خبریں

پولیس نے کشمیر میں پریس کی آزادی کے حوالے سے رپورٹنگ کے لیے بی بی سی کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی

کشمیر میں صحافیوں اور رپورٹنگ کی صورتحال پر بی بی سی  نے اپنی ایک رپورٹ میں وادی کےبعض صحافیوں اور مدیران سے بات چیت کی ہے، جنہوں  نے بتایا ہے کہ وہ واقعات کی رپورٹنگ کے حوالے سےحکام کی طرف سے پیدا کیے گئے ‘خوف  اور دھمکی’ کے ماحول کی وجہ سے ‘گھٹن’محسوس کر تے رہے ہیں۔

علامتی تصویر، وکی میڈیا کامنس

علامتی تصویر، وکی میڈیا کامنس

سری نگر: کشمیر میں صحافت کی صورتحال پر بی بی سی کی  جانب سےکی گئی ایک سال کی تحقیقاتی رپورٹ نے تنازعہ کو جنم دے دیا ہے۔ جموں و کشمیر پولیس نے لندن واقع اس بین الاقوامی میڈیا گروپ کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی  دی  ہے۔

Any story could be your last’ – India’s crackdown on Kashmir press

اینی اسٹوری کڈ بی یور لاسٹ – انڈیا ز کریک ڈاؤں آن کشمیر پریس کے عنوان سے سامنے آئی بی بی سی کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ یہ رپورٹ ‘صحافیوں کے خلاف متعصب’ اور ‘امن و امان کی کوششوں کی غلط طریقےسے تنقید’ کا نشانہ بناتی ہے۔

اس رپورٹ میں وادی میں’پریس کو ڈرانے اور خاموش کرنے کے لیے ایک خوفناک اور منظم مہم’ کو لسٹ کیا گیا ہے۔

جموں و کشمیر پولیس کے ایک سرکاری ترجمان نے سوشل سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ہے کہ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) اور جموں و کشمیر کی خصوصی انسداد دہشت گردی ایجنسی نے ‘ایک ایسےکیس، جو عدالت میں زیر سماعت ہے، میں حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنے’ کے لیے   بی بی سی کے خلاف ‘آئندہ  قانونی کارروائی شروع کرنے کا حق محفوظ رکھا ہے۔’

اس حوالے سے بی بی سی کے ترجمان نے دی وائر کو بتایا کہ،’ہم بس یہی کہیں گے کہ بی بی سی اپنی صحافت پر قائم ہے۔’

یہ معاملہ سری نگرکے صحافی فہد شاہ کو ان کےآن لائن میڈیا آؤٹ لیٹ ‘دی کشمیر والا‘ میں کشمیر یونیورسٹی کے ایک ریسرچ اسکالر کی طرف سے  2011 میں لکھے گئے ایک مبینہ ‘ملک مخالف’مضمون کو شائع کرنے کے لیے جیل میں ڈالنے سےمتعلق ہے۔

ہندوستانی حکومت کی وزارت انفارمیشن ٹکنالوجی کے ایک قانون کےتحت اس کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر روک لگانے کے بعدسری نگر واقع یہ  ڈیجیٹل میڈیا ہاؤس گزشتہ ماہ بند ہو گیا،  جس کی شہری حقوق کے کارکنوں اور میڈیا تنظیموں کی جانب سے تنقیدکی گئی ہے۔

بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے فہد شاہ، جنہوں نے ایک ‘ڈیجیٹل میگزین کو ایڈٹ کیا تھا،  کو فروری 2022 میں انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، ان پر ‘دہشت گردی پھیلانے’ کا الزام لگایا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 2165 الفاظ پر مشتمل رپورٹ میں یہ فہد شاہ کا واحد حوالہ تھا۔

جموں و کشمیر پولیس نے یہ واضح نہیں کیا کہ بی بی سی کی جانب سے ‘حقائق کی غلط رپورٹنگ’ کا کیا مطلب ہے، جس نے رپورٹ میں صرف جموں و کشمیر پولیس کی جانب سےفہد شاہ  کے خلاف  لگائے گئے الزامات کو دہرایا۔

فہد کے خلاف انسداد دہشت گردی کے چار مقدمات اور پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہیں کم از کم تین معاملوں میں ضمانت مل چکی ہے، حالانکہ ایس آئی اے نے 4  اپریل 2022 کو (ایف آئی آر نمبر 01/2022) ان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا تھا۔

یہ مقدمہ تقریباً 11 سال قبل ان کے ڈیجیٹل میگزین ‘دی کشمیر والا’ کے ذریعے ‘غلامی کی بیڑیاں  ٹوٹیں گی’ کے عنوان سے شائع مبینہ ‘ملک مخالف’ مضمون سے متعلق تھا۔ یہ مضمون کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ فارماسیوٹیکل کے ریسرچ اسکالر علاء فاضلی نے لکھا تھا، جنہیں اس معاملے میں گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

ایس آئی اے نے اس سال مارچ میں فہد اور فاضلی کے خلاف معاملےمیں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ فہد کے خلاف فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ 2010 کی دفعہ 35 (ایف سی آر اے کی دفعات کی خلاف ورزی میں غیر ملکی فنڈ قبول کرنا) اور 39 (ایف سی آر اے کی خلاف ورزی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے الزام لگایا کہ ان کے ڈیجیٹل میگزین کے سبسکرپشن ماڈل کا استعمال  ‘پریشانی پیدا’ کرنےکے لیے کیا جا سکتا ہے۔

اگر ان چار مقدمات میں فہد کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے، جن پر ‘حکومتی پالیسیوں کے خلاف خبریں شائع کرنے’ اور ‘بچپن سے  ہی شدت پسند نظریہ رکھنے’ کا الزام  لگایا گیاہے، تو انہیں مختلف سزاکا سامنا کرنا پڑے گا، جس کو عمر قید کی سزا  تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی بی بی سی کی رپورٹ میں سری نگر میں واقع  ایک مقامی انگریزی میگزین (اب بند) کے صحافی آصف سلطان، شمالی کشمیرکے دی کشمیر والا کے ٹرینی رپورٹر سجاد گل اور عرفان مہراج کی گرفتاریوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔  عرفان سری نگر کے ایک صحافی ہیں، جن پر جموں و کشمیر پولیس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ میں گمنام طور پر سات صحافیوں اور ایک مدیر کے بیان کو شامل  کیا گیا ہے، جنہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعات کی رپورٹنگ کے حوالے سے کشمیر میں حکام کی جانب  سے پیدا کیے گئے ‘خوف اور دھمکی’  کے ماحول سے وہ ‘گھٹن’ محسوس کر تے رہے ہیں۔

صحافیوں نے مبینہ طور پر حکام کی جانب سے ان کے خلاف استعمال کیے گئے ‘ملک دشمن’، ‘دہشت گردی کے حامی’ اور ‘پاکستان نواز صحافیوں’کے لیبل پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے جیل میں بند چار کشمیری صحافیوں کے خلاف کارروائی کو اپنے لیے’انتباہ’ بھی قرار دیا۔

بی بی سی کی رپورٹ میں کشمیر میں پریس  کی آزادی صحافت میں مبینہ گراوٹ  کی نشاندہی کے لیے  حکام کی جانب سے 2022 میں کشمیر کے واحد پریس کلب کو بند کرنے اورسینئر صحافی شجاعت بخاری کے سنسنی خیز قتل کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے، جن کو 2018 میں ان کے دفتر کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرنے والے کچھ صحافیوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں دہشت گردوں سے خطرہ ہے۔

پولیس ترجمان نے بی بی سی پر جموں و کشمیر کو ‘ہندوستانی مقبوضہ کشمیر’ قرار دینے کا جھوٹاالزام لگاتے ہوئے کہا،’ صحافیوں کے خلاف ‘اس کی کارروائی’نے قانون اور عدلیہ کی کسوٹی پر کھری اتری  ہے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سیکورٹی کے ماحول کو کافی حدتک بدل دیاہے۔’

بتادیں کہ گزشتہ جمعہ (1 ستمبر) کو شائع ہونے والی بی بی سی کی اس رپورٹ میں جموں و کشمیر کو ‘ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر’ کے طور پر درج کیا ہے۔

بی بی سی نے کہا کہ اس نے دو درجن سے زیادہ صحافیوں سے بات کی ہے۔ ان میں سے ’90 فیصد سے زیادہ’نے دعویٰ کیا کہ  انہیں جموں و کشمیر پولیس نے طلب کیا ہے، ان میں سے بعض صحافیوں کو متعدد بار بلایا گیا، خاص طور پر مرکزی حکومت کے ذریعے دفعہ 370 کو ہٹائے جانے کے بعد۔

حکومت نے2019 میں آرٹیکل 370 کی بیشتر دفعات کو ہٹاتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی ریاست کا درجہ ختم کر کے اسے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔

رپورٹ کی تردیدکرتے ہوئے جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ وہ ‘پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھتی ہے اور مکمل طور پر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرتی ہے۔’

پولیس نے کہا کہ بی بی سی کی رپورٹ میں’تاریخ اور جگہ کی تفصیلات کے بغیر’ ‘نامعلوم صحافیوں کے بیان’کا استعمال’صحافیوں کے خلاف ریاستی زیادتیوں کے غیر موجود دعووں کو مضبوط کرنے ‘ کے لیے کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق، ‘جموں و کشمیر پولیس بی بی سی جیسے میڈیا ہاؤس کی طرف سے جموں و کشمیر کے حالات کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی مذمت کرتی ہے، جہاں پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر مضبوطی سے کھڑی رہی  ہے اور یہاں کےلوگوں کی حفاظت کی کوشش میں اپنے ہزاروں بہادر لوگوں کو کھو چکی ہے۔’

معلوم ہو کہ پیرس واقع پریس فریڈم واچ ڈاگ’ رپورٹرز سانز فرنٹیئرز (آر ایس ایف) اور نیویارک کی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس سمیت کئی قومی اور بین الاقوامی میڈیا تنظیموں نے جموں و کشمیر میں پریس کی آزادی میں گراوٹ کو نشان زد کیا ہے۔ ان تنظیموں نے حکام سے جیل میں بند چار صحافیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی  کیا ہے۔

آر ایس ایف کے پریس فریڈم انڈیکس-2023 کے مطابق، پر یس کی آزادی کے معاملے میں ہندوستان  180 ممالک میں سے 11 درجے نیچے گر کر161 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ ملک میں صحافیوں کی حالت ‘انتہائی سنگین’ ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔