Protest in Uttar Pradesh

1902 TWBR.00_40_21_00.Still008

سی اے اے تحریک کے دوران جیل جانے والی کانگریس امیدوار صدف جعفر نے یوگی آدتیہ ناتھ کو دیا چیلنج

ویڈیو: اتر پردیش کی لکھنؤ سینٹرل سیٹ سے کانگریس نےسی اے اے تحریک کے دوران جیل جانے والی سماجی کارکن صدف جعفر کواپنا امیدوار بنایا ہے۔ جعفر کو سی اے اے مخالف مظاہروں کا فیس بک لائیو کرنے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ اسکول ٹیچر اور سماجی کارکن سے لیڈر بنیں صدف سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں سی اے اےمخالف مظاہرہ کے ملزمین کے پوسٹر گزشتہ مارچ  میں جگہ جگہ لگائے گئے تھے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سی اے اے مخالف مظاہرہ: ہائی کورٹ کی ہدایت  کے باوجود لکھنؤ انتظامیہ نے پھر لگوائے ملزمین کے پوسٹر

اس سال مارچ میں الہ آباد ہائی کورٹ نے لکھنؤ انتظامیہ کے اس قدم پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے پوسٹر ہٹانے کےحکم دیے تھے۔ عدالت نے کہا تھا کہ عوامی مقامات پر پوسٹر لگانا غیر مناسب ہے اور یہ متعلقہ لوگوں کی پرائیویسی اورآزادی میں پوری طرح سے دخل اندازی ہے۔

سابق آئی پی ایس ایس آر داراپوری اور سماجی کارکن صدف جعفر(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

سی اے اے: سماجی کارکنوں کے گھر والوں  نے انتظامیہ پر پراپرٹی ضبط کر نے کی دھمکی کا الزام لگایا

سابق آئی پی ایس افسرایس آر داراپوری اور سماجی کارکن صدف جعفر ان 57 لوگوں میں شامل ہیں، جو 19 دسمبر، 2019 کے سی اے اے مخالف مظاہرہ کے دوران لکھنؤ میں1.55 کروڑ روپے کی پبلک پراپرٹی کے نقصان کے ملزم ہیں۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

سی اے اے مخالف مظاہرہ: لکھنؤ ضلع  انتظامیہ نے قرقی کی کارروائی شروع کی

صدر تحصیلدار نے بتایا کہ سی اے اے مخالف مظاہروں کو لے کر لکھنؤ کے چار تھانوں میں درج معاملوں کے سلسلے میں 54 لوگوں کے خلاف وصولی کا نوٹس جاری کیا گیاتھا۔ ان میں سے حسن گنج علاقے میں دو املاک کو منگل کو قرق کر لیا گیا۔

سابق آئی پی ایس ایس آر داراپوری اور سماجی کارکن صدف جعفر(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

سی اے اے مظاہرہ: صدف جعفر اور دارا پوری سمیت 28 لوگوں کو 63 لاکھ روپے کے ہرجانے کا نوٹس

اتر پردیش انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ 19 دسمبر 2019 کو لکھنؤ کے حضرت گنج میں شہریت قانون کے خلاف ہوئے احتجاج اور مظاہرے کے دوران پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ حالانکہ اس دن کئی کارکن نظربند تھے۔

2201 Vishal Interview Master.00_26_03_13.Still002

شہریت قانون: ’مودی حکومت کو عوام کے سامنے جھکنا ہی پڑے گا‘

ویڈیو: گزشتہ 19 دسمبرکو شہریت ترمیم قانون کے خلاف اترپردیش میں بڑے پیمانے پر مظاہرے سے پہلے لکھنؤ میں حراست میں لیے گئے ہیومن رائٹس تنظیم رہائی منچ کے صدر اور سینئر وکیل محمد شعیب ایک مہینے جیل میں رہنے کے بعد حال ہی میں رہا ہوئے ہیں۔ محمد شعیب سے وشال جیسوال کی بات چیت۔

HBB 16 Jan 2020.00_20_57_02.Still001 (1)

امت شاہ کے ہندوستان میں مسلمان ہونا کیا ہوتا ہے سمجھ میں آنے لگا ہے: صدف جعفر

ویڈیو: شہریت قانون کے خلاف لکھنؤ میں 19 دسمبر کو ہوئے تشدد کے معاملے میں درج ایف آئی آر میں صدف جعفر کا نام بھی ہے۔ صدف کے اہل خانہ کاالزام ہے کہ پولیس نے ان کی لاٹھیوں سے پٹائی کی۔ ان کے ہاتھوں اور پیروں پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور پیٹ پر لات بھی ماری گئی جس سے انہیں انٹرنل بلیڈنگ ہونے لگی۔ صدف نے د ی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کے ساتھ آپ بیتی شیئر کی۔

سابق آئی پی ایس ایس آر داراپوری اور سماجی کارکن صدف جعفر(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

شہریت قانون: رہائی کے بعد بو لے ایس آر داراپوری-پولیس نے حراست میں نہیں دیا کھانا اور کمبل

لکھنؤ میں شہریت قانون کی مخالفت کو لےکر گرفتار سماجی کارکن صدف جعفر اور سابق آئی پی ایس افسر ایس آر داراپوری کو منگل کو جیل سے رہا کردیا گیا۔صدف کا الزام ہے کہ ان کو بنا کسی خاتون کانسٹبل کےحراست میں لیا گیااور بے رحمی سے پیٹا گیا۔

3112 AKMC.00_16_51_08.Still005

مسلمان کا سوال کیا صرف ان کا سوال ہے؟

ویڈیو: شہریت ترمیم قانون کی مخالفت میں پورے ملک میں مظاہرے ہو رہے ہیں، جس میں سبھی مذاہب کے لوگوں کا غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ خاص طور پر مسلم کمیونٹی پورے ملک میں اس قانون کی مخالفت کر رہی ہے ،وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔اس بارے میں اپوروانند کا نظریہ۔

فوٹو: پی ٹی آئی

پولیس کی نفرت: ’مسلمانوں کے لیے پاکستان یا قبرستان‘

سال 2015 میں سمستی پور میں ایک بند کمرے کی میٹنگ میں نمبرداروں کو بتایا گیا تھاکہ انتخابات کے بعد جب بھارتیہ جنتا پارٹی صوبے میں اقتدار میں آئے گی تو مسلمان پاکستان جائیں گے اور ان کی جائیدادیں گاؤں والوں میں بانٹی جائیں گی۔مجھے یہ سنتے ہوئے اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ محض چار سال بعد اتر پردیش کے مظفر نگر قصبہ میں 72سالہ حاجی حامد حسین کو پولیس کی لاٹھیوں اور بندوقوں کے بٹ کے وار سہتے ہوئے یہ سنناپڑے کہ پاکستان ورنہ قبرستان…

سماجی کارکن صدف ظفر، فوٹو بہ شکریہ : فیس بک

شہریت قانون: لکھنؤ میں احتجاج کے دوران گرفتار خاتون سماجی کارکن صدف جعفر کی بے رحمی سے پٹائی کا الزام

شہریت قانون کے خلاف لکھنؤ میں 19دسمبرکو ہوئے تشدد کے معاملے میں درج ایف آئی آر میں صدف جعفر کا نام بھی ہے۔ صدف کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس نے ان کی لاٹھیوں سے پٹائی کی۔ ان کے ہاتھوں اور پیروں پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور پیٹ پر لات بھی ماری گئی جس سے انہیں انٹرنل بلیڈنگ ہونے لگی۔

Don`t copy text!