خبریں

نئی پالیسی: دہلی میں مذہبی مقامات کے 150 میٹر کے دائرے میں گوشت کی دکانوں کی اجازت نہیں

دہلی میونسپل کارپوریشن کی نئی میٹ شاپ لائسنس پالیسی کے مطابق، کسی مذہبی مقام یا شمشان گھاٹ سے گوشت کی دکان کا فاصلہ 150 میٹر سے کم نہیں ہونا چاہیے۔ گوشت کے تاجروں کی تنظیم نے اس پالیسی کی شدید مخالفت کی ہے۔ واپس نہ لینے پر عدالت جانے کی دھمکی دی ہے۔

(علامتی تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

(علامتی تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

نئی دہلی: دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے منگل (31 اکتوبر) کو ایوان کے ذریعے 54 قراردادوں میں سے ایک نئی گوشت کی دکان کی پالیسی کو منظور کیا۔ گوشت کے تاجروں کی تنظیم نے اس پالیسی کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے واپس نہ لینے کی صورت میں عدالت جانے کی دھمکی دی ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، گوشت کی دکان کے لائسنس کی نئی پالیسی کے مطابق کسی مذہبی مقام (مندر، مسجد، گرودوارہ) یا شمشان گھاٹ سے گوشت کی دکان کے درمیان فاصلہ 150 میٹر سے کم نہیں ہونا چاہیے۔ ایم سی ڈی  نے کہا کہ لائسنس ملنے کے بعد اگر کوئی مذہبی مقام وجود میں آتا ہے تو وہ مذہبی مقام اور دکان کے درمیان فاصلے پر توجہ نہیں دے گا۔

اگر درخواست گزار مسجد کمیٹی یا امام سے این او سء  حاصل کرتا ہے، تو پالیسی سور کے گوشت کے علاوہ مسجد کے قرب و جوار میں منظور شدہ گوشت کی دکانیں کھولنے کی اجازت دیتی ہے۔

فی الحال عام آدمی پارٹی مقتدرہ ایم سی ڈی کے دائرہ اختیار میں گوشت کی دکان کی لائسنسنگ پالیسی ویٹرنری سروسز ڈپارٹمنٹ کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد عمل میں آئے گی۔

پالیسی کے مطابق، شہری ادارے کے سابقہ شمالی، جنوبی اور مشرقی کارپوریشنوں میں گوشت کی دکانوں کے لیے لائسنس جاری کرنے اور تجدید کرنے کی فیس- دکانوں کے لیے 18000 روپے اور پروسیسنگ یونٹس کے لیے 1.5 لاکھ روپے – طے کی گئی ہے۔

پالیسی میں کہا گیا ہے کہ لائسنس کے اجراء کی تاریخ سے ہر تین مالی سال کے بعد فیس اور جرمانے میں 15 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ دہلی ماسٹر پلان 2021 کے مطابق، رہائشی علاقے میں گوشت کی دکان کا کم از کم سائز 20 مربع میٹر ہے۔ تجارتی علاقوں میں دکانوں کے سائز پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

میٹ پروسیسنگ پلانٹس کے لیے لازمی کم از کم سائز 150 مربع میٹر ہے۔

گوشت کے تاجر پالیسی کے خلاف احتجاج کیوں کر رہے ہیں

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، دہلی میٹ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے اس پالیسی کی مخالفت کی ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے بدعنوانی کو بڑھاوا ملے گا۔

ایسوسی ایشن کے ایک اہلکار نے کہا، ‘ایک غیر قانونی دکان کا مالک، جسے 2700 روپے بھی ادا کرنا مشکل ہو، وہ اب 7000 روپے تجدید فیس کے طور پر کیوں ادا کرے گا، اگر وہ مقامی پولیس کو تھوڑی سی رقم دے کر اسے حل کر سکتا ہے؟ اس سے ایم سی ڈی کو درحقیقت ریونیو میں بہت زیادہ نقصان ہوگا اور بدعنوانی کو بھی فروغ ملے گا۔’

ایسوسی ایشن نے کہا کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائے گی اگر پالیسی واپس نہیں لی گئی اور ایم سی ڈی میں احتجاج  کی دھمکی دی۔