خبریں

ہندوستان اور کینیڈا کی کشیدگی کے درمیان مرکزی حکومت نے ٹی وی چینلوں سے کہا — دہشت گردوں کو پلیٹ فارم نہ دیں

اطلاعات و نشریات کی مرکزی وزارت نے نجی ٹیلی ویژن چینلوں کو ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے افراد کا انٹرویو کرنے سے گریز کریں، جن کے خلاف سنگین جرم یا دہشت گردی کے الزامات ہیں۔ وزارت نے ایڈوائزری میں کسی شخص یا تنظیم کا ذکر نہیں کیا ہے۔

(السٹریشن بہ شکریہ: pixabay)

(السٹریشن بہ شکریہ: pixabay)

نئی دہلی: کینیڈا اور ہندوستان کے درمیان جاری سفارتی بحران کے درمیان مرکزی حکومت نے جمعرات (21 ستمبر) کو نجی ٹیلی ویژن چینلوں کو ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے افراد کے انٹرویو کرنے سے گریز کریں جن کے خلاف سنگین جرم یا دہشت گردی کے الزامات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اطلاعات و نشریات کی مرکزی وزارت کی طرف سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ‘ وزارت کے نوٹس میں آیا ہے کہ بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص، جس کے خلاف دہشت گردی سمیت جرائم کے سنگین معاملے ہیں، اور  جن کا تعلق ایک ایسی تنظیم ہے جس  پر ہندوستان  میں پابندی عائد ہے ،کو ایک ٹی وی چینل پر بلایا گیا تھا۔ مذکورہ شخص نے کئی ایسے تبصرے کیے جو ملک کی خودمختاری/سالمیت، ہندوستان کی سلامتی، ایک غیر ملکی حکومت  کے ساتھ ہندوستان کےدوستانہ تعلقات کے لیے نقصاندہ تھے اور ملک میں امن عامہ کو بگاڑنے کا بھی خدشہ تھا۔ حکومت میڈیا کی آزادی کو برقرار رکھتی ہے اور آئین کے تحت اس کے حقوق کا احترام کرتی ہے، لیکن ٹی وی چینلوں کے ذریعے نشر ہونے والا مواددفعہ 20 کی ذیلی دفعہ (2) سمیت سی ٹی این ایکٹ 1995 کے اہتماموں کی تعمیل میں ہونا چاہیے۔’

اس میں مزید کہا گیا ہے، ‘اس کے پیش نظر ٹیلی ویژن چینلوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 19(2) کے تحت مقرر کردہ اور سی ٹی این ایکٹ کی دفعہ 20 کی ذیلی دفعہ (2) کے تحت مذکور مناسب پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئےاس طرح کے پس منظر کے افراد،جن میں  وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے خلاف سنگین جرم/دہشت گردی کے الزامات ہیں اور جن کا تعلق ان تنظیموں سے ہے جن پر قانون کی پابندی ہے، کے بارے میں رپورٹ/حوالہ جات اور آراء/ایجنڈا کے لیے کوئی بھی پلیٹ فارم دینے سے گریز کریں۔’

Centre’s advisory to pr… by Taniya Roy

تاہم، ایڈوائزری میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کس چینل یا شخص کے بارے میں ہے۔

دی ہندو نے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ ایک نیوز چینل نے ایک مطلوب دہشت گرد (امریکہ میں رہنے والے گرپتونت سنگھ پنو) کو پلیٹ فارم دیا تھا، جس کے بعد وزارت اطلاعات و نشریات نے ایسے پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کے حوالے سے ٹی وی چینلوں کو ایڈوائزری جاری کی ہے۔

گروپتونت سنگھ پنو امریکہ میں رہنے والے ایک سکھ انتہا پسند ہیں جو سکھ فار جسٹس گروپ کے سربراہ ہیں۔ خالصتان حامی اس  گروپ پر سال 2019 میں ہندوستان میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ پنو کو ہندوستان میں دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق، کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے خالصتان حامی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں ہندوستان کا ہاتھ ہونے کے الزام کے بعد سکھ فار جسٹس نے ہندوستانی نژاد ہندوؤں کو دھمکی دی تھی۔

تنظیم نے ایک ویڈیو جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی نژاد ہندو کینیڈا چھوڑ دیں۔ وہ اپنے ہندوستانی ہونے کا جشن مناتے ہیں اور خالصتانی لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا جشن منا کر تشدد کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یوٹیوب نے جمعرات کو اس ویڈیو کو ہٹا دیا۔

واضح ہو کہ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے سوموار (18 ستمبر) کو کینیڈا کی پارلیامنٹ میں سنسنی خیز بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ملک کی سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس ‘قابل اعتماد’ خفیہ جانکاری ہے کہ جون 2023 میں برٹش کولمبیا میں خالصتان کے حامی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے پیچھےہندوستانی حکومت کا ہاتھ تھا۔ کینیڈا نے ایک سینئر ہندوستانی سفارت کار کو بھی ملک بدر کر دیا، جن کی پہچان ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) کے کینیڈین چیف کے طور پر کی گئی ہے۔ ہندوستان نے ان الزامات کو ’مضحکہ خیز اور اسپانسرڈ‘ قرار دیا ہے۔

 جمعرات کو سیکورٹی خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان نے کینیڈا میں ویزا خدمات معطل کر دیں۔ کینیڈا کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیتے ہوئے وزارت خارجہ نے کہا کہ ہندوستان نے کینیڈا سے کہا ہے کہ وہ ہندوستان میں اپنی سفارتی موجودگی کو کم کرے۔