیف ایڈیٹر نے بتایا کہ اکثر مظاہرین یومیہ مزدور تھے۔ وہ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے پاس احتجاج کر رہے تھے اور ان مسائل کے بارے میں بول رہے تھے، جن کا سامنا وہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کریں گے۔

(فوٹو بہ شکریہ: India Rail Info)

اتر پردیش: منریگا مزدوروں کی جگہ مشینوں سے کام کرانے کی رپورٹنگ کے لیے صحافی پرحملہ

اتر پردیش کے للت پور ضلع کا معاملہ۔ نیوز پورٹل بندیل کھنڈ ٹائمس ٹی وی کے لیے کام کر رہے ونئے تیواری کا الزام ہے کہ رپورٹنگ کے وقت پردھان کے رشتہ داروں نے ان سے بحث کی اور لاٹھیوں سے حملہ کیا۔ ونئے پر غیرقانونی شراب کے کاروبارکی رپورٹنگ کے لیے بھی حملہ ہو چکا ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

جموں و کشمیر کی نئی میڈیا پالیسی پریس کی آزادی کو متاثر کر نے والی ہے: پریس کاؤنسل

جموں وکشمیر انتظامیہ نے گزشتہ دنوں ریاست کی نئی میڈیا پالیسی کو منظوری دی ہے، جس کے تحت وہ شائع اورنشرہونے والےمواد کی نگرانی کرےگا اور یہ طے کرےگا کہ کون سی خبر ‘فیک، اینٹی سوشل یا اینٹی نیشنل رپورٹنگ’ہے۔ پریس کاؤنسل نے اس بارے میں انتظامیہ سے جواب مانگا ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

جموں وکشمیر کی نئی میڈیا پالیسی: انتظامیہ  طے کرے گی فیک نیوز اور ملک مخالف صحافیوں کی تعریف

دو جون کو جاری جموں وکشمیر کی نئی میڈیا پالیسی کے مطابق، سرکار اخباروں اور دوسرے میڈیا چینلوں پر آنے والے مواد کی نگرانی کر کےیہ طے کرےگی کہ کون سی خبر ‘فیک، اینٹی سوشل یا اینٹی نیشنل’ ہے۔ ایسا پائے جانے پر متعلقہ ادارے کو سرکاری اشتہار نہیں دیےجا ئیں گے، ساتھ ہی ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگی۔

گوہر گیلانی ، فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر

جموں و کشمیر: ہائی کورٹ نے یو اے پی اے کے تحت ملزم  بنائے گئے صحافی کو عبوری راحت دینے سے انکار کیا

یو اے پی اے کے تحت ملزم بنائے گئے کشمیری صحافی اور قلکار گوہر گیلانی کی گرفتاری سے عبوری تحفظ اورایف آئی آر رد کرنے کی مانگ والی عرضی پرشنوائی کرتے ہوئے جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے سرکار کو نوٹس جاری کرکے 20 مئی سے پہلے جواب داخل کرنے کاحکم دیا۔

مسرت زہرہ، فوٹو بہ شکریہ فیس بک

جموں کشمیر: ملک مخالف پوسٹ کے الزام میں خاتون فوٹو جرنلسٹ کے خلاف یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج

واشنگٹن پوسٹ اور الجزیرہ جیسےانٹرنیشنل میڈیااداروں کے ساتھ کام کرنے والی 26 سالہ خاتون فوٹوجرنلسٹ مسرت زہرہ کشمیر کی دوسری صحافی ہیں جن پر یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

فوٹو: رائٹرس

پریس کی آزادی کے اصلی دشمن باہر نہیں، بلکہ اندر ہی ہیں

مودی کے انتخاب جیتنے کے بعد یا پھر اس سے کچھ پہلے ہی میڈیا نے اپنا غیر جانبدارانہ رویہ طاق پر رکھنا شروع کر دیا تھا۔ ایسا تب ہے جب حکومت اور وزیر اعظم نے میڈیا کو پوری طرح سے نظرانداز کیا ہے۔ میڈیا اہلکاروں کی جتنی زیادہ توہین کی گئی ہے، وہ اتنا ہی زیادہ اپنی وفاداری دکھانے کے لئے بےتاب نظر آ رہے ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

چھتیس گڑھ: سپریم کورٹ نے سیکس سی ڈی معاملے میں وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کے خلاف شنوائی پر روک لگائی

چھتیس گڑھ کےپبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کےسابق وزیر راجیش مونت کے خلاف مبینہ طور پر ایک فرضی سیکس سی ڈی وائرل کرنے کے معاملے میں وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل، سابق صحافی ونود ورما اور تین دوسرے ملزم ہیں۔

آسٹریلیا کی راجدھانی سڈنی کے بونڈی بیچ پر اڈانی کے خلاف لوگوں نے مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرہ میں #StopAdani نام سے ہیومن چین بنائی(فوٹو بہ شکریہ : اسٹاپ اڈانی کیمپین)

آسٹریلیا: اڈانی کول مائن پروجیکٹ کے خلاف ہو رہے مظاہرے کو کور کرنے گئے کئی صحافی گرفتار

آسٹریلیا کے شمالی کوئنس لینڈ کے کارمائل کوئلہ کان میں کھدائی کے لئے اڈانی کو جون میں منظوری ملی تھی۔ یہاں کان کنی کو لےکر تنازعہ ہے کیونکہ اس کان کے قریب ہی گریٹ بیریئر ریف ہے، جہاں دنیا کی سب سے بڑی مونگے کی چٹانیں ہیں۔

صحافی نہا دکشت (فوٹو : دی وائر)

صحافی نہا دکشت کو ملا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے یہ ایوارڈ 4 ممالک کے 5 صحافیوں کو دیا گیا ہے۔ نہا دکشت کو یہ ایوارڈ مختلف ریاستوں میں ہوئی ایکسٹرا جوڈیشیل کلنگ اور این ایس اے کے غلط استعمال کو لےکر کی گئی ان کی رپورٹس کے لئے ملا ہے۔

نارتھ بلاک (فوٹو بہ شکریہ : وکی میڈیا کامنس)

افسروں سے اجازت لینے کے بعد ہی وزارت خزانہ میں داخل ہو پائیں گے صحافی: مرکزی حکومت

بجٹ پیش ہونے سے کچھ دن پہلے پرائیویسی بنائے رکھنے کے لئے وزارت خزانہ میں صحافیوں کے داخلہ پر پابندی لگا دی جاتی ہے، لیکن بجٹ پیش ہونے کے بعد یہ پابندی ہٹا لی جاتی ہے۔ حالانکہ، اس بار ایسا نہیں کیا گیا۔

freedom-expression

بی جے پی سے پہلے اظہار رائے کی آزادی پر کانگریس نےحملہ کیا

وزیراعظم نریندر مودی 44 سال پہلے یعنی اسی ماہ جون میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے لیے نہرو، اندرا گاندھی اور کانگریس کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ اب مودی اور امت شاہ کی قیادت والی بی جےپی کو ایسے اندیشوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، جن کے مطابق ایمرجنسی جیسے حالات بنتے جا رہے ہیں۔ اس سے انہیں بنگال میں ممتا کو کنارے کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

anupamkher

رویش کا بلاگ: انوپم کھیر کو صحیح غلط کم ہندو اور مسلمان زیادہ دکھتا ہے

انوپم کھیر جیسے کچھ فنکار تختی لےکر میڈیا کو مدعا دیتے ہیں۔ ان کی تصویر اسکرین پر دکھاکر گھر بیٹھے لوگوں کے ذہن میں زہر بھرا جاتا ہے۔ اس عمل میں مسلمان کو دوئم درجے کا شہری بنایا جاتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے جن کے ذہن میں یہ کچرا بھرا جاتا ہے ان کو دوئم درجے کا شہری بنایا جا چکا ہوتا ہے۔ اس لئے وسیع ہندو مفاد میں یہ ضروری ہے کہ تمام نیوز چینل دیکھنا بند کر دیں۔ کیونکہ چینلوں میں مذہب کے نام پر ہندوؤں سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔

فوٹو: رائٹرس

میانمار: روہنگیا مسلمانوں پر رپورٹنگ کی وجہ سے سزا کاٹ رہے رائٹرس کے دو صحافی رہا

میانمار کے رخائن میں فوجی کارروائی کے دوران روہنگیا مسلمانوں پر ہوئے ظلم و تشدد کی رپورٹنگ کرتے ہوئے 32 سالہ وا لون اور 28 سالہ کیاؤ سوئے او کو سرکاری پرائیویسی قانون توڑنے کے لئے گزشتہ سال ستمبر میں سات-سات سال کی جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔

علامتی تصویر

بی جے پی حکومت میں صحافیوں پر حملے میں اضافہ: رپورٹ

رپورٹرس ودآؤٹ بارڈرس کی طرف سے جاری ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ہندوستان 180 ممالک میں سے 140ویں مقام پر ہے۔ 2018 میں اپنے کام کی وجہ سے ہندوستان میں کم سے کم 6 صحافیوں کی موت ہوئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں 2019 کے عام انتخابات کے دوران حکمراں بی جے پی کے حامیوں کے ذریعے صحافیوں پر حملے بڑھے ہیں۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

رویش کا بلاگ: نیوزچینل صرف مودی کے لیے راستہ بنا رہے ہیں،ڈھائی مہینے کے لیے چینل دیکھنا بند کر دیجیے

کیا آپ پبلک کے طور پر ان چینلوں میں پبلک کو دیکھ پاتے ہیں؟ ان چینلوں نے آپ پبلک کو ہٹا دیا ہے۔ کچل دیا ہے۔ پبلک کے سوال نہیں ہیں۔ چینلوں کے سوال پبلک کے سوال بنائے جا رہے ہیں۔

فوٹو : مہراج بٹ/کشمیر لائف

کشمیر: جہاں صحافی ہونا آسان نہیں ہے…

تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ گزشتہ سنچر کو ملک کے 70ویں یوم جمہوریہ پر سری نگر مں مختلف پریس اداروں سے وابستہ سنئرق فوٹو گرافروں کو یوم جمہوریہ کی تقریب مں عکس بندی سے روکا گاہ ۔حر ت یہ ہے کہ پولسہ نے خود انہںی تقریب مںٹ شرکت کے لئے سکو رٹی پاس جاری کار تھا۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

رویش کا بلاگ: نیوز چینل اب عوام کا نہیں، حکومت کا ہتھیار ہے

2019 کا انتخاب عوام کے وجود کا انتخاب ہے۔اس کو اپنے وجود کے لئے لڑنا ہے۔جس طرح سے میڈیا نے ان پانچ سالوں میں عوام کو بے دخل کیا ہے، اس کی آواز کو کچلا ہے، اس کو دیکھ‌کر کوئی بھی سمجھ جائے‌گا کہ 2019 کا انتخاب میڈیا سے عوام کی بے دخلی کا آخری دھکا ہوگا۔

فوٹو : اویناش چنچل

میں نے ایمرجنسی تو نہیں دیکھی ،لیکن …

ایک بات جو موجودہ حالات کو ایمرجنسی سے بھی زیادہ سنگین بناتی ہے وہ یہ کہ آج ملک کو تانا شاہی کے ساتھ ساتھ فسطائیت کا بھی سامنا ہے۔ فرقہ پرستی اپنے عروج پر ہے۔ مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف تشدد عام ہو گیا ہے۔ اس کے خلاف کوئی شنوائی نہیں ہے۔ مظلوم کو انصاف کی جگہ ذلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا اقتدار کے سامنے ہندوستانی میڈیا رینگنے لگا ہے؟

مدیران کا کام اقتدار کے لحاظ سےمواد کو بنائے رکھنے کا ہے اور حالات ایسے ہیں کہ اقتدار کے موافق تشہیر کی ایک ہوڑ مچی ہوئی ہے۔ آہستہ آہستہ حالات یہ بھی ہو چلے ہیں کہ اشتہار سے زیادہ تعریف نیوز رپورٹ میں دکھائی دے جاتی ہے۔

Narendra-Modi-Amit-Shah-Media1-1200x600

نریندر مودی اور امت شاہ کیسے اور کیوں کر رہے ہیں میڈیا کی نگرانی

مانیٹرنگ کےطریقوں پر غور کرنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ مانیٹرنگ کا چہرہ مودی حکومت کی ہی دین ہے ایسا نہیں ہے،لیکن مودی حکومت کے دور میں مانیٹرنگ کے معنی اور مانیٹرنگ کے ذریعہ میڈیا پر نکیل کسنے کا انداز ہی سب سے اہم ہو گیا ہے۔

shujaat-bukhari-facebook

ہم نے کئی بار ساتھ میں موت کو دھوکہ دیا ، مگر آخر میں وہ اکیلا چلا گیا…

شجاعت کے ساتھ میری دوستی کا سفر غالباً 1988 میں گورنمنٹ کالج سوپور سے شروع ہوا۔ جرنلزم اور سماجی سرگرمیاں تو انکی روح میں تھیں۔کالج میں ہی اسنے ایک’پیرراڈایز رائٹرز فورم ‘تشکیل دی تھی جس کی نشستیں کالج کے سبزہ زار میں چنار کے پیڑوں کے تلے ہوتی تھیں۔

نریندر مودی/ (فوٹو بشکریہ : پی آئی بی)

کیا ایمرجنسی کو دوہرانے کا خطرہ اب بھی بنا ہوا ہے؟

ایمرجنسی کوئی ناگہانی واقعہ نہیں بلکہ اقتدار کی بےانتہا مرکزیت، جابرانہ رویہ ، شخصیت پرستی اور چاپلوسی کے بڑھتے رجحان کا ہی نتیجہ تھا۔ آج پھر ویسا ہی نظارہ دکھ رہا ہے۔ سارے اہم فیصلے پارلیامانی کمیٹی تو کیا، مرکزی کابینہ کاؤنسل کی بھی عام رائے سے نہیں کئے جاتے، صرف اور صرف پی ایم او اور وزیر اعظم کی چلتی ہے۔

Don`t copy text!