خبریں

لوک سبھا میں بی جے پی ایم پی بدھوڑی نے بی ایس پی ایم پی کو ’ملا دہشت گرد‘ بتایا، نا زیبا کلمات بھی کہے

بی ایس پی ایم پی دانش علی کے خلاف جنوبی دہلی کے لوک سبھا ایم پی  رمیش بدھوڑی کی جانب سے ہیٹ اسپیچ  کے باوجود ان پرکوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بدھوڑی کو خبردار کیا ہےکہ اگر ایسا دوبارہ ہوا تو ‘سخت کارروائی’ کی جائے گی، لیکن اس معاملے پر کی گئی کارروائی کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔

بی جے پی ایم پی رمیش بدھوڑی۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

بی جے پی ایم پی رمیش بدھوڑی۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوک سبھا ایم پی  رمیش بدھوڑی نے گزشتہ جمعرات (21 ستمبر) کی رات بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ایم پی دانش علی کے خلاف پرتشدد اورمسلم مخالف نازیبا کلمات کا استعمال کیا۔ بدھوڑی کے لفظوں  کو لوک سبھا کی کارروائی کے ایک حصے کے طور پر نشر کیا گیا تھا۔

کارروائی کے دوران بدھوڑی کو چیختے ہوئے سنا جا سکتا ہے، ‘یہ اُگروادی (انتہا پسند)، آتنک وادی (دہشت گرد) ہے، اُگروادی  ہے، یہ آتنک وادی  ہے۔’انہوں نےمبینہ طور پر علی کو ‘ملاآتنک وادی’، بھ٭وا (دلال) اور کٹوا’ بھی کہا۔

جنوبی دہلی کے ایم پی بدھوڑی نے یہ بھی کہا، ‘ باہر پھینکو اس ملے کو۔’

ویڈیو میں کانگریس لیڈر کوڈی کنل سریش جو اسپیکر کی کرسی پر تھے، کو ایم پی دانش علی اور دیگر ممبران پارلیمنٹ کو بیٹھنے کے لیے کہتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کو کہا ہےکہ بدھوڑی کے تبصروں کو ریکارڈ سے ہٹا دیا جائے۔

پارلیامنٹ میں ہیٹ اسپیچ کے باوجود بی جے پی نے بدھوڑی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے، حالانکہ مرکزی وزیر دفاع اور لوک سبھا کے ڈپٹی لیڈر راج ناتھ سنگھ نے ان کے ریمارکس پر ‘افسوس’ کا اظہار کیا ہے۔

سنگھ نے کہا، ‘اگر ممبر (بدھوڑی) کے تبصرے سے اپوزیشن کو تکلیف پہنچی ہے تو میں افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔’ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے خود یہ تبصرہ نہیں سنا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے بتایا کہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بدھوڑی کو خبردار کیا کہ اگر ایسا دوبارہ ہوا تو ‘سخت کارروائی’ کی جائے گی، لیکن اس معاملے پر  کی گئی کارروائی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

اپنے خلاف بدسلوکی اور نازیبا کلمات کے بارے میں بی ایس پی ایم پی  دانش علی نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ایک خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ بدھوڑی کے تبصرے لوک سبھا کی استحقاق کمیٹی کو بھیجے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور یہ حقیقت ہے کہ یہ سب اسپیکر کے طور پرآپ کی قیادت میں پارلیامنٹ کی نئی عمارت میں پیش آیا ہے، اس عظیم ملک کے ایک اقلیتی رکن اور ایک منتخب ایم پی  ہونے کے ناطے یہ میرے لیے بھی واقعی دل دہلا دینے والا ہے۔

انہوں نے خط میں لکھا، ‘چونکہ ایک تجربہ کار ممبر کو ڈسپلن  کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے، تاکہ ہمارے ملک کا ماحول مزید خراب نہ ہو۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کا حکم  دینے کی مہربانی کریں۔’

بی ایس پی رکن پارلیامنٹ دانش علی کا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو لکھا خط۔

بی ایس پی رکن پارلیامنٹ دانش علی کا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو لکھا خط۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے راج ناتھ سنگھ کی معافی کو ‘فریب’ قرار دیا۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا، ‘بدھوڑی نے جو کہا وہ پوری طرح  سےشرمناک ہے۔ راجناتھ سنگھ کی معافی قابل قبول نہیں ہے، یہ معافی بادل نخواستہ  ہے۔ یہ دکھاواہے۔

جے رام رمیش نے مزید کہا، ‘رمیش بدھوڑی نے ایسی زبان کا استعمال کیاہے، جو نہ صرف پارلیامنٹ کی بلکہ ہر ہندوستانی کی توہین ہے۔’ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایم پی کو ابھی تک سسپنڈ کیوں نہیں کیا گیا۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے کہا کہ بدھوڑی کو گرفتار کیا جانا چاہیے، کیونکہ پارلیامانی استحقاق نفرت پھیلانے والی تقریر تک نہیں بڑھ سکتا۔

ویڈیو میں بدھوڑی کی جانب سے دانش علی کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے دوران بی جے پی ایم پی ہرش وردھن کو ہنستے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اس کی وجہ سے ان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بدھوڑی کی جانب استعمال کی گئی فرقہ وارانہ زبان کے بارے میں کچھ کہے بغیر ہرش وردھن نے دعویٰ کیا کہ دونوں ارکان پارلیامنٹ نے ایک دوسرے کے خلاف غیر پارلیامانی زبان کا استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ کیسے ان کے کئی  مسلمان دوست ہیں۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔